ملک میں مہنگائی کی حکومتی لوٹ سیل، ریکارڈ قرضے اور کابینہ میں مزید توسیع۔۔
گزشتہ دنوں معروف تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ”اسٹاک ایکسچینج سے گزارش ہے کہ آئندہ وہ جب بھی اوپر جائے تو پاکستانی عوام کو بھی ساتھ لے کر جائے۔“ اس ٹویٹ کا پسِ منظر یہ ہے کہ ایک طرف روزانہ کی بنیاد پر اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈ حد تک نفسیاتی…
پاکستانی شہری کس طرح بیرونِ ملک روزگار حاصل کر سکتے ہیں؟
اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ کیا آپ ملازمت کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں۔ تو غالب امکان یہی ہے کہ آپ کا جواب ہاں میں ہوگا اور اس کی وجہ بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔ دو سال پہلے تک جو راشن دس ہزار روپے میں آجاتا تھا، آج بیس ہزار میں بھی نہیں…
کمر توڑ مہنگائی کے باعث لوگ قرض لینے، اثاثے فروخت کرنے پر مجبور۔۔
گزشتہ ڈیڑھ برس کے عرصہ میں منہگائی کے عفریت نے، جس طرح عام آدمی کو دبوچا ہے کہ لوگوں کو دو وقت کی روٹی کے بھی لالے پڑ گئے ہیں۔ بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں دیکھتے ہی دیکھتے کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے لیکن ذرائع آمدن ہیں کہ سکڑتے جا رہے ہیں معاشی…
دیکھو دیکھو کون آیا، ڈار آیا ڈار آیا
مالیاتی ٹائم بم ٹک ٹک کر رہا ہے۔۔ جب خزانے میں پڑے ڈالر کئی مہینوں سے ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر کے درمیان جھول رہے ہوں اور آئی ایم ایف بھی شرائط کی گرم ریت پر دوڑا دوڑا کے ہنپا رہا ہو اور دسمبر تک بیرونی قرض خواہوں کو ساڑھے چار ارب ڈالر سود…
بگڑتی معیشت، پاکستان جنوبی ایشیا میں افراطِ زر کی سب سے بلند شرح والا ملک!
گزشتہ روز پاکستان کے دفتر شماریات کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس سال مئی میں، 2022ع کے مئی کے مقابلے میں افراطِ زر کی شرح 37.97 فیصد رہی۔ اس عرصے کے دوران پورے جنوبی ایشیا میں کسی بھی دوسرے ملک میں افراطِ زر کی شرح اتنی زیادہ نہیں تھی قبل ازیں گزشتہ…
مہنگائی کے نئے ریکارڈ بننے کا سلسلہ تھم نہ سکا
حساس قیمت انڈیکس سے پیمائش کردہ قلیل المدتی مہنگائی 11 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 48.02 فیصد رہی وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی مسلسل دوسرے ہفتے 48 فیصد سے زائد رہی، جو 4 مئی کو ختم ہونے والے…
آٹا مہنگا، خودی سستی
بچپن سے ایک جھوٹ اتنی مرتبہ سنا ہے کہ اس پر یقین سا آ چلا تھا۔ وہ یہ کہ پاکستان میں رات کو کوئی بھوکا نہیں سوتا۔ زمین زرخیز ہے لوگ ایک دوسرے کے اتنا قریب رہتے ہیں کہ جو دال دلیہ ہو وہ آپس میں بانٹ لیتے ہیں ایک بزرگ نے ایک دفعہ یہ…
شہدائے آٹا
زہرہ مائی اور کندن مائی دونوں کزن تھیں اور بستی عارف میں رہتی تھیں، اب یہ بستی عارف کہاں ہے؟ یہ جتوئی کے مضافات میں ہے اور اس بستی میں صرف غریب رہتے ہیں۔۔ کتنے غریب؟ اتنے غریب کہ یہ صرف آٹے کے ایک تھیلے کے لیے جان دے سکتے ہیں اور کندن مائی اور…