سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط27)
عالم گڑھ کا بیلی سسپنشن برج ایک سو بتیس (132) میٹر لمبا ہے۔ اسے ایک مقامی ٹھیکے دار ”سید عالم“ نے تعمیر کیا اور انہی کا نام اس کے نام کی نسبت بن گیا ہے۔ میں پانچ سو (500) میل کا سفر طے کر کے یہاں پہنچا ہوں۔ دریائے گلگت پر اب جدید پل بنا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 17)
میں نے جیپ سے اتر کر کمر سیدھی کی ہے جبکہ سندھو دور نیچے اپنے شور سے اپنے بہنے کا احساس دلا رہا ہے۔ جیپ پھر سڑک پر رواں ہے۔پہلے ہی موڑ نے بتا دیا کہ آنے والا راستہ کتنا دشوار ہوگا۔ فور بائی فور سے یہ موڑ مڑا تو اللہ یاد آ گیا۔ تنگ…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 13)
”لداخ کبھی اس سلطنت کا اہم قصبہ تھا، جہاں بدھ مت پروان چڑھا۔ یہ اشوک اعظم کا دور اور 240 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ موریہ خاندان کا نامور چشم و چراغ اشوک اعظم اس سلطنت کے بانی چندر گپت موریہ کا پوتا تھا۔ کالنگا (موجودہ آڑیسہ) کی لڑائی میں ہونے والی خون ریزی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 12)
”تبت کے ساتھ میری قربت، لیہہ کے قدیم تجارتی راستے اور مذہبی روابط ہیں۔ لیہہ ’تبت اصغر‘ (چھوٹا تبت) کہلاتا ہے۔ تبت، چین، ہندوستان اور بلتستان کے تاجر ادھر کا رخ کرتے تھے۔ قدیم دور میں یہاں ایک سے زیادہ شوہر (چند شوائی) کا عام رواج تھا لیکن اب یہ رسم قانون…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 8)
”میرے دوست؛ قدیم دور میں میرے اس بالائی خطے میں پل (برج) نہ تھے۔ مسافر، مقامی لوگ اور جانور تیر کر یا پیدل ہی مجھے عبور کرتے تھے۔ پھسلتے پتھروں اور تند و تیز لہروں میں مجھے پار کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ خچر، یاک اور ٹٹو طاقت ور تیراک ہیں۔ آدمی ان کی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 3)
میں ہزاروں برس کی کہانیوں کا عکس بھی ہوں۔ یہی عکس تو آپ کو دکھانے ہیں۔ وہی فسانے تو آپ کو سنانے ہیں۔ گویا ایک طویل محفل سجانی ہے۔ میں اگرچہ میزبان ہوں، داستان گو بھی ہوں، کہانی کار بھی ہوں۔ مگر یہ داستان کہیں میری اور کہیں میرے یار شہزاد احمد حمید کی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 1)
شہزاد حمید پیشہ ور لکھاری نہ ہونے کے باوجود لاتعداد پیشہ ور لکھنے والوں سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ اس کی تحریروں میں اس کی شخصیت کا عکس بہت نمایاں ہے جو شرافت، نجابت، متانت، محنت اور صداقت کا نایاب کومبینیشن ہے اس کی یہ زیر نظر کتاب کسی شہکار سے کم نہیں کہ…
دریاؤں کا عالمی دن: ستر سالہ صدیق بلوچ ملیر ندی کو بچانے کے مشن پر۔۔
ایک ڈھابے پر ٹانگیں پسارے بیٹھا کاغذات سے بھری فائلوں کو چھان رہا تھا، جب ایک بیرا اس کے لیے چائے لے کر آتا ہے، محمد صدیق بلوچ کپ اٹھاتا ہے، گھونٹ لیتا ہے، اوپر دیکھتا ہے اور اچانک یاد آتا ہے کہ اس ہوٹل سے آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر ایک فارم ہاؤس ہے،…