دو افسانچے
پِنک اسکوٹی وہ گھر کے صحن میں چارپائی پر سر جھکائے بیٹھا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہو۔ قصبے کی جامع مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز ابھرتی ہے اور فضا میں پھیل جاتی ہے۔ وہ کلائی گھما کر بے دلی سے اپنی گھڑی کی طرف دیکھتا ہے،…
بلتھزار کی شاندار دوپہر
پنجرہ تیار ہوگیا تھا۔ بلتھزار نے عادت کے مطابق اسے باہر چھت کے نیچے لٹکا دیا اور جب وہ ظہرانے سے فارغ ہوا تو پورا قصبہ اس بات پر متفق تھا کہ یہ دنیا کا سب سے خوبصورت پنجرہ ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے اتنے لوگ آئے کہ گھر کے سامنے ہجوم جمع ہو گیا۔…
کاغذی چڑیا گھر (امریکہ کے چینی ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)
آج برسوں بعد مجھے اپنی جو ابتدائی ترین یاد ہے، وہ ہے لگاتار منہ بسورے رکھنا یا بے وجہ ریں ریں کرتے رہنا۔ مجھے یاد پڑتا ھے، ماں اور ابا جتنے بھی اور جیسے بھی جتن کرتے میں جلدی بہلنے پر نہیں آیا کرتا تھا۔ میری کہانی ایسے ایک دن کی یاداشت پر شروع ہوتی…
چلتی ٹرین میں رُکی ہوئی کہانی (منتخب افسانہ)
ٹرین کی کھڑکی بند ہے لیکن بارش کی بوندیں لگاتار اس پر دستک دے رہی ہیں، تیز برستی بارش میں میدانوں میں کھڑے درخت بھی دھندلے دکھائی دے رہے ہیں۔ کھچا کھچ مسافروں سے بھرے اس ڈبے میں موجود لوگ ایک دوسرے کی کہانیوں سے یکسر نابلد ہیں۔ سیٹ نمبر 15 پر بیٹھا…
نیند، خوف اور سابقہ بازی گر (منتخب افسانہ)
وہ موت کے کنویں میں موٹرسائیکل چلاتا تھا اور اس کی بیوی کو نیند میں چلنے کی عادت تھی۔ وہ جب سارا دن موٹرسائیکل چلا چلا کر تھکا ہارا گھر آ کر سو جاتا تو رات کے کسی پہر اس کی بیوی جاگ جاتی اور اس کی جیبوں کی تلاشی لینے لگتی۔ اسد علی بازی…
سچائی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
سارا ارجنٹا کو، جس کی عرفیت ترارا تھی، جوں ہی کمرہِ عدالت کے باقی حصوں سے باڑ لگا کر کٹہرے میں لایا گیا، اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی جیب سے پیلے پھولوں والا ایک سرخ سوتی رومال نکالا اور نشست پر احتیاط سے پھیلا دیا تاکہ اس کے تہوار جیسے لباس پر…
سوا سیر گیہوں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کسی گاؤں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔۔ چھکّا پنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھوت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جانے کی فکر نہ تھی۔ ودّیا نہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو…
چلتن اور گردشِ دوراں (بلوچی ادب سے منتخب افسانہ)
کیا یہ ممکن ہے کہ گزری ہوئی مسرتوں اور شادمانیوں کا دور پھر ایک مرتبہ واپس آ جائے؟ چلتن کا بلند و بالا سلسلہ کوہ کوئٹہ سے تقریباً سولہ میل کے فاصلے پر مغرب کی جانب واقع ہے۔ کوہِ چلتن کے دامن میں ہزارگنجی کی سرسبز و شاداب چراگاہ ہے۔ اس کے دائیں جانب گوند…