قانون کی حکمرانی یا طاقت کی حکمرانی؟ 2007 سے 2025 تک ہماری جمود کی کہانی
پاکستان میں عوامی مفاد کی عدالتی لیٹیگیشن نہ ہونے کے برابر ہیں، تقریباً موجود ہی نہیں۔ آپ سو موٹو اختیارات چھین سکتے ہیں، عدالتوں کی تشکیلِ نو کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی حقوق یا وہ قانونی بنیادیں جن پر مقدمات کھڑے ہوتے ہیں، انہیں کبھی ختم نہیں کیا جا سکا۔…
کوڑے داں (مختصر افسانہ)
علی داد گوٹھ، پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں ہوا کبھی پاکیزگی کی قسم کھاتی تھی۔ بارش کے بعد جب ندیاں بہتی تھیں، تو زمین کی خوشبو سانسوں میں سمٹ جاتی تھی، گویا کہیں ماں نے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ یہ ندیاں موسمی تھیں چند مہینوں کے…
کیا ایک مسکراہٹ دنیا بدل سکتی ہے؟
میں اس بکھرتی ہوئی دنیا پر بڑھتی ہوئی بے چینی محسوس کرنے میں نہیں ہوں۔ ہم آن لائن پہلے سے کہیں زیادہ جڑے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں ہم تنہا اور منقسم ہوتے جا رہے ہیں جہاں گمنام پروفائلز بغیر کسی نتیجے کے گالیاں دے سکتے ہیں اور شائستگی و نفاست، لگتا ہے جيسے…
ریاست اور فسطائیت
بلوچ نوجوانوں کو جبری لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، ریاست فسطائیت کی انتہائی حدوں پر پہنچ کر بلوچستان اور بلوچ نوجوانوں کی پُرامن جہدوجہد کے راستے بند کرتا جا رہی ہے، دنیا میں پُرامن ریلیوں احتجاجی دھرنوں کو انسانی بنیادی حقوق تسلیم کیا جا چکا ہے مگر کیا…
عدلیہ، پارلیمان اور سوالات کے شرارتی بچے
گزشتہ روز سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور پکڑ دھکڑ پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے سماعت ہوئی۔ اس دوران ایک سوال اٹھا، جو شاید تاریخ میں محض ایک جملہ نہ رہے بلکہ ایک بڑے فکری…