الفاظ کا سفرنامہ۔ زبانیں (تیسرا اور آخری حصہ)
ہندی علماء تہذیب و تمدن و تاریخ کے مطابق یہاں انسانوں کا پہلا گروہ ان سیاہ فام لوگوں کا آیا ہے، جسے مجموعی طور پر نیگرئیو یا حبشی نما کہا جاتا ہے۔ بقول سیتیا کمارچیٹرجی، یہ اتنے بے استعداد لوگ تھے کہ خود کو نسلوں کے سیلاب میں برقرار نہ رکھ سکے اور معدوم…
الفاظ کا سفرنامہ۔ زبانیں (دوسرا حصہ)
ہم لسانیات کے موضوع پر آتے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ زبانیں بھی چلتی ہیں، یوں دنیا میں بہت ساری زبانیں بنتی گئیں۔ انسانوں کی طرح زبانوں کے درمیان بھی جب اختلاط ہوتا ہے تو نئی نئی زبانیں وجود میں آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چشمے کا پانی جب بہتا ہے تو اس میں کئی…
الفاظ کا سفرنامہ ۔ زبانیں (پہلا حصہ)
اس زمین پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے، جب ہر طرف عظیم الحبثہ جانداروں کا راج تھا۔ اس دور کو طبعیاتی اصطلاح میں ’’جوراسک دور‘‘ کہا جاتا ہے، ان بڑے بڑے ’’ڈینوسار‘‘ قسم کے جانوروں کی خوراک چھوٹے جانور تھے چنانچہ چھوٹے جانوروں نے بھی جان بچانے کے لیے مختلف…
مصنوعی ذہانت سے نیوزی لینڈ کے آبائی باشندوں کو نو آبادیت کا خوف
جب امریکی ٹیکنالوجی فرم اوپن آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اوپن اے آئی) نے نیوزی لینڈ کی مقامی زبان ’ماوری‘ سمیت درجنوں زبانوں کے لیے آڈیو ٹرانسکرپشن اور انگریزی میں ترجمہ کرنے والی ایپ ’وسپر‘ متعارف کروائی تو نیوزی لینڈ کے بہت سے آبائی باشندوں کے لیے خطرے کی…
معدومی کے خطرے سے دوچار زبانوں کا تحفظ
ہم میں سے کئی لوگ ایک سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں یا جانتے ہیں لیکن پھر بھی ہم اپنی زندگیوں میں ان زبانوں کی اہمیت اور ان کے کردار سے واقف نہیں ہوتے ہم یہ تصور کرلیتے ہیں کہ زبان بس رابطے کا ایک ذریعہ ہے اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری شناخت،…
جب زبان نہیں تھی تو لوگ کرتے کیا تھے؟
ہم لوگوں کے مسئلے کیا ہوتے ہیں؟ پانی نہیں آ رہا، گیس بند ہو گئی، بچوں کی فیس دینی ہے، کام والی باجی نہیں آئیں، موزے نہیں دھلے، مہینے کے آخر میں پیسے کم پڑ گئے، جون میں بجلی نہیں ہے، دسمبر میں گیس چلی گئی، ٹائر پنکچر ہو گیا، صابن ختم ہے۔۔۔ ایک لمبی…
کراچی کی جیل کے قیدی، جو چینی زبان سیکھ رہے ہیں
کراچی کے رہائشی اسلم (فرضی نام) ایک کرمنل کیس میں گرفتاری کے بعد سینٹرل جیل میں قید ہیں، لیکن جیل میں سب انہیں ’چینی ٹیچر‘ کے طور پر جانتے ہیں اسلم بتاتے ہیں ”میں چین کی ووہان یونیورسٹی سے پڑھا ہوں اور پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں چائنیز زبان سکھاتا…
یہ ’مسائلِ تلفظ‘ یہ ترا بیان غالب
پانی سے سگ گَزیدہ ڈرے جس طرح اسد، ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گَزیدہ ہوں۔۔۔ اسد اللہ خاں غالب کا یہ شعر آدم گزیدگی سے پیدا ہونے والی آدم بیزاری کی اُس شِدَّت کا اظہار ہے، جب انسان خود سے بھی خوف کھاتا ہے۔ سرِدست اس شعر میں دلچسپی کا محور لفظ ’گَزیدہ‘ ہے…