پرانا ملیر: خان بہادر اللہ بخش گبول اور سیاست (حصہ دوم)
خانبہادر اللہ بخش خان گبول ۱۸۹۶ میں اللہ بخش خان گبول گوٹھ، دیھ فہائی، ضلع ملیر میں خداداد خان کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام صدگنج تھا۔ دیھ فہائی ملیر کا ایک دور افتادہ گاؤں ہے۔ اُس وقت اس گاؤں میں کوئی اسکول وغیرہ نہیں تھا۔ خداداد خان گبول…
پیر پاگارو کے حر: جنگِ آزادی یا بغاوت؟
”وہ آئے۔ انہوں نے بندوقیں تانیں، گاؤں کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو گھروں سے باہر نکال کر ایک طرف کیا۔ پھر ہماری جھونپڑیوں اور کچے گھروں پر مٹی کا تیل چھڑک کر ان کو آگ لگائی اور ہمیں ٹرکوں میں بھر کر لے گئے۔ اور پھر ریل میں۔ ’راجہ ریل‘ میں۔ اور لا کر…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (آخری حصہ)
بکھر، سکھر اور روہڑی یقیناً کبھی اتنے خوبصورت شہر نہیں ہوتے اگر دریائے سندھ کو ان سے محبت نہ ہوتی۔ یہ دریائے سندھ کا بہاؤ ہی تھا جو اپنے پرانے مشرقی بہاؤ کو چھوڑ کر ان چھوٹی چھوٹی بستیوں کو اپنی بانہوں میں لینے کے لیے کئی سو برس پہلے یہاں تک آ پہنچا بکھر…
کراچی ؛ ماضی ، حال اور مستقبل (آخری حصہ)
جنرل مشرف کے عرصہ اقتدار کے دوران 2000 کی دہائی میں شہر کے جدید انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا اضافہ ہوا۔ انفرااسٹرکچر میں سڑکیں، بالائی پل اور زیر زمین گزرگاہیں شامل تھیں۔ آبادی کے ایک اور ریلے نے شہر پر یلغار کی جب اندرونی طور پر بے گھر…
نیلاب میں قدیم ہجری دور کی پراسرار چٹانیں
باغِ نیلاب، جہاں دریائے سندھ اور دریائے ہرو آ کر ملتے ہیں، دریا 70 ڈگری پر مغرب کی جانب زاویہ بناتے ہوئے کالا چٹا پہاڑوں کے بیچوں بیچ اپنا سفر جاری رکھتا ہے اٹک سے بسال کی جانب سفر کریں تو آپ اس گاؤں کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہاں جا…
سندھ کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو، جنہیں مرنے کے بعد ’مچھلی والا بابا‘ بنا دیا گیا!
سندھ کے کلہوڑا دور کے مشہور حکمران غلام شاہ کلہوڑو کی مزار پر ہر جمعرات کی دوپہر سے عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور مزار کا احاطہ مچھلی کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے مزار کے احاطے میں مچھلی سالن اور فرائی دونوں صورتوں میں بنائی جاتی ہے، یہاں…
سندھ کے پہاڑوں پر قدیم تحریروں کی نقش نگاری
پاکستان سمیت دنیا بھر سے پتھروں پر نقش نگاری دریافت ہوئی ہے۔ پاکستان کا صوبہ سندھ بھی اس نقش نگاری میں مالا مال ہے۔ سندھ میں پتھروں پر نقش نگاری میں دوسری نقش نگاری کے ساتھ ساتھ قدیم تحریریں بھی ملی ہیں۔ یہ تحریریں ضلع دادو میں کیرتھر پہاڑی سلسلے اور…
کیا مکلی واقعی ماں کالی کا بگاڑ ہے؟
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر ٹھٹہ کے قریب تر مکلی کا بہت بڑا اور قدیم قبرستان ہے۔ مورخین اور محققین کی تحقیق کے مطابق مکلی کا قبرستان تیرہ یا چودہ کلومیٹر کی اراضی پر پھیلا ہوا ہے۔ مکلی کا قبرستان مختلف دور کی تاریخ کا گہوارا ہے۔ مقبروں کی طرز تعمیر بھی…