Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

رکاوٹوں کے درمیان (فلسطینی ادب سے منتخب افسانہ)

By Akhtar Rasool
اپریل 23, 2023 4 Min Read
0

وقت رک سا گیا تھا۔ میں نے اپنی شرٹ کی جیب سے ایک سگریٹ نکالی اور سلگالی۔ میں مسکراتے ہوئے مسلسل اس کے چہرے کی طرف دیکھے جارہا تھا

”برائے مہربانی سگریٹ بجھا دیں۔۔ یہاں موجود آکسیجن ہمارے لیے ناکافی نہ ہو۔“ اس نے کہا

”کیا آپ اتنی خوفزدہ ہیں؟“ میں نے پوچھا ”مجھے اپنی زندگی بہت عزیز ہے، اور یہ جان کر میں بہت دکھی ہوں کہ کچھ دیر میں موت مجھے آ لے گی، وہ بھی ایک خوبصورت حسینہ کے اتنے نزدیک۔۔۔“

”تم کتنے بدتمیز ہو!“ اس نے یہ کہتے ہوئے منہ دوسری طرف موڑ لیا

اس کو کپکپاتا دیکھ کر میں دل ہی دل میں مسکرایا۔

اس کی بیچارگی دیکھ کر مجھے مزا آرہا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ میری کمینگی تھی۔۔۔ جو کچھ بھی ہو رہا تھا۔ میں اس سے خوش تھا۔ تاہم اس کے شانوں پر گرتی ہوئی خوبصورت زلفوں کو دیکھ کر میں نے اپنی سگریٹ بجھا دی
”اب تو تم خوش ہو نا؟“

اس نے کوئی جواب نہ دیا اور کچھ دیر تک خاموش ہی رہی۔ اس نے اپنے دستی بیگ سے رومال نکالا اور اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا ”وہ کب آئیں گے؟ میرا تو دم گھٹ رہا ہے۔ ایک دفعہ گھنٹی کا بٹن دباؤ۔ برائے مہربانی ایک دفعہ اور کوشش کرو۔“

”ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں، اگرچہ جب سے یہ لفٹ خراب ہوئی ہے، میں کئی مرتبہ کوشش کر چکا ہوں۔“ میں نے زور سے اپنا ہاتھ دروازے پر مارا، مگر کوئی فائدہ نہیں

”کیا اب میں مرجاؤں گی؟ آج صبح ہی میں سوچ رہی تھی کہ آج کا دن میرے لیے اچھا نہیں ہے۔۔ مگر میں سوچتی تھی کہ میری موت شاید کسی مختلف انداز میں ہو۔۔۔۔۔ کسی زلزلہ میں۔۔۔ کسی کار حادثہ میں۔۔۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری موت دم گھٹنے سے ہوگی اور یہ کہ میں اپنے مکمل ہوش و حواس میں موت کو گلے لگاؤں گی۔“

”کیا تم افسردہ ہو؟“

”تو کیا مجھے خوش ہونا چاہیے؟“ اس نے دھیمے غمزدہ لہجے میں طنز کیا

”میرا خیال ہے کہ تمہیں اپنی نیکیاں گننی چاہیں۔“

”پر کیوں؟“

”کیونکہ تم جوان ہو، خوبصورت ہو اور دیکھنے میں خوشحال لگتی ہو۔۔“

”کیا تم اپنی زندگی سے خوش ہو؟“

”اپنی پیدائش سے لے کر آج تک میری زندگی میں اس سے پُر لطف دن کوئی نہیں آیا۔“

”تم تو بڑے پیچیدہ انسان ہو، باتوں سے تو پاگل ہی لگتے ہو۔“

”نہیں۔۔ بلکہ میں حقیقت پسند ہوں۔ میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کسی خوب صورت لڑکی سے بات کروں گا۔ اب یہ دیکھو میرا خواب تو سچ ہو گیا۔“

”تمہاری ان باتوں سے مجھے خوف آتا ہے۔ تم تو کہہ رہے ہو کہ ہم مرنے جا رہے ہیں۔ میں تو مرنا نہیں چاہتی!“

کچھ دیر خاموشی رہتی ہے۔۔ ”تمہارے بیوی بچے ہیں؟“ اس نے پوچھا… ”تم یہاں کام کرتے ہو؟“

”میں اس عمارت کا لفٹ آپریٹر ہوں۔ کیا تم نے میرے کپڑے نہیں دیکھے؟ مگر تم کیا کرتی ہو؟ یہاں کیوں آئی ہو؟“

”میں کام سے تھک چکی ہوں اور چھٹیوں پر یورپ جانے والے قافلے میں شریک ہونا چاہتی ہوں“

”۔۔۔۔۔۔آہ! ۔۔۔ افسوس۔۔۔“

”کیا تم مذاق اڑا رہے ہو؟“

”نہیں۔۔ مگر یہ صورتِ حال ضرور۔۔۔۔۔۔ مجھے سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے“ میں بڑبڑایا۔

”اور میرا تو دم گھٹ گیا ہے۔۔۔۔۔۔“

اس نے اپنا دستی بیگ زمین پر گرا دیا اور دیوار سے ٹیک لگا دی۔ میں نے شیشے میں اس کے زرد پڑتے چہرے کا عکس دیکھاش اس کے ماتھے پر پسینہ بہہ رہا تھا۔ وہ رو پڑی۔

میں نے اس کو حوصلہ دینے کی کوشش کی۔ اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے کندھوں کو تھپتھپایا۔ میں نے جوشِ جذبات میں اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں اس زور سے تھاما کہ ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ میری انگلیوں کے نشان اس کے رخسار پر نہ گڑ جائیں۔

ہمارے درمیان مکمل خاموشی تھی۔۔
میں تو تقریباً رو رہی پڑا۔۔۔ اس کے بارے میں سوچ کر یا شاید یہ آنسو میرے اپنے لیے تھے۔۔

میں نے پھر سے ہمت کی اور اس سے پوچھا، ”تمہارا نام کیا ہے؟“

”ہنان“

”ایسا لگتا ہے، جیسے ساری دنیا کا درد تمہاری آنکھوں میں سمٹ آیا ہے“

”اور ساری دنیا کا کھوکھلا پن تمہاری آنکھوں سے عیاں ہے۔“
اس نے بس یہ کہا ہی تھا کہ لفٹ نے حرکت کرنا شروع کر دی

وہ خوشی سے چلائی۔ بچے کی طرح چھلانگ لگائی، عورت کی طرح قہقہہ لگایا۔ وہ اپنے آپ کو لے کر بہت خوش تھی۔۔ اس دوران میں سوچ رہا تھا کہ میں اس سے کیسے کہوں کہ وہ پھر کب ملے گی۔ جب اس نے دیکھا کہ میں خاموش اور افسردہ ہوں تو وہ پُرسکون ہو گئی۔ اس نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتے ہوئے اپنے بال سنوارے کپڑے سیدھے کیے۔ پھر اپنا پرس اٹھایا اور کہا،
”برائے مہربانی۔۔ پانچویں منزل۔۔۔ جلدی کریں!“
اس نے شستگی سے کہا۔۔اس کا لہجہ تحکمانہ تھا!

Tags:

bedtime storiescomedy storiesdream stories ki dunyafairy tales stories in urduhindi storieshow to be a palestinian supermumkoo koo tv urdu storieslateast moral storiesmoral storiesmoral stories in urdunew stories in urduPalestinianpalestinian authoritypalestinian christianpalestinian flagpalestinian gunmenpalestinian heritagePalestinian Presidentpalestinian statepalestinian supermumpalestinian territoriespalestinian territorypalestinian unitypalestinian womenPalestinianspalestinians: stories of resistancepanchatantra storiesreal storiesreal stories documentaryreal stories full documentaryStoriesstories for kids in urdustories in urdustories in urdu newstories of resistancestories urduurdu fairy tales new stories 2020urdu fairy tales storiesurdu moral storiesUrdu Short StoriesUrdu Storiesurdu stories for kids
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (پہلا حصہ)

Next

پاکستان کی سرکاری کمپنیاں ایشیا کے بدترین ادارے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme