انڈس ڈیلٹا: سمندر میں غرق ہوتا ایک ورثہ اور سندھو پر نئے کینال
پاکستان کے وسیع و عریض سندھ ڈیلٹا کے ایک چھوٹے سے ماہی گیری گاؤں داندو جیٹی میں ایک کشتی خالی کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری سمندر کے لیے روانگی کے لیے تیار ہے۔ قریب کھڑی ایک کشتی سے سندھی لوک گلوکارہ فوزیہ سومرو کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے…
’سندھو جی گونج‘: سندھی سینیما کی نئی بازگشت
فلم ’سندھو جی گونج‘ میں سندھو دریا کے گرد گھومتی چار کہانیاں اور ان سے جڑے کردار سبھی میں سندھو بہتا، ٹھہرتا، تھمتا اور کہیں تھکتا نظر آتا ہے۔ میں نے فلم پر جب لکھنا چاہا تو فلم ناقد اور ’سندھو جی گونج‘ کے ڈسٹری بیوٹر کامران جاوید نے مختصر دورانیے کے…
سندھ نہروں کا معاملہ، ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ
حکومت نے کچھ ہی عرصہ پہلے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کی منظوری دی ہے جن میں چولستان اور تھر کے علاقے سیراب کرنے کے لیے بھی نہروں کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ نہریں ملک کی 48 لاکھ ایکڑ زمین پر ’گرین کارپوریٹ فارمنگ‘ کرنے کے لیے نکالی جا رہی ہیں، جس…
صحرا میں تبدیل ہوتا سندھ
زمین اور اس کے وسائل کی ملکیت، قبضے اور تقسیم کا سوال، جو درحقیقت انسانیت کے لیے ایک مشترکہ ورثہ ہونا چاہیے، ہزاروں سال سے متنازع مسائل میں شامل رہا ہے اور ریاستوں کے اندر اور ان کے درمیان تنازعات کی ایک بڑی وجہ بھی۔ اگرچہ زمین بذاتِ خود کوئی خاص قدر…
شیخ ایاز کا سندھ اور شیخ سحر کا بلتستان
شیر دریا سندھ (سنگے کھابب) بلتستان سے خیبرپختونخوا، پنجاب سے ہوتا ہوا سندھ دھرتی میں بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ اس دریا کے کنارے کنارے کئی تہذیبوں نے جنم لیا ہے، یوں بالائی سندھ میں گلگت بلتستان اور انڈس ویلی تہذیب کا آخری کنارہ سندھ ہے، اس طرح ہم اور آپ…
سندھ کا مٹیالا پانی اور اس پر جمی میلی آنکھیں۔۔
اس بلاگ کا ویڈیو ورژن بھی دستیاب ہے، جسے آپ صفحے کے آخر میں دیکھ سکتے ہیں۔ دریائے سندھ، جو پہاڑوں کے دل سے نکلتا ہے اور میدانوں کے سینے پر بہتا ہوا سمندر کی آغوش میں سما جاتا ہے، زندگی کا ایک حسین استعارہ ہے۔ یہ دریا نہ صرف زمین کو سیراب کرتا ہے…
دریائے سندھ کی تہذیب کب، کیسے اور کس نے دریافت کی؟
وِل ڈیورا، جو دنیا کے جانے مانے تاریخ دان سمجھے جاتے ہیں، اپنی کتاب دی اِسٹوری آف سویلائزیشن میں لکھتے ہیں ’’جب خوفو نے پہلا احرام تعمیر کروایا تو ’موہن جو دڑو‘ اپنے عروج پر تھا۔‘‘ مجھے وِل ڈیورا کی دریائےِ سندھ کی ترائی پر آباد، اِنڈس ویلی سویلائزیشن…
ہو جمالو کی کہانی سے جُڑا دریائے سندھ پر قائم 134 سالہ قدیم پل اب تفریحی مقام بنے گا۔۔
سکھر میں دریائے سندھ پر 134 سالہ قدیم فولادی لینس ڈاؤن برج، جسے سندھ ہائی کورٹ نے قومی ورثہ قرار دے رکھا ہے، حال ہی میں اس پل کی مرمت اور اسے تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ برطانوی دور میں سندھ کے جُڑواں شہروں سکھر اور روہڑی…