ذات (منتخب اردو افسانہ)
ملک عابد کا پہلا لقمہ ابھی منہ ہی میں تھا کہ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا ذائقہ کڑوا ہو گیا ہے۔ اس نے فوراً پانی کا گلاس منہ سے لگا کر نوالہ نگلا۔ اس کی بیوی نے بات ہی ایسی کردی تھی۔ پچھلے پانچ سالوں میں اس نے گاؤں میں اپنی ساکھ بنانے…
زویا (یوگوسلاوین ادب سے منتخب افسانہ)
جب کسی شخص کی بچپن کی عرفیت لوگ اس کی زندگی کے آخری ایام تک یاد رکھتے ہیں تو یہ خود اس کے اور لوگوں میں اس کی حیثیت کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔ میری ذاتی یادوں میں ایک بوڑھی ناتواں عورت ہمیشہ زندہ رہتی ہے جو ہمیشہ سرمئی اسکارف باندھتی تھی اور…
کھیت میں پیدا ہونے والا بچہ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
کپاس کے کھیت میں حدِ نظر پندرہ بیس مزدور مرد اور عورتیں دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ کپاس کے تخم دار بوٹوں کے اطراف میں اُگ آنے والے جنگلی پودوں اور جھاڑیوں کو صاف کررہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ فصل بھی کاٹ رہے تھے۔ درجۂْ حرارت تیز دھوپ میں 41 سینٹی گریڈ تک پہنچا…
وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے۔۔۔ (اُردو ادب سے منتخب تمثیلی افسانہ)
پھر یہی ہوا کہ یاجوج ماجوج رات بھر دیوار کو چاٹا کیے۔۔ یہاں تک کہ دیوار تحلیل ہوتے ہوتے انڈے کے چھلکے کی مانند ہو گئی اور پھر یاجوج ماجوج تھک گئے اور انہیں نیند آنے لگی اور وہ یہ کہہ کر سو گئے کہ باقی دیوار صبح کو چاٹیں گے۔۔ مگر جب وہ صبح…
کیداری کی ماں (انڈین ادب سے منتخب کہانی
تمہید: حال ہی میں جب میں نے اخباروں میں ‘امامی اپالم’ (خالا کے پاپڑ) کا اشتہار دیکھا تو حیران سا رہ گیا کیونکہ مجھے بھاگیرتی امامی یاد آ گئی تھیں۔ جب مجھے ان کے دلارے بیٹے اور اپنے بہترین دوست کیداری کی بے وقت موت کا خیال آیا تو میرے بدن میں بے چینی کی…
انتقامِ اسیر
آج سے آٹھ سال قبل پیرس کے خوبصورت شہر میں ایک غریب مزدور رہتا تھا، اپنے علاوہ اسے دو پیٹ اور پالنے پڑتے۔۔۔۔۔۔ اس کی مالکہ یعنی بیوی اور ننھا سا بچہ۔ میں ناظرین کی خدمت میں حقیقت بیان کر رہا ہوں، جس میں کسی قسم کے تصنع کو دخل نہیں۔ جو کچھ بھی ہے،…
ہیں خواب میں ہنوز (کیوبن ادب سے منتخب افسانہ)
1957 کے آس پاس ایک بوڑھا امریکی جوڑا ہوانا شہر میں ہمارا پڑوسی تھا۔ وہ مبالغے کی حد تک کم آمیز تھے۔ ہم دونوں کے گھروں کا ٹیرس مشترکہ تھا، بس درمیان میں کنکریٹ کی ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارا تو راہ چلتے، لفٹ میں یا گھر میں…
مجھ سے باتیں کرو! (افسانہ)
اس واہیات گاؤں میں ویسے ہی گنتی کے چند بلب تھے، جو کوتاہ قد دیواروں سے ذرا اوپر ٹِکے، سہمے سہمے انداز میں یوں جھانکتے تھے، جیسے شریف زادیاں گلی سے گذرتے کسی وجیہہ اجنبی نوجوان کو سب سے نظریں بچا کر پردوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں۔۔ ایسے میں جونہی لائٹ گئی،…