Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کراچی کی جیل کے قیدی، جو چینی زبان سیکھ رہے ہیں

By Akhtar Rasool
نومبر 28, 2022 3 Min Read
0

کراچی کے رہائشی اسلم (فرضی نام) ایک کرمنل کیس میں گرفتاری کے بعد سینٹرل جیل میں قید ہیں، لیکن جیل میں سب انہیں ’چینی ٹیچر‘ کے طور پر جانتے ہیں

اسلم بتاتے ہیں ”میں چین کی ووہان یونیورسٹی سے پڑھا ہوں اور پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں چائنیز زبان سکھاتا ہوں۔ ابھی جیل انتظامیہ کی طرف سے مجھے ایک اچھا موقع ملا ہے کہ میں یہاں قیدیوں کو چینی زبان سکھاؤں“

پاکستانی نوجوانوں میں چینی زبان سیکھنے کے رجحان میں اس وقت اضافہ ہوا، جب 2015ع میں اسلام آباد نے بیجنگ کی مالی معاونت سے چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کی بنیاد رکھی

اسی طرح کراچی یونیورسٹی میں بھی کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے نام سے چینی زبان سکھانے کا ایک شعبہ بیجنگ کی مالی مدد سے 2013ع میں قائم کیا گیا

تاہم رواں برس 26 اپریل کو ایک خاتون خودکش بمبار نے کراچی یونیورسٹی میں واقع کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے گیٹ پر چینی اساتذہ کی گاڑی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین چینی اساتذہ اور ان کے ایک پاکستانی ڈرائیور ہلاک ہوگئے

چینی انسٹیٹیوٹ پر حملے کے بعد بیجنگ نے کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی یونیورسٹی میں چینی زبان سکھانے والے گیارہ اساتذہ کو واپس بلا لیا تھا

اس کے بعد سے گذشتہ چھ ماہ سے ان یونیورسٹیوں میں چینی زبان سیکھنے والے تقریباً ڈھائی ہزار طلبہ و طالبات کی تعلیم کا سلسلہ تاحال رکا ہوا ہے

دونوں یونیورسٹیوں کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا تھا کہ طلبہ و طالبات کے لیے چینی زبان کی آن لائن کلاسز شروع کروائی جائیں، تاہم ان یونیورسٹیوں میں تاحال اس منصوبے پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے

لیکن کراچی سینٹرل جیل میں قید اسلم نے یہ سلسلہ گذشتہ چھ ماہ سے جاری رکھ ہوا ہے، جو ایک معمولی نوعیت کے کرمنل کیس میں ملوث ہونے کی وجہ سے گرفتار ہوئے

وہ بتاتے ہیں ”میں یہاں قیدیوں کو چینی زبان سکھا رہا ہوں اور مجھے اس کا رسپانس بہت اچھا مل رہا ہے کہ قیدی بہت توجہ سے یہ زبان سیکھ رہے ہیں“

ان کا کہنا ہے ”چینی زبان سکھانے کا مقصد یہ ہے کہ روز بروز ہمارے چین کے ساتھ تعلقات اچھے ہوتے جائیں، جس کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ زبان سیکھیں“

انہوں نے کہا ”روز بروز ہمارے طلبہ بڑھ رہے ہیں۔ ان کا رجحان بھی ہے چائنیز سیکھنے کا اور ان کا ارادہ ہے کہ یہاں سے نکلنے کے بعد اپنی زندگی کو اچھے طریقے سے گزارا جائے اور جو کچھ یہاں پر سیکھ رہے ہیں اسے باہر جا کر استعمال کیا جائے“

اسلم نے بتایا ”میں نے کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ سے چینی زبان پڑھی ہے۔ مجھے بہت افسوس ہوا تھا جب مجھے پتہ چلا کہ کچھ چینی ٹیچرز دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، جنہوں نے مجھے بھی پڑھایا اور یہ بھی پتہ چلا کہ پاکستان میں جتنے بھی ٹیچرز تھے وہ واپس چین چلے گئے ہیں“

اسلم کا ماننا ہے کہ ایسے حالات میں پاکستانی اساتذہ کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں

انہوں نے کہا ”پہلے ہم نارمل طریقے سے چائنیز پڑھا رہے تھے، لیکن اب چینی ٹیچرز نہ ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں کو ہر جگہ خود کو دستیاب رکھنا ہے اور پاکستانیوں کو اچھے طریقے سے پڑھانا ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بچوں کو زیادہ سے زیادہ چائنیز پڑھائیں اور اچھے طریقے سے پڑھائیں تاکہ وہ اچھے طریقے سے کام کر سکیں“

Tags:

ChineseKarachiLanguage
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ: اپنے ہم شکل بھائی کی جگہ سرکاری نوکری حاصل کرنے والا پکڑا گیا

Next

افغان طلبا نے دُنیا کو حیران کرنے والی سُپر کار کیسے بنائی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme