اکتارا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اِکتارا میرے ہاتھ میں تھا۔ سامنے چٹیل میدان کے دوسرے سرے پر ریت کے ٹیلوں سے دور ناریل کے دو متوازی درخت ساکت اور محوِ حیرت کھڑے ہوئے تھے۔ سب کچھ اداس تھا۔ سارے میں مایوسی کی ایک لہر پھیلی ہوئی تھی اور اِکتارا میرے ہاتھ میں تھا۔۔ رجمنٹ آج ایک سال کے بعد…
بجنس (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ٹفن میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ کَلُّو نے امرودوں کا ٹھیلا اسکول کے گیٹ سے ذرا سا ہٹ کر کھڑا کیا کہ آنے جانے والوں کو دقت نہ ہو۔ یہ ایک مشنری اسکول تھا۔ تیسرے اسٹینڈرڈ تک لڑکے بھی لیے جاتے تھے لیکن اس کے بعد صرف لڑکیاں۔ زیادہ تر بچے امرودوں کے بڑے…
کاغذ کا رشتہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
باہر اوسارے میں کوئی اونچی اونچی آوازوں میں بول رہا تھا۔ شاید بڑکو، چھوٹے اور ابا سب اکٹھے مل کر بول رہے تھے۔ ’’کاہے سب جنی سبیرے سبیرے ہلّا کرت جات ہیں۔‘‘ اماں نے اعتراض سے زیادہ تجسس کا اظہار کیا اور چولہا پھونکتے پھونکتے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میلے دوپٹے سے…
جنگل کا قانون (بلوچی ادب سے منتخب افسانہ)
دفتر میں داخل ہوتے ہی وہ حیران رہ گیا، کیونکہ دفتر کے تمام ملازمین کے چہرے اسے بہت عجیب دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں، کچھ کے کان کھڑے ہو گئے تھے، کچھ کی زبانیں نیچے لٹکی ہوئی تھیں اور کچھ کے ہونٹ پھولے ہوئے تھے۔۔ وہ حیرانی سے کھڑا…
رضو باجی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سیتاپور میں تحصیل سدھولی اپنی جھیلوں اور شکاریوں کے لیے مشہور تھی۔ اب جھیلوں میں دھان بویا جاتا ہے۔ بندوقیں بیچ کر چکیّاں لگائی گئی ہیں، اور لائسنس پر ملے ہوئے کارتوس ’بلیک‘ کر کے شیروانیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبوں کا زنجیرا پھیلا ہوا تھا،…
بادِ نو بہار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے دیکھا کہ جن حویلیوں کے در دیمک کھا گئی، ان کی خستہ اینٹوں سے نئی کونپلیں جنم لے رہی تھی۔برسوں پہلے جہاں صور پھونک دیا گیا تھا، وہاں سے قلقاریوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔ بے رنگ دریچوں پر لٹکے پھٹے ہوئے پردوں کے پیچھے سے جو اداس آنکھیں جھانکتی…
جیئرن جو دڑو (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
امر کی آنکھ کھلی تو سارا جسم پسینے سے شرابور تھا– یہ کیسا خواب تھا جو کئی راتوں سے مسلسل اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ سانولی نازک سی لڑکی جیسے صنوبر کی شاخ، اس کی کلائیاں تھر کی عورتوں کی طرح سفید کڑوں سے بھری ہوتیں، کبھی کھنڈرات سے نکلتی اور پانی سے بھرے…
الیوشا گورشک (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
الیوشا اپنے خاندان کا سب سے چھوٹا لڑکا تھا۔ لوگوں نے اسے گورشک بلانا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ ایک دن اس کی ماں نے اسے ڈیکن (کلیسا کا مہتمم) کی بیوی کے لئے پانی لانے کے لئے بھیجا تو وہ پھسل کر گر گیا اور گھڑا / گورشک ٹوٹ گیا ۔ اس کی ماں…