پچاس سال قبل چرائے گئے مبلغ ساڑھے 37 روپے اور ضمیر کا بوجھ۔۔
یہ صرف ساڑھے سینتیس روپوں کی کہانی نہیں ہے۔۔ اس کہانی میں چرائے گئے ان ساڑھے سینتیس روپوں کا بوجھ بھی ہے اور ضمیر میں کانٹے بن کر چبھتا تاسف اور پچھتاوا بھی، جو بالآخر پچاس سال بعد ایک ایسے فیصلے میں ڈھلتا ہے، جو حیران کن ہے! اس کہانی کا تعلق 1970 کی…
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔
ایک روز میں نے اپنے آپ سے کہا: بہت سی باتیں میری سمجھ میں کیوں نہیں آتیں؟ آپ حیران نہ ہوں۔ اس میں چھپانے یا شرمندہ ہونے والی بات نہیں ہے۔ آپ بھی زندگی بھر اپنے آپ سے باتیں کرتے رہے ہیں۔ بلکہ ہم سب اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں۔ اپنے آپ سے باتیں…