
زمین کے نیلے نقشے پر ایک ایسا سمندر بھی پھیلا ہوا ہے جو کسی ساحل سے آشنا نہیں۔ اس کی لہریں کبھی کسی براعظم کی مٹی کو نہیں چھوتیں، نہ اس کی سرحدوں پر کوئی خشکی کھڑی ہے۔ چاروں طرف سے پانی کی گردش میں گھرا یہ سمندر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سمندروں کے بیچ ایک تنہا دنیا تیر رہی ہو، ایک ایسا سمندر جس کے کنارے نہیں، جس کا کوئی ساحل نہیں۔
بحرِ اوقیانوس Atlantic Ocean کے بیچوں بیچ ایک حیرت انگیز منظر پوشیدہ ہے۔ تیز رفتار سمندری دھاراؤں کے گھیرے میں ایک ایسا خطہ جہاں پانی غیرمعمولی طور پر پرسکون رہتا ہے۔ یہ جگہ فلوریڈا سے تقریباً 590 میل مشرق میں واقع ہے، لیکن اس کا تعلق کسی ساحلی سرزمین سے نہیں جڑتا۔ اسی پراسرار خطے کو سارگاسو سمندر Sargasso Sea کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے جہاز اس کے پانیوں کو چیرتے ہوئے گزرتے رہے ہیں، لیکن جب وہ اس کے شفاف اور گہرے نیلگوں پانی میں داخل ہوتے ہیں تو اکثر انہیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک الگ سمندر کی حد میں قدم رکھ چکے ہیں۔
جو ملاح یہاں کچھ دیر رکتے ہیں، وہ ایک عجیب منظر دیکھتے ہیں۔ پانی کی سطح سنہری بھورے رنگ کی سمندری گھاس سے اٹی ہوئی ہوتی ہے جسے سارگاسَم کہا جاتا ہے۔ یہ نام پرتگالی لفظ sargaço سے نکلا ہے، جو انگور کے گچھوں جیسی الجی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ پودے پانی کی سطح پر آہستہ آہستہ تیرتے رہتے ہیں، جیسے کسی وسیع میدان میں سوکھی گھاس کے ہلکے گولے ہوا کے بغیر بھی دھیرے دھیرے سرکتے رہیں۔
کچھ ہی لمحوں میں یہ خاموشی ایک پراسرار فضا میں ڈھل جاتی ہے۔ نہ لہروں کی گرج سنائی دیتی ہے اور نہ چٹانوں پر بیٹھے پرندوں کی آوازیں۔۔ لیکن اس خاموش سطح کے نیچے زندگی کی ایک بھرپور دنیا سانس لے رہی ہوتی ہے۔ چاول کے دانے جتنے چھوٹے جھینگے، نیون روشنی کی طرح چمکتے ننھے مچھلی کے بچے، چینی مٹی جیسے سفید کیکڑے، اور حتیٰ کہ لاگرہیڈ کچھوؤں کے نومولود بچے بھی، جو اپنی زندگی کے پہلے میل اسی گھاس کے درمیان تیرتے ہوئے طے کرتے ہیں۔
بعض اوقات یہ تیرتی ہوئی گھاس اتنی گھنی ہو جاتی ہے کہ ابتدائی ہسپانوی ملاحوں کو خوف ہونے لگتا تھا کہ کہیں ان کے لکڑی کے جہاز اس میں پھنس نہ جائیں۔ کرسٹوفر کولمبس نے 1492 میں اپنے سفرنامے میں لکھا تھا کہ یہاں جہاز اس طرح ٹھہر سکتے ہیں جیسے انہیں پھر کبھی ”ہوا کا جھونکا بھی نصیب نہ ہو۔“
بے ساحل سمندر، لیکن کیسے ؟
سارگاسو سمندر کا ساحل نہ ہونا سننے میں عجیب لگتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔
عام طور پر سمندروں کی سرحدیں خشکی سے بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر عربی سمندر پاکستان، بھارت اور عمان کے ساحلوں سے جا ملتا ہے، اس لیے ہمیں اس کے کنارے نظر آتے ہیں۔ لیکن سارگاسو سمندر کی حالت مختلف ہے۔ یہ سمندر دراصل خشکی سے نہیں بلکہ سمندری دھاراؤں (پانی کی تیز گردش کرنے والی لہروں) سے گھرا ہوا ہے۔
بحر اوقیانوس کے بیچ میں چار بڑی سمندری دھارائیں ایک دائرے کی شکل میں گھومتی رہتی ہیں: گلف اسٹریم، نارتھ اٹلانٹک کرنٹ، کینری کرنٹ اور نارتھ ایکویٹوریل کرنٹ۔ یہ چاروں دھارائیں مل کر پانی کا ایک بڑا گھومتا ہوا حلقہ بناتی ہیں۔ اس حلقے کے اندر جو پرسکون پانی رہ جاتا ہے، وہی سارگاسو سمندر کہلاتا ہے۔
اس کو یوں سمجھیں کہ اگر کسی تالاب میں پانی کو چاروں طرف سے گھما دیا جائے تو درمیان میں ایک حصہ ایسا بن جاتا ہے جہاں پانی نسبتاً ٹھہرا ہوا رہتا ہے۔ اسی طرح سمندر کی دھارائیں بھی درمیان میں ایک ”پرسکون دائرہ“ بنا دیتی ہیں۔ اسی لیے اس سمندر کے کنارے خشکی نہیں بلکہ پانی کی دھارائیں ہیں۔ اس وجہ سے اسے دنیا کا واحد سمندر کہا جاتا ہے جس کا کوئی ساحل نہیں۔ سادہ الفاظ میں:
یہ سمندر زمین سے نہیں بلکہ پانی سے گھرا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
منچھر جھیل: خاموش زہر اور ڈوبتی تہذیب کی المناک کہانی
فوٹوگرافی کی تاریخ: ایک خوبصورت سفر کی دلچسپ کہانی، جس نے دنیا بدل دی
ایک تیرتا ہوا جنگل
سارگاسو سمندر دراصل تقریباً آٹھ سو میل چوڑی ایک قدرتی نرسری کی طرح ہے۔ سائنس دان ان گھاس کے جُھنڈوں کو ”رہائشی جزیرے“ کہتے ہیں، اور واقعی یہ ننھے جانداروں کے لیے عارضی جزیرے ہی ہیں۔ نوجوان کچھوے یہاں اس وقت تک پناہ لیتے ہیں جب تک ان کے خول مضبوط نہ ہو جائیں۔
پوربیگل شارک ان گھاس کے نیچے سایوں میں خاموشی سے تیرتی ہیں، جبکہ برمودا کے طوفانی پرندے اوپر سے منڈلاتے ہوئے اچانک غوطہ لگا کر جھینگے دبوچ لیتے ہیں۔
محققین نے اس گھاس سے جڑی سو سے زیادہ بے ریڑھ کی ہڈی والی انواع شمار کی ہیں، ننھے جاندار جو برسوں تک انہی تیرتے ہوئے جُھنڈوں کے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ایک دن یہ گھاس بکھر جاتی ہے اور ان کی عارضی دنیا ختم ہو جاتی ہے۔
ہجرت کی حیران کن کہانیاں
یورپی اور امریکی بام مچھلیاں اپنی زندگی کا آغاز بھی اسی سمندر کی گھاس کے نیچے کرتی ہیں۔ ابتدا میں وہ شفاف دھاگوں کی طرح باریک ہوتی ہیں۔ پھر سمندری دھارائیں انہیں مشرق یا مغرب کی طرف بہا لے جاتی ہیں اور وہ دریاؤں میں داخل ہو کر امریکہ کے اندرونی علاقوں، حتیٰ کہ انڈیانا جیسے مقامات تک پہنچ جاتی ہیں۔
وہ کئی دہائیوں تک میٹھے پانی میں گزارنے کے بعد دوبارہ تقریباً تین ہزار میل کا سفر طے کرتی ہیں اور اسی سمندر میں لوٹ آتی ہیں، جہاں وہ ایک بار افزائشِ نسل کر کے اپنی زندگی مکمل کر دیتی ہیں۔
وہ دوبارہ اسی مقام تک کیسے پہنچتی ہیں، یہ راز آج بھی حیاتیات دانوں کے لیے معمہ بنا ہوا ہے۔ ہر بہار کو ہمپ بیک وہیلیں بھی اس سمندر کو عبور کرتی ہیں، جبکہ تیز رفتار ٹونا مچھلیاں اپنے افزائشی راستوں پر سفر کرتے ہوئے یہاں سے گزرتی ہیں۔
موسموں کو ترتیب دینے والا نظام
جو لوگ طویل عرصے تک اس سمندر کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ جلد سمجھ جاتے ہیں کہ اس کی ظاہری خاموشی کے پیچھے ایک وسیع ماحولیاتی نظام کام کر رہا ہے۔
گرمیوں میں اس کے پانی کا درجہ حرارت تقریباً 82 سے 86 فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں یہ 64 سے 68 فارن ہائیٹ تک گر جاتا ہے۔ یہ موسمی تبدیلیاں پانی کے اندر ایک ایسا عمل پیدا کرتی ہیں جو گرم اور نمکین پانی کو شمال کی طرف دھکیلتا ہے اور ٹھنڈے پانی کو جنوب کی طرف واپس بھیج دیتا ہے۔
یہی عمل بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں کے موسم کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسی دوران سمندر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی جذب کرتا ہے اور اسے ننھے پلانکٹن کے خولوں میں بند کر دیتا ہے جو آخرکار سمندر کی تہہ میں جا بیٹھتے ہیں۔
سمندری کیمیا دان نکولس بیٹس اور برمودا انسٹیٹیوٹ آف اوشین سائنسز کے ان کے ساتھیوں نے دو سال تک مسلسل نمونے جمع کرنے کے بعد اندازہ لگایا کہ یہ سمندر غیرمعمولی مقدار میں حرارت جذب کر رہا ہے۔
ان کے مطابق سمندر اب گزشتہ لاکھوں برسوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو چکا ہے، اور یہ تبدیلی اس بات پر اثر انداز ہو سکتی ہے کہ دنیا کے کن خطوں میں بارش ہوگی اور کن میں نہیں۔
انسان اور بڑھتے خطرات
فرانسیسی ناول نگار ژول ورن نے کبھی سارگاسو سمندر کو ”کھلے بحرِ اوقیانوس کے درمیان ایک مکمل جھیل“ کہا تھا۔ لیکن آج یہی جھیل چار بڑی سمندری دھاراؤں کے ذریعے آنے والے کچرے کو جمع کرنے کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔
یہ دھارائیں پلاسٹک کے تھیلے، بوتلوں کے ڈھکن اور ماہی گیری کے ٹوٹے ہوئے جال یہاں لا کر چھوڑ دیتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق اس سمندر میں فی مربع کلومیٹر تقریباً دو لاکھ کچرے کے ٹکڑے موجود ہیں اور یہ آلودگی سینکڑوں میل تک پھیلی ہوئی ہے۔
پانی کے اندر لگائے گئے مائیکروفونوں میں کارگو جہازوں کی گرج سنائی دیتی ہے جو انہی گھاس کے جُھنڈوں کے درمیان سے گزرتے ہیں۔ ان کے پروپیلر گھاس کو کاٹ دیتے ہیں، جبکہ جہازوں کے رنگ سے نکلنے والے تانبے اور زنک کے ذرات پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔
یہ شور سپرم وہیل کی گہری آوازوں کو بھی دبا دیتا ہے، اور تیرتے ہوئے جال ان ننھے کچھوؤں کو پھانس لیتے ہیں جو کبھی اسی گھاس میں محفوظ رہتے تھے۔
دہائیوں پر مشتمل سائنسی نگرانی
1954 سے سائنس دان برمودا کے قریب ان پانیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ ہر مہینے درجہ حرارت، نمکیات، تحلیل شدہ آکسیجن اور پانی کی تیزابیت کی پیمائش کی جاتی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سردیوں کا پانی گرمیوں کے مقابلے میں زیادہ نمکین ہوتا ہے، کیونکہ خشک ہوائیں سطح سے نمی کو اڑا دیتی ہیں۔ جبکہ جون اور جولائی کی بارشیں پانی کو نسبتاً کم نمکین بنا دیتی ہیں۔
1980 کی دہائی سے اب تک اوسط درجہ حرارت تقریباً ایک ڈگری سیلسیس بڑھ چکا ہے ، بظاہر ایک چھوٹی سی تبدیلی، لیکن اس کے اثرات بہت وسیع ہو سکتے ہیں۔ گرم پانی کی تہیں گہرے پانی کے ساتھ ملاپ کو روک دیتی ہیں، جس سے آکسیجن کم ہو جاتی ہے اور وہ غذائی اجزا اوپر نہیں آ پاتے جو پلانکٹن کی افزائش کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
سائنس دانوں نے اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے نئے پیمانے بھی تیار کیے ہیں، جیسے نمکیات کی بے قاعدگی کے نقشے اور وسیع سمندری خطوں کی الکلائنٹی کے اشاریے۔
آرگو فلوٹس اور سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے رنگین نقشوں کے ساتھ ملا کر یہ ساٹھ سالہ ریکارڈ سمندری تیزابیت کو سمجھنے کے لیے ایک عالمی معیار بن چکا ہے۔
وقت کے خلاف ایک دوڑ
2014 میں قائم ہونے والا ’سارگاسو سمندر کمیشن‘ اس خطے کو حیاتیاتی تنوع کی ایک محفوظ پناہ گاہ قرار دیتا ہے اور ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ جہاز رانی کے راستے ایسے بنائے جائیں جو گھنی گھاس سے دور رہیں۔
لیکن اس سمندر کو مکمل محفوظ علاقہ قرار دینا آسان نہیں، کیونکہ کوئی ملک اس کا مالک نہیں۔ کھلے سمندر میں قوانین نافذ کرنا بھی مہنگا اور مشکل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چند سادہ اقدامات، جیسے جہازوں کے راستے صرف پچاس میل تبدیل کرنا یا کچھوؤں کے افزائش کے موسم میں مخصوص ماہی گیری پر پابندی لگانے جیسے اقدامات اس اہم مسکن کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ لیکن پالیسی سازی سست رفتار ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ کیریبین میں سارگاسَم گھاس اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ ساحلی تفریحی مقامات اسے ہٹانے کے لیے بلڈوزر استعمال کرتے ہیں۔ جب یہ گھاس گل سڑ جاتی ہے تو گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتی ہے اور یوں کاربن جذب کرنے والا نظام الٹا اخراج کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ جس جاندار کے نام پر اس سمندر کا نام رکھا گیا ہے، وہی بڑھتی ہوئی تیزابیت کے باعث مستقبل میں خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
سارگاسو سمندر کی حفاظت
اگر سارگاسو سمندر ختم ہو گیا تو نیوفاؤنڈ لینڈ سے لے کر خلیج میکسیکو تک کے دریا بام مچھلیوں کو ایسی جائے پیدائش کی تلاش میں بھیجیں گے جو شاید حرارت کے باعث مٹ چکی ہو۔
ہمپ بیک وہیلیں بہار میں آئیں گی تو انہیں خوراک نہیں ملے گی۔ یورپ کے اوپر سے گزرنے والے طوفانی راستے بدل سکتے ہیں، اور بحرِ اوقیانوس زمین کی اضافی حرارت کو اور زیادہ جذب کرنے لگے گا۔
حکومتیں اب ایک ایسے عالمی معاہدے پر غور کر رہی ہیں جو سمندر میں پلاسٹک کے اخراج کو کم کرے اور اہم ہجرتی راستوں کے ارد گرد محفوظ علاقے قائم کرے۔
جہاز رانی کی کمپنیاں نسبتاً خاموش پروپیلر ڈیزائن اور بایوڈیگریڈیبل پیکنگ مواد آزما رہی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کوئی بھی قدم اکیلے سارگاسو سمندر کو بحال نہیں کر سکتا، لیکن مل کر یہ اس تیرتے ہوئے جنگل کو اتنا وقت دے سکتے ہیں کہ شاید زمین کے سمندر اور انسان دونوں ٹھنڈے دماغ سے بہتر فیصلے کر سکیں۔
نقشے پر نیلے رنگ کے ایک خالی دھبے کی طرح دکھائی دینے والا یہ سمندر دراصل براعظموں کو جوڑتا ہے، دنیا بھر کے جانداروں کو غذا فراہم کرتا ہے اور زمین پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا ایک مسلسل ریکارڈ محفوظ رکھتا ہے۔
سمندر بلند ہو رہا ہے: لاکھوں عمارتیں اور کروڑوں زندگیاں خطرے میں
خاموش سمندر کا واضح پیغام
نقشے پر یہ سمندر شاید صرف نیلے رنگ کا ایک خالی دھبہ دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ براعظموں کو جوڑنے والا ایک زندہ نظام ہے۔ یہ دنیا بھر کے جانداروں کو غذا فراہم کرتا ہے اور زمین کے بدلتے ماحول کا ایک مسلسل ریکارڈ محفوظ رکھتا ہے۔
اس کا پانی خاموش ضرور ہے، لیکن اس خاموشی کے اندر ایک واضح پیغام چھپا ہوا ہے: سکون کی حفاظت کرو، کیونکہ اگر یہ توازن ٹوٹ گیا تو آنے والے طوفان کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:
سمندر بلند ہو رہا ہے: لاکھوں عمارتیں اور کروڑوں زندگیاں خطرے میں
زندگی کے ابتدائی اجزا خلا میں۔۔ کیا زمین پر زندگی ویران سیارچے ’بینو‘ سے آئی؟




