خزاں کے آنسو
ہانا اومیا چھوٹے سے بحری جہاز کے جنگلے کے پاس خوفزدہ کھڑی تھی۔ جہاز لڑکھڑاتا ہوا امریکہ کی طرف روانہ تھا۔ نومبر کے مہینے میں سمندر بھی خاصا سرد اور خوفزدہ ہوتا ہے۔ وہ سردی سے کانپ رہی تھی۔ اس نے اپنی خاص جاپانی طرز کی بنی ہوئی ریشم کی جیکٹ کو اوپر کر کے…
باپ (نارویجئن ادب سے منتخب افسانہ)
وہ موسمِ سرما کا ایک دن تھا۔ ایک آدمی شہر کے شمالی علاقے کی ایک سڑک پر جمی برف اور پگھلی ہوئی برف کے پانی میں قدم جماتا، گھروں کے نمبروں کو بغور پڑھتا آگے بڑھتا چلاجا رہا تھا۔ اس کی عمر تیس برس سے کچھ اوپر ہی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کا قد…
بیکسیِ پرواز (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
روایت ہے کہ وہ چھ تھے اور انہوں نے کئی دنوں سے سوچ بچار کے بعد بَلا کا مقابلہ کیا، جو شہر کی فصیل پر بیٹھی ہوئی تھی اور کسی کو اندر نہ آنے دیتی اور نہ کسی کو شہر سے باہر جانے دیتی۔ وہ آنے والے اور جانے والے سے ایسے سوال پوچھتی، جن…
ایک کشتی چار مسافر (ترکی ادب سے منتخب افسانہ)
عرشے پر بجھے بجھے بلب کی روشنی میں چار شخص بیٹھے تھے۔ ایک بھورے بالوں والی خاتون، ایک قصاب جس سے کچے گوشت کی بساند آ رہی تھی، ایک گنجے سر والا پروفیسر منہ میں پائپ تھامے، ایک گورا چٹا نوجوان۔۔ چاروں کے پہنچنے سے پہلے ہی آخری اسٹیمر چھوٹ چکا تھا۔ اس کشتی…
چلتے رہنا بھی ایک موت ہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
جوں ہی رات دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوتی ہے، کارنس پر رکھا مجسمہ آہستہ سے نیچے اترتا ہے اور اس کے سرہانے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، وہ پوچھتا ہے۔۔۔ ’’کون؟‘‘ مجسمہ کہتا ہے۔۔۔ ’’میں؟‘‘ ’’میں کون؟‘‘ ’’میں ماضی ہوں۔‘‘ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتا ہے۔۔۔ ’’لیکن میں تمہیں…
سورج مکھی (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آسمان پر صبح کے آثار نمودار ہو چلے تھے۔ یوراگوئے کے اس سرحدی گاؤں میں مقیم فریڈریکو کچی سڑک کے پار سورج مکھی کے پھولوں کے کھیت کو گھور رہا تھا۔ اس کے قیمتی جوتوں پر مٹی تھی یا ریت، اسے اندازہ نہ تھا۔ ہاں البتہ اس کی بیوی لوئیسا فوراََ بتا دیتی۔ لوئیسا…
ایک کہانی اپنے لیے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
زندگی کے طویل خارزار میں وہ مجھے چند لمحوں کے لیے ملتی ہے اور اس کے بعد اداسی کی لمبی شاہراہ ہے، جس پر میں اکیلے ہی سفر کرتا ہوں۔۔ یہ چند لمحوں کی ملاقات ہی اس طویل خارزار میں میرا زادِ راہ ہے۔ مجھے لگتا ہے، میری زندگی ایک نہ ختم ہونے والی اداس…
خزاں گزیدہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہو گئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔ قیدی طوق…