سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 16)
سندھو کہانی جاری رکھے ہے؛ ”لیہہ میری شمال مغربی گزرگاہ پر واقع ہے۔ شیوک دریا بھی میرے متوازی بہتا ڈیڑھ سو میل کا فاصلہ طے کرکے مجھ میں گرتا ہے۔“ ملبیک سے روانہ ہو کر مجھے اولڈنگ پہنچنا تھا۔ اپنے دیس، پاکستان۔۔ یہاں سے ایک سو پچاس میل کا سفر طے کر کے۔۔…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 15)
صبح سے اب تک کے سفر نے مجھے بھی تھکا دیا ہے۔ میں آرام کی غرض سے سندھو کنارے بنے ’ہمالیہ ان‘ چلا آیا ہوں۔ کچھ آرام کے بعد باہر آیا تو چندا ماموں پہاڑوں کی اوٹ سے افق پر نمودار ہوتے بلندی کی جانب گامزن ہیں۔ چاندنی نے ماحول کو تاباں اور خوشگوار کر…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 14)
”لو میں تمہیں بتانا بھول گیا ہوں۔“ سندھو کی آواز نے مجھے متوجہ کیا ہے، ”یہاں لیہہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا ٹرانس نیشنل پارک ’ہمس‘ واقع ہے۔ یہ برفانی چیتے کا سب سے گنجان آباد اور سب سے بلند پارک ہے۔ اس کے علاوہ میرے کنارے دو کوہان والے اونٹ ’نبرا ویلی‘…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 13)
”لداخ کبھی اس سلطنت کا اہم قصبہ تھا، جہاں بدھ مت پروان چڑھا۔ یہ اشوک اعظم کا دور اور 240 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ موریہ خاندان کا نامور چشم و چراغ اشوک اعظم اس سلطنت کے بانی چندر گپت موریہ کا پوتا تھا۔ کالنگا (موجودہ آڑیسہ) کی لڑائی میں ہونے والی خون ریزی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 12)
”تبت کے ساتھ میری قربت، لیہہ کے قدیم تجارتی راستے اور مذہبی روابط ہیں۔ لیہہ ’تبت اصغر‘ (چھوٹا تبت) کہلاتا ہے۔ تبت، چین، ہندوستان اور بلتستان کے تاجر ادھر کا رخ کرتے تھے۔ قدیم دور میں یہاں ایک سے زیادہ شوہر (چند شوائی) کا عام رواج تھا لیکن اب یہ رسم قانون…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 11)
سورج کی نارنجی کرنیں افق پر اپنے رنگ بکھیرنے لگی ہیں۔ سندھو کی گزرگاہ کا یہ علاقہ قابل دید ہے مگر یہاں زندگی بڑی سخت لیکن بے کیف نہیں کیونکہ راستے اور پگڈنڈیاں جو اس وادی سے گزرتی ہیں، مختلف زمانوں میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے مذہبی زائر اور تجار…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 10)
دم چک سے میں نے جیپ کرائے پر لی ہے۔ پنتیس (35) سالہ صحت مند، باریش، گوری رنگت، دم چک کا رہائشی نواز میرا ڈرائیور اور ہم سفر ہے۔ (کیا خوش قسمتی ہے کہ بہاول پور میں میرے ایک سرکاری ڈرائیور کا نام بھی نواز تھا۔ وہ کمال درویش منش اور عمدہ ڈرائیور تھا۔) میرا…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 9)
”میں تقریباً دو سو (200) میل یا تین سو بیس (320) کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے تبت کی شمال مشرقی سرحد عبور کر کے چھیالیس (46) سو میٹر کی بلندی سے مقبوضہ کشمیر کی وادیِ لداخ میں داخل ہوتا ہوں۔ لہہ سے تیس (30) کلومیٹر دور میری پہلی ڈسٹری بیوٹری دریائے ’زنگسار‘…