زمین پر ایک ایسا سمندر بھی ہے، جس کا کوئی ساحل نہیں۔
زمین کے نیلے نقشے پر ایک ایسا سمندر بھی پھیلا ہوا ہے جو کسی ساحل سے آشنا نہیں۔ اس کی لہریں کبھی کسی براعظم کی مٹی کو نہیں چھوتیں، نہ اس کی سرحدوں پر کوئی خشکی کھڑی ہے۔ چاروں طرف سے پانی کی گردش میں گھرا یہ سمندر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سمندروں کے…
سمندر، ساحل کی سرحدوں کو ماننے سے انکار کر رہا ہے!
ہمارے شہروں کے نیچے ایک بے چین لہر سانس لے رہی ہے۔ روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں ہم اسے سنتے نہیں، مگر وہ ہمیں مسلسل دیکھ رہی ہے۔ سمندر جو ہمیشہ چھٹیوں، شام کی ہوا اور نمکین لہروں کا استعارہ تھا، اب ایک سخت حقیقت بن چکا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی حدود بڑھا رہا…