Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

کالماہم ترینتازہ ترین

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔۔

By Akhtar Rasool
دسمبر 13, 2023 5 Min Read
0

ایک روز میں نے اپنے آپ سے کہا: بہت سی باتیں میری سمجھ میں کیوں نہیں آتیں؟

آپ حیران نہ ہوں۔ اس میں چھپانے یا شرمندہ ہونے والی بات نہیں ہے۔ آپ بھی زندگی بھر اپنے آپ سے باتیں کرتے رہے ہیں۔ بلکہ ہم سب اپنے آپ سے باتیں کرتے ہیں۔ اپنے آپ سے باتیں کرنے میں صرف فوائد ہیں۔ کسی قسم کا نقصان نہیں ہے۔ اول تو ہم اپنے آپ سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے۔ اس لیے ہمیں ڈر کے مارے اپنی بات سینسر کرنی نہیں پڑتی۔ اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے ہم کبھی نہیں سوچتے کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر مجھے کیا کہنا چاہیے اور کیا کہنے سے اجتناب کرناچاہیے۔ کیا کہنے سے ہم اپنے لیے گڑھا کھودتے ہیں۔ کیا کہنے سے ہم اپنے لیے مصیبتیں مول لیتے ہیں۔ ہم جان چکے ہیں کہ کیا کہنے کے بعد ہم غائب ہو سکتے ہیں اور پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتے۔ اگر کبھی لوٹ آتے ہیں تو ہمیں اپنا نام تک یاد نہیں رہتا۔۔ ہم پوچھتے رہتے ہیں کہ میں کون ہوں، کہاں رہتا ہوں؟ میرے والد اور میری والدہ کا نام کیا ہے؟ ہم یہ تک بھول جاتے ہیں کہ ہم کس دیس کے باسی ہیں۔ خود کلامی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کچھ بھی کہتے ہوئے ہمیں ڈر نہیں لگتا۔ آپ کو اپنے کہے ہوئے الفاظ کی کاٹ چھانٹ کرنی نہیں پڑتی۔

خودکلامی کے دوران جب میں نے کہا: بہت سی باتیں میری سمجھ میں کیوں نہیں آتیں؟ تب اپنے وجود سے آواز آئی: بہت سی باتیں تمہاری سمجھ میں اس لیے نہیں آتیں، کیوں کہ تم بوڑم ہو۔

میں نے چونک کر پوچھا: یہ بوڑم کیا ہوتا ہے بھائی؟ وجود سے دوسری بار آواز آئی: بوڑم کہتے ہیں بیوقوف کو۔۔ بہت سی باتیں تمہاری سمجھ میں اس لیے نہیں آتیں، کیوں کہ تم بیوقوف ہو۔

دانش وروں اور اہل علم کا کہنا ہے کہ ہمارے وجود میں ہمارا ہمزاد ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ وہ انتہائی ذہین اور غیر معمولی قابلیت والا ہوتا ہے۔ ایک لحاظ سے وہ ہمارا رکھوالا اور محافظ ہوتا ہے۔ جب بھی ہم سے سنگین بھول چوک ہونے والی ہوتی ہے تب ہمارا ہمزاد، ہمارا داخلی ہم نفس ہمیں روکتا ہے، ہمیں ٹوکتا ہے۔ اس کی آواز ہمارے علاوہ اور کوئی سن نہیں سکتا۔ جب اس نے کہا کہ بہت سی باتیں تمہاری سمجھ میں اس لیے نہیں آتیں کیوں کہ تم بوڑم ہو، یعنی بیوقوف ہو، تب میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں کسی اور سے نہیں پوچھوں گا کہ بہت سی باتیں میری سمجھ میں کیوں نہیں آتیں۔ کیوں میں دنیا والوں پر ظاہر ہونے دوں کہ میں بوڑم ہوں، بیوقوف ہوں۔

اچھا ہے کہ میں اپنا موقف بیان کردوں۔ یعنی کس قسم کی باتیں مجھے سمجھ میں نہیں آتیں ان کی وضاحت کردوں۔ مثلاً میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جوا اور اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والے شیئرز میں چھوٹی موٹی رقم لگا کر آپ کروڑ پتی بن سکتے ہیں۔ دل للچانے کے بعد آپ شیئرز بازار میں بڑی رقم لگا دیتے ہیں اور وہ رقم آپ کی ڈوب جاتی ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے، ریس کورس میں دوڑنے والے گھوڑوں پر رقم لگانے کو معاشرے میں بہت برا عمل سمجھا جاتا تھا۔ آج ریس کورس میں دوڑنے والے گھوڑوں پر رقم لگانے کو کاروبار سمجھا جاتا ہے۔ اونچی اڑان رکھنے والے فیملی کے ساتھ گھوڑا دوڑ دیکھنے کے لیے ریس کورس پابندی کے ساتھ جاتے ہیں، رقم لگانے کے بعد کبھی جیتتے ہیں اور کبھی ہار جاتے ہیں۔ تعلقات بڑھاتے ہیں۔ اپنے اس عمل کو اپنے رتبے اور حیثیت کے برابر رکھتے ہیں۔ اب تو پیر سائیں، چودھری، وڈیرے، خان اور سردار بھی عربوں کی دیکھا دیکھی گھوڑے پالتے ہیں اور ریس کورس میں بھگاتے ہیں۔ بڑے بڑے بزنس مین کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ وہ بھی گھوڑے پالتے ہیں۔ ہماری حکومت کا خزانہ ایک عرصہ سے خالی پڑا ہوا ہے۔ ملک قرضوں اور امدادوں سے چلا رہے ہیں۔ قرض مفت میں نہیں ملتا، کچھ نہ کچھ گروی رکھنا پڑتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اربوں اور کھربوں کے مقروض ہمارے حکام نے پاکستان کا کیا کچھ بیش بہا گروی رکھا ہوا ہے۔ اجڑے ہوئے خزانے کو پھر سے آباد کرنے کے لیے حکومت نے انقلابی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس صرف تنخواہ دار طبقہ دیتا ہے، سرمایہ دار ٹیکس نہیں دیتے۔ اس بات کا علم انیس سو سینتالیس سے لے کر آج تک ہرحکومت کو ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ کون کون سے ارب پتی ٹیکس نہیں دیتے۔ حکومتوں نے ان کو چھوٹ کیوں دے رکھی ہے؟ اس سلسلہ میں، میں کچھ نہیں جانتا۔ کئی ہفتوں سے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں، جن میں مثال کے طور پر کاروباری اداروں کے نام دیے جاتے ہیں، جیسا کہ سگریٹ بنانے اور منگوا کر بیچنے والے کھربوں روپے کا ٹیکس نہیں دیتے۔ یہی بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ جب حکومت کے علم میں ہے کہ فلاں فلاں ادارے ٹیکس نہیں دیتے، تو پھر لاکھوں کروڑوں روپے کے اشتہار شائع کرنے کی بجائے سگریٹ کمپنیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کرتی؟ یہ ہم بیوقوفوں کی سمجھ سے بالاتر بات ہے۔

کئی باتیں ہمیں حواس باختہ کر دیتی ہیں۔ پچھلے چھہتر برس کے دوران حکومت وقت گاہےگاہے ہم بونگے پاکستانیوں کو آگاہ کرتی رہتی ہے کہ چوکنا رہیں، اپنی اور اپنے بچوں اور املاک کی حفاظت کریں، کیوں کہ دس دہشت گردوں کا جتھا سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہو چکا ہے۔ پہلے پہل مشتری ہوشیار باش قسم کے اشتہار دیکھ کر ڈر جاتے تھے۔ اب ہم اس نوعیت کے اشتہار پڑھ کر حیران ہوتے ہیں اور پھر پریشان بھی ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ہوشیار باش کرنے کی بجائے حکومت دہشت گردوں کے جتھے کو پاکستان میں آنے سے روکتی کیوں نہیں؟ دہشت گردوں کے آنے اور جانے کی مستند خبر رکھنے والی حکومت دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک کیوں نہیں پہچاتی؟ ان کی آمد سے ہمیں آگاہ کرنے سے کیا فائدہ؟ ہمارے پاس نہ ہتھیار ہیں اور نہ ہم نے دہشت گردوں سے نبرد آزما ہونے کی تربیت لے رکھی ہے۔ ہم بونگوں سے حکومتیں کیسا کھیل کھیلتی رہی ہیں؟ اور وہ بھی پون صدی سے؟ کیسے سمجھ میں آئیں ایسی گمبھیر باتیں؟

بشکریہ: روزنامہ جنگ
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

anthony meindlchristian datingchristian dating tipsdoes not existforbidgod and debtgod forbidgod forbid examplesgod forbid meaningheaven forbidheaven forbid examplesheaven forbid meaninghonest answer southernhonest answershonest answers sbtsjordan petersonjordan peterson motivationpaying for funeralsbts honest answerssouthern honest answerssunday worshipthe forbidden scriptures lost to timeunderstanding the bible
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بے روزگاری میں یہ چار کام کیجئے

Next

ٹیلی نار موبائل کمپنی کو پی ٹی سی ایل نے خرید لیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme