سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط26)
بہار کا موسم ہے اور اس کے رنگ درختوں اور ماحول پر بھی بکھرے ہیں۔ یہ پھل چننے کے دن ہیں۔ میں آبشار کے قریب جا بیٹھا ہوں۔ بہتے پانی کی جھاگ سے اٹھنے والے پانی کے قطرے میرے چہرے کو بھگو رہے ہیں۔ آبشار کا پانی نیچے تالاب کی صورت جمع ہو کر موجیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط24)
کچھ دنوں سے دریا کے ساتھ سفر کرتے کرتے میں اس کے شور کا عادی ہو گیا ہوں لیکن آج صبح میری آنکھ دریا کے شور سے نہیں بلکہ پرندوں کی چہچہاہٹ سے کھلی ہے۔باس ہمیشہ کی طرح پہلے ہی تیار ہو چکے ہیں۔ نین جینز کی پینٹ اور سبز جیکٹ میں کسی اور دنیا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط23)
سندھو بولتے چلا جا رہا ہے؛ ”اولڈنگ سے یہاں تک دریائے شیوک، شگر، کئی ندی، نالے اور چشمے مجھ میں مل کر اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ آگے بھی دیکھنا میں کن کن اور کیسے کیسے ندی نالوں کو نگلتا ہوں۔ میرا وجود کافی بھرپور ہو چکا ہے۔ اب میں اپنا غصہ نکالنے اور سیلاب…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط22)
ہم اسکردو پہنچے ہیں۔ اس کی اہمیت کے ٹو چوٹی کو سر کرنے کی خواہش لئے دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیماؤں یا دلکش جنت نظیر شنگریلا جھیل کی بدولت ہے۔ اسے تبت خورد بھی کہتے ہیں۔ پہاڑوں کے بیچ پیالہ نما جگہ، ماضی کی یہ اہم بستی بلتستان کا صدر مقام اور آج…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 19)
ایک بار کرنل (آر) شہباز نے بتایا تھا ”میں 1978ء سے1980ء تک 2 این ایل آئی (2NLI) کا کمانڈر رہا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسکردو سے اولڈنگ تک کا راستہ تنگ، دشوار تھا اور اس مسافت طے کرنے میں سات (7) گھنٹے لگتے تھے۔ مرول ٹاپ سے آگے کا راستہ تو بہت ہی کٹھن…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 18)
”مرول ٹاپ سے وہ دور پہاڑ کی چوٹی پر جو سفید پتھروں کی لکیر دکھائی دے رہی ہے، دراصل ’لائن آف کنٹرول‘ ہے۔ اسی لائن آف کنٹرول کے دامن سے بہتا میں پاکستان میں داخل ہوا ہوں۔ دونوں سرحدوں پر مجھے کوئی فوجی نظر نہیں آیا البتہ ان اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں پر دونوں…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 13)
”لداخ کبھی اس سلطنت کا اہم قصبہ تھا، جہاں بدھ مت پروان چڑھا۔ یہ اشوک اعظم کا دور اور 240 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ موریہ خاندان کا نامور چشم و چراغ اشوک اعظم اس سلطنت کے بانی چندر گپت موریہ کا پوتا تھا۔ کالنگا (موجودہ آڑیسہ) کی لڑائی میں ہونے والی خون ریزی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 12)
”تبت کے ساتھ میری قربت، لیہہ کے قدیم تجارتی راستے اور مذہبی روابط ہیں۔ لیہہ ’تبت اصغر‘ (چھوٹا تبت) کہلاتا ہے۔ تبت، چین، ہندوستان اور بلتستان کے تاجر ادھر کا رخ کرتے تھے۔ قدیم دور میں یہاں ایک سے زیادہ شوہر (چند شوائی) کا عام رواج تھا لیکن اب یہ رسم قانون…