پاکستان کے نگران وزیراعظم کا وہ بیان، جس کی وجہ سے افغان طالبان نے پاکستانی امداد لینے سے انکار کیا۔۔
پاکستان اور افغانستان کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ افغانستان میں گذشتہ ہفتے کے روز آنے والے زلزلے میں کم از کم دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے اور متعدد گاؤں متاثر ہوئے تھے۔ اس کے بعد بدھ کے روز ایک اور زلزلہ آیا، جس سے مزید نقصانات…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط57)
میں اپنے دوست ستاروں کو چاندا ماموں کے گرد جھرمٹ میں چمکتے دیکھ رہاہوں۔یہ دلفریب نظارہ ہے۔ بچپن سے ہی مجھے ان ستاروں اور چندا ماموں سے خاص نسبت ہے۔ اس زمانے میں آسمان صاف اور ستاروں سے چمکتا دمکتا ہوتا تھا۔ کئی بار لگتا یہ ستارے مجھ سے زیادہ دور نہیں ہیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط56)
”تم جانتے ہو؟“ سندھو نے مجھ سے پوچھا اور حسب عادت میرا جواب سنے بغیر ہی وہ بتانے لگا؛ ”نواب صاحب نے اس جہاز کو حکومت کے حوالے کیا تو اس کا کنٹرول محکمہ شاہرات حکومت پنجاب کو ملا۔ یہ خراب ہوا تو اس کے پرزے بھی لوگ چوری کرنے لگے۔ ہمیں تو بس موقع…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط54)
اگلے دن کی نئی صبح، نئی ہوا۔۔ جبکہ پرانا سورج نئی دھوپ لئے ہے۔ نہائے دو دن ہو چکے ہیں۔ میں نے حضور بخش سے کہا، ”سائیں! کچھ نہانے کا بندوبست ہو سکتا ہے۔“ وہ بولا ”میڈا سائیں! ابھی چادر تان کر نہانے کی جگہ بنا دیتا ہوں۔“ چادر کے بنے اس غسل خانے میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط52)
اس سے پہلے کہ کوئی اور بولتا میرا دوست سندھو بول پڑا، ”بلائنڈ ڈولفن جسے سندھی ’بِلھن‘ کہتے ہیں، میرا اور اُس کا ساتھ ازل سے ہے۔ کہتے ہیں یہ مچھلی تبت سے نکلے کچھ اور دریاؤں میں بھی پائی جاتی تھی لیکن اب صرف مجھ میں اور دریائے گنگا میں ہی باقی بچی ہے۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط49)
سندھو سرگوشی میں بتا رہا ہے؛ ”بھنگی خیل کے ’بنی افغاناں‘ رقبے جو پہاڑی نالوں کی وجہ سے اکثر ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتے ہیں، بہت زیادہ محنت اور محافظت چاہتے ہیں لیکن جہاں ان نالوں اور میرا پانی مضبوط پشتے باندھ کر ہموار زمینوں پر پھیلا دیا جاتا ہے، وہاں کی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط47)
”لو میں کوہ سلیمان کے سلسلے میں پہنچ گیا ہوں۔ بارش برس جائے تو اس پہاڑی سلسلے کے ندی نالوں اور رودکوہیوں میں طغیانی آجاتی ہے، بعض تو ایسے بپھرتے ہیں کہ سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ جب یہ طغیانی سے لدے مجھ میں اترتے ہیں تو میں بھی پرجوش ہو جاتا ہوں۔ خوب…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط45)
ہم پیدل ہی اس پل سے گزر کر اٹک خورد ریلوے اسٹیشن پہنچے ہیں۔ سر سبز پہاڑوں میں گھرا یہ ریلوے اسٹیشن انیسویں صدی کے ولایت کا کوئی اسٹیشن معلوم ہوتا ہے۔ مجھے لمحہ بھر کے لئے محسوس ہوا میں اٹھارویں صدی کے ’ولیم وڈزورتھ‘ کے ولایت میں ہوں۔ پرسکون ماحول، پلیٹ…