وہ شخص جس نے کراچی کو اُس کی گمشدہ روح واپس دی

حفیظ بلوچ

آج سر گل حسن کلمتیؔ کی تیسری برسی ہے۔ گزشتہ روز 16 مئی کی شام، ہم نے اُن کے اپنے گاؤں ملا عرضی گوٹھ، گڈاپ، ملیر میں انتہائی عقیدت، محبت اور احترام کے ساتھ اُن کی یاد میں ایک اجتماع منعقد کیا۔ وہاں صرف لوگ جمع نہیں تھے، بلکہ یادیں، نظریے، جدوجہدیں اور ایک پورا عہد موجود تھا۔ ہر چہرہ اس شخص کو یاد کر رہا تھا جس نے اپنی پوری زندگی اس دھرتی، اس کے لوگوں، اس کی تاریخ اور اس کے مستقبل کے نام کر دی۔

گل حسن کلمتیؔ صرف ایک مصنف، محقق یا تاریخ دان نہیں تھے، وہ کراچی کی گمشدہ روح کے تلاش گر تھے۔ وہ اُن معدودے چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اس شہر کو صرف عمارتوں، سڑکوں اور بندرگاہوں کے مجموعے کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے نسلوں کی یاد، تہذیبوں کے تسلسل، محنت کش لوگوں کے خوابوں اور مزاحمت کی تاریخ کے طور پر سمجھا۔

جب کراچی کو اُس کی اصل شناخت سے کاٹا جا رہا تھا، جب اس شہر کی تاریخ کو صرف ہجرت، تجارت اور طاقتوروں کی کہانی بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، تب ایک شخص ملیر، لیاری، گڈاپ، سندھ بلوچستان کے ساحلوں، گوٹھوں، قبرستانوں، کھنڈرات اور قدیمی بستیوں میں پیدل گھوم کر اس شہر کی اصل داستان جمع کر رہا تھا۔ وہ شخص گل حسن کلمتیؔ تھا۔
”ھڪ رٺل شھر جي ڪھاڻي“ سے شروع ہونے والا سفر ”ڪراچي سنڌ جي مارئي“ تک پہنچا، اور پھر “Karachi: Glory of the East” کے ذریعے دنیا کے سامنے یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ کراچی صرف ایک جدید بندرگاہ نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط تہذیبی سفر کا امین شہر ہے۔ ایک ایسا شہر جسے ماہی گیروں، کسانوں، مزدوروں، بلوچوں، سندھیوں، میمنوں، پارسیوں، یہودیوں، عیسایوں، ہندوؤں، کچھیوں اور بے شمار مقامی برادریوں نے اپنے خون، پسینے اور محبت سے تعمیر کیا۔

سر گل حسن کلمتیؔ نے کراچی کو ”سندھ کی ماروی“ کہا۔ ماروی، جو اپنی دھرتی سے عشق کی علامت ہے۔ وہ کراچی کو بھی ایک ایسی ہی ماروی سمجھتے تھے، جسے اس کی اپنی زمین، اپنی شناخت اور اپنے لوگوں سے جدا کیا جا رہا تھا۔

جب وہ سندھ کے ساحلوں، جزیروں اور ماہی گیروں کی بستیوں کی طرف نکلے تو ”ڪراچي جا سامونڊي ٻيٽ“ جیسا شاہکار وجود میں آیا۔ اُنہوں نے دنیا کو بتایا کہ سمندر صرف پانی نہیں ہوتا، سمندر کے کنارے آباد نسلوں کی یادیں، رزق، ثقافت اور تاریخ بھی ہوتی ہے۔ اُنہوں نے اُن ماہی گیروں کی کہانیاں لکھیں جنہیں کبھی تاریخ کی کتابوں میں جگہ نہیں ملی۔

اور جب وہ سر رخمان گل پالاری کے ساتھ بھنبور کے کھنڈرات سے سسئی کے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے کیچ کی جانب نکلتے ہیں، تو ”سسئيء جي واٽ“ تخلیق ہوتی ہے۔ پھر پہاڑ صرف پہاڑ نہیں رہتے، دریا صرف دریا نہیں رہتے، راستوں کے پتھر بھی تاریخ کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سُر، سسئی کی آہیں، اور دھرتی کی صدیوں پرانی یادیں ایک زندہ حقیقت بن جاتی ہیں۔

لیکن گل حسن کلمتیؔ صرف ماضی کے مورخ نہیں تھے۔ وہ اپنے عہد کے مزاحم انسان بھی تھے۔ جب ملیر، گڈاپ، کیرتھر اور سندھ کی زمینوں پر قبضے کی یلغار ہوئی، جب سرمایہ، طاقت، ریاستی سرپرستی اور زمین خور مافیا نے دھرتی کو نگلنا شروع کیا، تب سر گل حسن کلمتیؔ نے خاموش رہنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ چنا۔ اُنہوں نے ہم جیسے عام کارکنوں کو جمع کیا، حوصلہ دیا، شعور دیا، اور سندھ انڈیجینئس رائیٹس کی جدوجہد کو نظریہ بھی دیا اور راستہ بھی۔

وہ جانتے تھے کہ سامنے صرف ایک ہاؤسنگ پراجیکٹ نہیں، بلکہ طاقت، سرمایہ، ریاستی جبر اور لالچ کا پورا نظام کھڑا ہے۔ اُنہیں لالچ دیے گئے، دباؤ ڈالا گیا، دھمکیاں دی گئیں، اُن کی گاڑی میں گولیاں رکھی گئیں، اُن کے ساتھی دوست سر رخمان گل پالاری کی جیپ پر حملے ہوا، مگر وہ نہیں جھکے۔ اُنہوں نے عدالتوں میں دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا کیا، مگر حق بات کہنا نہیں چھوڑا۔ یہی اُن کی عظمت تھی۔ وہ صرف کتابیں لکھنے والے شخص نہیں تھے، وہ اپنی تحریروں پر چلنے والے انسان تھے۔

لوگ اکثر قلم کو ہتھیار کہتے ہیں، مگر گل حسن کلمتیؔ نے قلم کو عمل سے جوڑا۔ وہ پریس کلبوں میں کھڑے ہو کر طاقت کے ایوانوں کو للکارتے تھے۔ وہ سیمیناروں میں صرف تقریریں نہیں کرتے تھے، بلکہ میدانِ عمل میں بھی موجود ہوتے تھے۔ اُنہوں نے تاریخ کو صرف محفوظ نہیں کیا، بلکہ تاریخ کے تسلسل کو بچانے کی جدوجہد بھی کی۔

بیماری کے آخری دنوں میں بھی اُن کے ہاتھ میں قلم اور کاغذ تھا۔ جسم کمزور ہو رہا تھا، مگر اُن کی فکر، اُن کا عشق اور اُن کا عزم زندہ تھا۔ شاید اسی لیے وہ آج بھی زندہ محسوس ہوتے ہیں۔ سر گل حسن کلمتیؔ نے جتنا لکھا، اُس سے زیادہ سفر کیا۔ اور جتنا سفر کیا، اُس سے زیادہ اس دھرتی سے محبت کی۔

آج اُن کی تیسری برسی پر ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مر کر بھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ راستہ بن جاتے ہیں۔ نظریہ بن جاتے ہیں۔ ضمیر کی آواز بن جاتے ہیں۔
لالہ یوسف مستی خان اور سر گل حسن کلمتیؔ آج اگرچہ ہماری نظروں سے اوجھل ہیں، مگر اُن کی جدوجہد، اُن کا نظریہ، اُن کی للکار اور اُن کی محبت آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہے۔ اور ہم، جو اُن کے قافلے کے مسافر ہیں، یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اس دھرتی، اس تاریخ، اس شہر اور اس کے لوگوں کی جنگ کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

گل حسن کلمتیؔ نے ہمیں سکھایا تھا کہ زمین صرف زمین نہیں ہوتی، یہ لوگوں کی یاد، شناخت، محبت اور تاریخ ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اپنی دھرتی سے عشق کرتے ہیں۔۔۔ وہ کبھی مر نہیں سکتے۔

____________________

____________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button