Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Can-a-smile-change-the-world
کالماہم ترینتازہ ترین

کیا ایک مسکراہٹ دنیا بدل سکتی ہے؟

By Akhtar Rasool
مئی 11, 2025 4 Min Read
0

میں اس بکھرتی ہوئی دنیا پر بڑھتی ہوئی بے چینی محسوس کرنے میں نہیں ہوں۔ ہم آن لائن پہلے سے کہیں زیادہ جڑے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں ہم تنہا اور منقسم ہوتے جا رہے ہیں جہاں گمنام پروفائلز بغیر کسی نتیجے کے گالیاں دے سکتے ہیں اور شائستگی و نفاست، لگتا ہے جيسے ماضی کا قصہ بن چکی ہیں۔ چونکہ مجھے جھگڑے اور سختی سے نفرت ہے، اس لیے میں نے سوچنا شروع کیا کہ اگر ہم اس صورت حال کو پلٹ دیں تو کیا کیسا ہوگا؟

اگر ہم شعوری طور پر یہ فیصلہ کریں کہ ہماری ہر حقیقی ملاقات کسی کے لیے خوشی کا باعث بنے تو کیا ہوگا؟ اپنی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس سچے جذبے سے کہ ہم مہربان بنیں، کسی کی تعریف کرنا، شکرگزاری کا اظہار کرنا یا دوسروں کو خلوص سے سراہنا۔

میری دوست پولی ہمیشہ گرم جوشی اور اعتماد سے بھرپور دکھائی دیتی ہے، یہ ایسی خصوصیات ہیں جن پر مجھے رشک آتا تھا۔ وہ عام سے مقامات جیسے بینک کی قطار، سپر مارکیٹ یا ٹرین میں اجنبی لوگوں سے بات کر لیتی ہے اور ان سے کہہ دیتی ہے کہ وہ کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔ میں ہمیشہ یہ کرنے سے ڈرتی تھی کہ میری بات کہنے کا طریقہ ٹھیک نہیں لگے گا یا اس خوف سے کہ میری بات عجیب یا غیر مناسب محسوس نہ ہو اور ہم دونوں شرمندہ ہو جائیں۔

لیکن آج کل میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا، چاہے ایک لمحے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، ایک ایسا اثر پیدا کرتا ہے جو مزید خوشیوں کو جنم دیتا ہے۔ دماغ کی کیمسٹری بھی عجیب چیز ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کسی کی تعریف کرنا دونوں کے دماغ میں ڈوپامین اور آکسیٹوسن جیسے خوشی کے ہارمون خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون موڈ بہتر کرتے ہیں، کارٹیسول کے لیول کو کم کر کے تناؤ کم کرتے ہیں اور دماغ کے ریواڈ سسٹم کو متحرک کرتے ہیں۔ یہ مثبت سوچ کی راہیں مضبوط کرتے ہیں اور سماجی تعلق اور بھروسہ پیدا کرتے ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے تھوڑا سا پولی جیسا بننا چاہیے۔

میں نے اپنے دندان ساز اور اسسٹنٹ سے پوچھا کہ وہ کیسے ہیں اور میں اس وقت حیران رہ گئی جب انہوں نے جواب دیا کہ کوئی ان سے یہ سوال نہیں کرتا۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہم سب کتنے زیادہ سچے اور مثبت انسانی تعلق کے بھوکے ہیں، چاہے وہ کسی بھی چھوٹے لمحے میں ہو۔

یہ احساس اس وقت مزید گہرا ہوا جب مجھے لندن کے شاندار مے فیئر ریسٹورنٹ میں دوپہر کے کھانے کی دعوت ملی۔ ہماری میز پر جو ویٹر تعینات تھا، وہ واضح طور پر نیا تھا، تھوڑا نروس لیکن خوش اخلاق اور محنتی۔

باتوں میں انہوں نے بتایا کہ وہ صرف دو ہفتے پہلے گاڑیاں دھونے کا کام چھوڑ کر اپنے ایک بااثر کزن کی مدد سے یہاں آیا ہے۔ میں نے ویٹر سے پوچھا کہ ان کا مینجر کون ہے۔

انہوں نے ایک دبلی پتلی، تھکی ہوئی سی عورت کی طرف اشارہ کیا جو ایک نفیس سوٹ میں ملبوس تھی۔ دو کاک ٹیلز پینے کے بعد حوصلہ ملا اور میں بھرے ہوئے ریسٹورنٹ میں جا کر اس سے بات کرنے چلی گئی۔ جب میں نے ان کے نئے ملازم کی تعریف کی تو وہ فوراً نرم پڑ گئیں اور ان کے چہرے پر فخر اور سکون واضح تھا۔ میں اپنی میز پر واپس آئی، اور خود کو تھوڑا سا ’پولی‘ محسوس کرنے لگی۔

بعد میں میں نے ایک چھوٹی بچی کی سافٹ ٹوائے والے خرگوش کی پسند پر تعریف کی اور وہ فخر سے اسے اور زور سے گلے لگانے لگی۔ بچوں سے بات کرتے ہوئے ’کول‘ جیسے نیوٹرل اور پرجوش الفاظ کا استعمال ’خوبصورت‘ جیسے صنفی توقعات سے جوڑے بغیر ان کی پسند کی توثیق کرتے ہے۔

اور میں نے ٹریفک سگنل پر ایک شاندار سبز کڑھائی والا دوپٹہ پہنے ایک بزرگ خاتون سے بات کرنے کا رسک لیا جو کسی سوچ میں غرق اور ناراض نظر آ رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: ’کتنا خوبصورت دوپٹہ ہے۔ یہ میرا پسندیدہ رنگ ہے،‘ وہ اس پر شرما گئیں اور سڑک پار کرتے ہوئے کئی بار ’شکریہ‘ کہا۔

ان لمحات میں میں نے سوچا کہ ایک سادہ سی تعریف کا اثر کتنا ہوتا ہے، شاید صرف ایک منٹ، جو دوپہر کے کھانے تک بھلا دیا جائے یا شاید یہ ان کے دن کی ایک چھوٹی سی خوشی بن جائے، جو کچھ دیر تک ان کے ساتھ رہے۔۔

اگر آپ کسی عالمی طاقت یا اثر و رسوخ والے عہدے پر نہیں ہیں تو ہم میں سے اکثر لوگ بڑی نظامی تبدیلیاں نہیں لا سکتے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بےبس ہیں۔

ایک ایسی دنیا میں جہاں سوشل میڈیا پر کھوکھلے جملے، فائر ایموجی اور دل والے ری ایکشن معمول بن چکے ہیں اور ان کا اثر چند لمحوں میں غائب ہو جاتا ہے۔ وہ بات کچھ اور ہی ہوتی ہے، جب آپ کسی کی آنکھوں میں دیکھ کر سچائی سے کہیں کہ آپ کو ان کے جوتے پسند آئے یا ان کی خیال رکھنے کی عادت کا شکریہ ادا کریں۔

تو کیوں نہ ہم اسے اپنی روزمرہ عادت بنا لیں؟ میں آپ سے گزارش کرتی ہوں کہ اسے ایک بار ضرور آزمائیں۔ اس نے مجھے یقینی طور پر خوشی دی۔ ہماری اصل طاقت ان تعلقات میں ہے جو ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ہم سب انسان ہیں۔ اور کیا یہ دنیا کو ذرا سی بہتر جگہ نہیں بنا دے گا؟

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

Tags:

#making people smileactive gratitudeappreciationappreciation cultureauthentic communicationbeing thoughtfulbreaking social barrierscharacter buildingcheerful habitscompassioncompassionate gesturescompliment effectcomplimenting strangerscomplimentsconfidence boostconnecting through kindnessConscious Livingcourteous attitudedaily compassiondaily kindnessday brightenersdopamineEmotional Connectionemotional intelligenceemotional rippleemotional upliftEmotional Well-BeingEmpathyempathy in actioneveryday heroeseye contactfeel-good hormonesgenuine praisegrace in speechGratitudehappiness hormonesheart-led lifeheartwarming momentshonest emotionshuman connectionHuman Dignityhuman warmthinspiring behaviorintentional kindnessinterpersonal carejoy chainkindnesskindness chainkindness practicelife satisfactionmaking changemaking someone’s daymeaningful interactionmental healthmental wellnessmicro-kindnessmindful praisemood boostermood elevationoxytocinpersonal growthpolite conversationpositive influencepositive mindsetpositive psychologypositive reinforcementpositivity ripplepower of wordspsychological benefitspublic interactionpublic kindnessquiet strengthreal connectionsrespect for othersshared humanitysimple gesturessinceritysmall actionsSmilesmile powersmiling impactSocial Awarenesssocial behaviorsocial bondingsocial harmonysocial trustSoft Skillsspontaneous kindnessspreading joyspreading positivitystress reliefsupportive speechthoughtful complimentstone of kindnessuplifting languageuplifting momentsuplifting othersverbal appreciationwarm communicationwarm encounters
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
How-does-childhood-trauma-damage-self-esteem-and-how-can-it-be-repaired
Previous

بچپن کا صدمہ خود اعتمادی کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے اور اسے کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟

Urdu-short-story-Abu-Bakar-Baloch
Next

پاگل کے ہاتھ میں چھری (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme