ایک جوتشی کا دن (بھارتی ادب سے منتخب افسانہ)
حسبِ معمول بہت پابندی سے دوپہر کے وقت اس نے اپنا تھیلا کھولا اور اپنا پیشہ ورانہ ساز و سامان پھیلایا، جو کہ ایک درجن کوڑیوں، ایک چوکور کپڑے کے ٹکڑے، جس پر مبہم اور پراسرار زائچے بنے ہوئے تھے، ایک بیاض اور تاڑ کی چھال کی لکھی ہوئی تختیوں کے بنڈل پر مشتمل…
جوئیں (ڈنمارک کے زیر انتظام، نیم خود مختار جزائر فیرو کی ایک کہانی)
لِنگوریہ سے تھوڑی دور شمال میں، ڈھلوان کے سب سے زیادہ مضبوط حصے پر ایک تنہا مکان ہے اور اِس گھر کے آس پاس کھیتیاں ہیں۔ یہاں کلور اور اُس کے والدین رہتے تھے۔ کلور جب بیس سال کا تھا تو اس کی ماں فوت ہو گئی تھی اور اس کا باپ بستر پر جا…
دو دوست (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
پیرس محاصرے میں تھا۔قحط زدہ تھا۔ محسوس ہوتا تھا جیسے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ چھتوں پر سے چرند پرند غائب ہو چکے تھے۔۔ اور شہر کے گٹر خشک ہو چکے تھے۔ لوگوں کو جو ملتا، کھا لیتے۔ جنوری کی ایک چمکیلی صبح جناب موریسوٹ، جو پیشے کے لحاظ سے گھڑی ساز تھا، لیکن…
جنگ کی چھاؤں تلے (نائجیرین ادب سے منتخب افسانہ)
اس دن تین فوجی گاؤں آئے۔۔ ان کو دیکھ کر بکریاں اور مرغیاں تتر بتر ہو گئیں۔۔ وہ بار گئے اور کھجور کی شراب کا آرڈر دیا۔۔ وہ اڑتی مکھیوں کے درمیان شراب پیتے رہے۔۔۔ ’اموو‘ کھڑکی میں بیٹھا باپ کے جانے کا منتظر تھا اور انہیں دیکھتا جا رہا تھا۔۔ باپ بیٹے نے…
چوکیدار کی بیوی
کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔ یہ موسمِ گرما کا شدید ترین اور بلند ترین سطح کا ریکارڈ درجۂ حرارت تھا۔ انیتا سورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی، کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔…
ریشمی جُرابوں کا ایک جوڑا
ننھی مسز سمرس کو ایک روز غیر متوقع طور پر پندرہ ڈالر کے مالکانہ حقوق حاصل ہو گئے۔ اس کے نزدیک یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس کا پھٹا پرانا بٹوہ جس طرح ان پیسوں سے ٹھنسا ہوا تھا، اس نے مسز سمرس کو عجیب سی تسکین دی۔ ایسا لطف، جس سے وہ سالہا سال…
رکاوٹوں کے درمیان (فلسطینی ادب سے منتخب افسانہ)
وقت رک سا گیا تھا۔ میں نے اپنی شرٹ کی جیب سے ایک سگریٹ نکالی اور سلگالی۔ میں مسکراتے ہوئے مسلسل اس کے چہرے کی طرف دیکھے جارہا تھا ”برائے مہربانی سگریٹ بجھا دیں۔۔ یہاں موجود آکسیجن ہمارے لیے ناکافی نہ ہو۔“ اس نے کہا ”کیا آپ اتنی خوفزدہ ہیں؟“ میں نے…
ایک تھا بادشاہ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اسی کرہ ارض پر ایک ایسا ملک آباد تھا، جہاں باتیں بہت زیادہ ہوتی تھیں اور کام بہت کم۔۔ پرانے زمانے میں جس طرح باقی سب ملکوں میں ایک ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا، اس ملک میں بھی ایک بادشاہ حکمران تھا۔ رعایا کو بادشاہ ایک آنکھ نہ بھاتا۔…