کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (آٹھویں اور آخری قسط)
’دُریجی‘ کے قدیم اور خاموش قبرستان سے واپسی کا ارادہ کرتے وقت شام اپنے پراسرار سائے پھیلا رہی تھی۔ تیز اور سرد ہوائیں چل رہی تھیں اور دن بھر کی مسافت کی تھکن جسم پر غالب آ چکی تھی۔ صبح سے ’تؤنگ شریف‘ اور اس کے گردونواح کے کٹھن راستوں میں مسلسل موٹر…
وہ شخص جس نے کراچی کو اُس کی گمشدہ روح واپس دی
آج سر گل حسن کلمتیؔ کی تیسری برسی ہے۔ گزشتہ روز 16 مئی کی شام، ہم نے اُن کے اپنے گاؤں ملا عرضی گوٹھ، گڈاپ، ملیر میں انتہائی عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ اُن کی یاد میں ایک اجتماع منعقد کیا۔ وہاں صرف لوگ جمع نہیں تھے، بلکہ یادیں، نظریے، جدوجہدیں اور ایک…
برطانوی دور میں ملیر کے سماجی، سیاسی اور انتظامی حالات
فاروق سرگانی کے اس بلاگ کا ویڈیو ورژن بھی دستیاب ہے، جسے آپ صفحے کے آخر میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایچ ہیوز ایک برطانوی افسر تھے، جنہوں نے سندھ اور بلوچستان کے بارے میں کئی سفرنامے تحریر کیے۔ انہوں نے سندھ کے تقریباً تمام علاقوں کا دورہ کیا اور 1876 میں…
اراولی مزاحمت، کارونجھر جدوجہد اور کھیرتھر پر مسلط خاموشی
جب کسی خطے میں پہاڑ خطرے میں پڑ جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں صرف قدرت نہیں، انسان بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ آج ہندوستان کے گجرات و راجستھان میں اراولی، سندھ کے تھر میں کارونجھر اور کراچی کے کنارے کھیرتھر اسی انجام کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ…
ممنوعہ علاقہ: کِھیْرتَھر نیشنل پارک
”زمین کوئی سرمایہ نہیں جس پر ہمارا مالکانہ حق ہو، بلکہ یہ وہ مقام ہے جس کے لیے ہمیں اس کی عطا کردہ زندگی کے تحفے کے بدلے اخلاقی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ یہاں وہ سوال ہے، جس کا ہمیں آخرکار سامنا کرنا ہوگا: کیا زمین محض اشیاء کا ذریعہ ہے، یا یہ ہمارے سب…