دریاؤں اور ندیوں کے تحفظ کے لیے جدوجہد کا عالمی دن اور ہم
(دریاؤں کی جدوجہد کے عالمی دن کے موقع پر سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا، گڈاپ شاخ) اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے 16 مارچ 2026 کو کونکر لائبریری گڈاپ میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں سندھ کے دانشوروں، ادیبوں، محققین اور ماہرینِ قانون نے…
انگریزوں نے سندھ تہذیب کی دریافت میں سو سال کیوں لگا دیے؟
سندھ تہذیب کو دریافت ہوئے ایک صدی تو ہو چکی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں نے 2024 کو اس نسبت سے نہیں منایا۔ انڈیا، جس کا نام ہی انڈس تہذیب سے مستعار لیا گیا تھا، اسے بھی اپنی تاریخ سے غرض ہے نہ ہی پاکستان کو، جہاں سندھ تہذیب…
دریائے سندھ کی تہذیب کب، کیسے اور کس نے دریافت کی؟
وِل ڈیورا، جو دنیا کے جانے مانے تاریخ دان سمجھے جاتے ہیں، اپنی کتاب دی اِسٹوری آف سویلائزیشن میں لکھتے ہیں ’’جب خوفو نے پہلا احرام تعمیر کروایا تو ’موہن جو دڑو‘ اپنے عروج پر تھا۔‘‘ مجھے وِل ڈیورا کی دریائےِ سندھ کی ترائی پر آباد، اِنڈس ویلی سویلائزیشن…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط75)
ایک اور یونانی مؤرخ ”ٹالمی“ لکھتا ہے؛ ”سندھو اپنی شاخوں میں جو جزیرہ بنا رہا ہے وہ پراسیان ہے اور یہی اس کا ڈیلٹا بھی ہے۔“ چینی سیاح ”سوانگ سانگ“ اپنے سفر نامے میں سندھ کے جن مقامات اور معاملات کا ذکر کرتا ہے، وہ بڑی حد تک قیاس آرائیاں ہی ہیں۔ ان کا محل…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)
دادو کبھی پرسکون خطہ تھا، سندھو خاموش اور تنہا بہتا تھا۔ آج یہ پرشور جگہ ہے۔ سندھو پر بنے پل سے لاریاں، ٹرک اور رنگ رنگ کی گاڑیاں دھواں اڑاتی اور مشینی دور کا انسان شور مچاتا گزرتا ہے۔ سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی درگاہ بھی واقع ہے داستان گو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط51)
ڈیرہ غازی خاں کے رہنے والے قاسم نقوی (رٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ انجینئر محکمہ بلدیات) یہاں ہمارے میزبان ہوں گے۔ تونسہ سے گدو تک کا سفر ہم کشتی میں ہی کریں گے۔ اس سفر کو طے کرنے میں ہمیں 3 دن لگیں گے۔ گدو تک کے سفر میں دوستوں کے علاوہ ڈولفن، غیر ملکی مہمان…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔ ”میں ہری پور کے مضافات میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط28)
برزل ٹاپ زمانہ قدیم سے ہی سری نگر اور گلگت کے درمیان اہم تجارتی راستہ تھا۔ اس راستے پر سفر زیادہ تر گھوڑوں یا یاک پر ہی ہوتا تھا۔ بنجی شاہراہ ریشم پر قدیم زمانے سے ہی اہم قصبہ ہے۔پرانے زمانے میں یہ جگہ گلگت اور ڈوگرہ راج کے درمیان بارٹر تجارت کا اہم مرکز…