سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط30)
تھور وادی سے چلاس تک گزرتے سندھو نے اس قدر گہری کھائیاں کھود دی ہیں کہ یہاں صرف چند گھنٹے ہی دھوپ پہنچتی ہے۔ یہ عظیم بلندیوں اور غاروں جیسی پستی والی سرزمین بدصورت ہے اور یہاں سے گزرتے دل پر عجیب سا اثر ہوتا ہے۔ اس وادی کی وسعت میں سندھو خاموشی مگر تیزی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط28)
برزل ٹاپ زمانہ قدیم سے ہی سری نگر اور گلگت کے درمیان اہم تجارتی راستہ تھا۔ اس راستے پر سفر زیادہ تر گھوڑوں یا یاک پر ہی ہوتا تھا۔ بنجی شاہراہ ریشم پر قدیم زمانے سے ہی اہم قصبہ ہے۔پرانے زمانے میں یہ جگہ گلگت اور ڈوگرہ راج کے درمیان بارٹر تجارت کا اہم مرکز…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط27)
عالم گڑھ کا بیلی سسپنشن برج ایک سو بتیس (132) میٹر لمبا ہے۔ اسے ایک مقامی ٹھیکے دار ”سید عالم“ نے تعمیر کیا اور انہی کا نام اس کے نام کی نسبت بن گیا ہے۔ میں پانچ سو (500) میل کا سفر طے کر کے یہاں پہنچا ہوں۔ دریائے گلگت پر اب جدید پل بنا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط26)
بہار کا موسم ہے اور اس کے رنگ درختوں اور ماحول پر بھی بکھرے ہیں۔ یہ پھل چننے کے دن ہیں۔ میں آبشار کے قریب جا بیٹھا ہوں۔ بہتے پانی کی جھاگ سے اٹھنے والے پانی کے قطرے میرے چہرے کو بھگو رہے ہیں۔ آبشار کا پانی نیچے تالاب کی صورت جمع ہو کر موجیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط24)
کچھ دنوں سے دریا کے ساتھ سفر کرتے کرتے میں اس کے شور کا عادی ہو گیا ہوں لیکن آج صبح میری آنکھ دریا کے شور سے نہیں بلکہ پرندوں کی چہچہاہٹ سے کھلی ہے۔باس ہمیشہ کی طرح پہلے ہی تیار ہو چکے ہیں۔ نین جینز کی پینٹ اور سبز جیکٹ میں کسی اور دنیا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط23)
سندھو بولتے چلا جا رہا ہے؛ ”اولڈنگ سے یہاں تک دریائے شیوک، شگر، کئی ندی، نالے اور چشمے مجھ میں مل کر اپنا وجود کھو چکے ہیں۔ آگے بھی دیکھنا میں کن کن اور کیسے کیسے ندی نالوں کو نگلتا ہوں۔ میرا وجود کافی بھرپور ہو چکا ہے۔ اب میں اپنا غصہ نکالنے اور سیلاب…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط22)
ہم اسکردو پہنچے ہیں۔ اس کی اہمیت کے ٹو چوٹی کو سر کرنے کی خواہش لئے دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیماؤں یا دلکش جنت نظیر شنگریلا جھیل کی بدولت ہے۔ اسے تبت خورد بھی کہتے ہیں۔ پہاڑوں کے بیچ پیالہ نما جگہ، ماضی کی یہ اہم بستی بلتستان کا صدر مقام اور آج…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (اکیسویں قسط)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی؛ ”راستے میں بہت سی جگہوں کے پرانے لداخی طرز کے نام اب تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ مثلاً ’پرکوٹا‘ اب ’مہدی آباد‘ ہے، ’گڈی کاسڈو‘ اب ’گڈی خاد‘ ہے اسی طرح ’وداشا‘ اب ’چٹانگ‘ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اولڈنگ بھی نیا نام ہے پرانا نام ’اول…