کیا سندھ تہذیب کا رسم الخط ڈیکوڈ ہو گیا؟
سندھ کی تہذیب کو دریافت ہوئے سو سال مکمل ہو چکے ہیں، مگر ماہرین اس کے رسم الخط کو ابھی تک پڑھنے کے قابل نہیں ہو سکے۔ حال ہی میں ایک انڈین ماہر لسانیات یجنا دیوام نے میڈیا پر دعویٰ کیا کہ وہ سندھ تہذیب کے رسم الخط کو سمجھنے کے قابل ہو چکے ہیں۔…
انگریزوں نے سندھ تہذیب کی دریافت میں سو سال کیوں لگا دیے؟
سندھ تہذیب کو دریافت ہوئے ایک صدی تو ہو چکی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں نے 2024 کو اس نسبت سے نہیں منایا۔ انڈیا، جس کا نام ہی انڈس تہذیب سے مستعار لیا گیا تھا، اسے بھی اپنی تاریخ سے غرض ہے نہ ہی پاکستان کو، جہاں سندھ تہذیب…
دریائے سندھ کی تہذیب کب، کیسے اور کس نے دریافت کی؟
وِل ڈیورا، جو دنیا کے جانے مانے تاریخ دان سمجھے جاتے ہیں، اپنی کتاب دی اِسٹوری آف سویلائزیشن میں لکھتے ہیں ’’جب خوفو نے پہلا احرام تعمیر کروایا تو ’موہن جو دڑو‘ اپنے عروج پر تھا۔‘‘ مجھے وِل ڈیورا کی دریائےِ سندھ کی ترائی پر آباد، اِنڈس ویلی سویلائزیشن…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط75)
ایک اور یونانی مؤرخ ”ٹالمی“ لکھتا ہے؛ ”سندھو اپنی شاخوں میں جو جزیرہ بنا رہا ہے وہ پراسیان ہے اور یہی اس کا ڈیلٹا بھی ہے۔“ چینی سیاح ”سوانگ سانگ“ اپنے سفر نامے میں سندھ کے جن مقامات اور معاملات کا ذکر کرتا ہے، وہ بڑی حد تک قیاس آرائیاں ہی ہیں۔ ان کا محل…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)
دادو کبھی پرسکون خطہ تھا، سندھو خاموش اور تنہا بہتا تھا۔ آج یہ پرشور جگہ ہے۔ سندھو پر بنے پل سے لاریاں، ٹرک اور رنگ رنگ کی گاڑیاں دھواں اڑاتی اور مشینی دور کا انسان شور مچاتا گزرتا ہے۔ سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی درگاہ بھی واقع ہے داستان گو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط68)
1922ء میں ’انڈین آرکیالوجی سروے‘ کے ماہر سر جان مارشل نے موئن جو دڑو کی باقیات دریافت کیں۔مُردوں کا یہ ٹیلہ اور ماضی کا اجڑا شہر اب یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج میں شامل ہے۔ اس کی دریافت کو 100 برس مکمل ہو چکے ہیں اور اب تک موجودہ سائیٹ کے ساڑھے پانچ (550)…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط67)
محمد الیاس انصاری جو یہاں کھدائی کے کام سے 1988ء سے وابستہ ہیں (ان کے دادا اور والد اس شہر کی ابتدائی کھدائی کرنے والوں میں شامل تھے) کہتے ہیں؛ ”کھدائی کے دوران ہمیں ہار، چھوٹے کھلونے، مورتیاں، کنگن اور دوسری اشیاء ملی ہیں۔“ اس شہر کی ایک خاص بات یہ ہے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط62)
سندھو بتاتا ہے ”معصوم شاہ مینار کے علاوہ میرے کنارے 1934ء میں تعمیر کی گئی کنہیا لال کوٹج (آج کی ملک حویلی) اپنے منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے دور سے ہی پہچانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر قابلِ ذکر مقامات میں ہندو راج کی عمارات کالی دیوی کا آستان، سادھ…