سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط51)
ڈیرہ غازی خاں کے رہنے والے قاسم نقوی (رٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ انجینئر محکمہ بلدیات) یہاں ہمارے میزبان ہوں گے۔ تونسہ سے گدو تک کا سفر ہم کشتی میں ہی کریں گے۔ اس سفر کو طے کرنے میں ہمیں 3 دن لگیں گے۔ گدو تک کے سفر میں دوستوں کے علاوہ ڈولفن، غیر ملکی مہمان…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط50)
سندھو پھر سے سرگوشی کرنے لگا ہے؛ ”اونٹ یہاں کی اہم سواری ہے۔ اس کی پیٹھ پر بوروں میں کپاس لاد کر لائی لے جائی جاتی ہے یا پھر اونٹ گاڑی کھینچ رہے ہوتے ہیں یا ساربان کے پیچھے قطار میں چلتے قدیم زمانے کی عکاسی کر تے ہیں۔ ان کے گلے میں بندھے ٹل…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط46)
ہم کابلی دروازے سے قلعے میں داخل ہو کر اصطبل کے قریب سے گزر کر قلعے کے مشرقی حصے کی جانب ایک وسیع صحن میں پہنچے ہیں۔ ہمارے سامنے دو ایس ایس جی کمانڈوز گارڈ پوسٹ پر جدید اسلحہ سے لیس چاق و چوبند کھڑے ہیں۔ یہاں سے ارد گرد پر نظر رکھی جاتی ہے۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط45)
ہم پیدل ہی اس پل سے گزر کر اٹک خورد ریلوے اسٹیشن پہنچے ہیں۔ سر سبز پہاڑوں میں گھرا یہ ریلوے اسٹیشن انیسویں صدی کے ولایت کا کوئی اسٹیشن معلوم ہوتا ہے۔ مجھے لمحہ بھر کے لئے محسوس ہوا میں اٹھارویں صدی کے ’ولیم وڈزورتھ‘ کے ولایت میں ہوں۔ پرسکون ماحول، پلیٹ…
سندھو گھاٹی اور اساطیری ادب! (آخری حصہ)
’دودوچنیسر‘ کی عظیم رزمیہ داستان کو لوک شاعر ’بھاگو بھان‘ نے لوک گاتھاؤں میں تخلیق کیا جو جنوبی سندھ کے کسی گاؤں میں رہتا تھا۔ اُن دنوں یعنی سومرا دور میں جو مشہور بستیاں تھیں جیسے تھری، شاہ کپور، روپاماڑی اور وگھہ کوٹ، ان بستیوں کا بھاگو بھان نے اپنی…
سندھو گھاٹی اور اساطیری ادب! (پہلی قسط)
یہ دسمبر 1985ء کے آخری ہفتے کی ٹھنڈی رات کے ابتدائی پہر کا ذکر ہے۔ سندھ کے ساحلی گاؤں کے مغرب میں بنی سومرا دور کی درگاہ قرھیو بھنڈاری کے سالانہ میلے کے شب و روز میں، درگاہ کے شمال میں گھاس پھوس سے بنی اُس کے معتقدین کی تین دیواروں والی کئی جھونپڑیاں ہیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔ ”میں ہری پور کے مضافات میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط37)
”سکندر کی اگلی منزل پانچ دریاؤں کی سر زمین پنجاب تھی۔ سکندر اعظم ٹیکسلا سے دریائے جہلم ’ہائیڈوپس‘ (یونانی دریائے جہلم کو hydespes کہتے تھے) کے کنارے ’مونگ‘ (منڈی بہاؤالدین کا نواحی قصبہ) پہنچا، جہاں راجہ پورس اور یونانی افواج کے درمیان گھمسان کا رن پڑا،…