Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Urdu Short Stories Sangat Mag
ادباہم ترینتازہ ترین

دو افسانچے

By Akhtar Rasool
مئی 1, 2026 3 Min Read
0

پِنک اسکوٹی

وہ گھر کے صحن میں چارپائی پر سر جھکائے بیٹھا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہو۔ قصبے کی جامع مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز ابھرتی ہے اور فضا میں پھیل جاتی ہے۔ وہ کلائی گھما کر بے دلی سے اپنی گھڑی کی طرف دیکھتا ہے، اور پھر سر اٹھا کر ادھر اُدھر تکنے لگتا ہے۔

کچھ دیر بعد اس کا بیٹا گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوتا ہے۔ اسے دیکھتے ہی وہیں بیٹھے بیٹھے اس کے منہ سے کوسنے پھوٹنے لگتے ہیں۔

وہ بیٹے کو لعنت ملامت کرتے ہوئے بلند آواز میں کہتا ہے: ”کچھ دن اپنی غیرت ایک طرف رکھ لیتے تو کیا ہو جاتا؟ آج ہمارے حصے میں بھی ایک پِنک اسکوٹی تو آ جاتی۔“

________________

پیش امام ( افسانہ)

جب اس نے ایک دینی مدرسے سے قرآن حفظ کر لیا۔ حفظ کے ساتھ اس نے مدرسے سے دنیاوی تعلیم کے ساتھ عالم کے بھی کچھ کورس کر لیے تھے۔ آخری دنوں میں اسے مدرسے کے معلم نے آگاہ کیا کہ ہمارے مدرسے کے زیرِ انتظام ایک مسجد تعمیر ہو رہی ہے، آپ کو وہاں پیش امام کے طور پر مدرسے کی انتظامیہ بیجھنا چاہتی ہے۔ مسجد تکمیل کے مراحل میں ہے۔

یہ سن کر وہ بہت خوش ہوا، استاد سے اس نے گھر جانے کی اجازت مانگی۔ استاد نے اس اجازت دے دی۔

کچھ ماہ بعد اسے فون کر کے بتایا گیا آپ متعلقہ مسجد چلے جائیں اور پیش امام کے فرائض انجام دیں۔

جب وہ وہاں پہنچا تو ایک خوبصورت مسجد ایک نئی زیر تعمیر سوسائٹی میں تھی۔ ابھی بہت سارے پلاٹ خالی تھے۔ اس سوسائٹی میں کم ہی خاندان رہائش پذیر تھے۔ مسجد کی چار دیواری میں ہی اسے رہائش کے لیے ایک کمرہ بھی دیا گیا۔ کچھ وقت کے بعد وہ سب لوگوں سے مانوس ہوا اور اجنبیت کی دیوار نہ رہی۔

ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ یہاں ایک جگہ خریدی جائے اور یہیں پر اپنا گھر بنایا جائے۔ ایک دن سوسائٹی کے یونین کے آفیس گیا، وہاں کے ایڈمنسٹریشن سے بات کی، پلاٹ انتہائی سستے تھے۔ انتظامیہ نے کہا کہ پلاٹ تو بہت ہیں جہاں آپ پسند کریں. اس نے مسجد کے نزدیک ہی ایک پلاٹ پسند کیا۔

انتظامیہ نے کہا کہ آپ ہمیں کچھ وقت دیں تا کہ آپ کے پلاٹ کے کاغذات مکمل ہو جائیں۔

کچھ دنوں بعد جب اسے کاغذات دیے گئے۔۔ صرف ایک نقشہ اور اس میں پلاٹ نمبر اور کچھ نہیں ۔ جب اس نے کہا کہ زمین کا سروے نمبر۔ پلاٹ کے لیز ڈاکیومنٹس، اداروں سے تصدیق شدہ کاغذات، وہ کہاں ہیں؟ تو ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

پیش امام نے کہا کہ اور مسجد کی زمین۔۔؟

ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ اللہ کی زمین ہے اور اللہ کا گھر۔۔ اللہ کے گھر کے لیے کون سے کاغذات۔

پیش امام نے بد دلی سے کہا مجھے سوچنے کے لیے کچھ وقت دیں۔ اور آفس سے نکل کر مسجد کی طرف روانہ ہوا۔

ابھی ظہر کی نماز کو کافی وقت تھا۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا۔ موبائل چارجر اس نے پلگ سے نکال کر بیگ میں ڈالا، کچھ ہینگر سے کپڑے اتار کر اس نے بیگ میں ڈال دیئے اور بیگ کا سرہانہ بنا کر لیٹ گیا اور چھت کو گھورنے لگا۔

________________

  • ساون اب کبھی نہیں آئے گا

  • کیا اس دھرتی پر جینے کا حق صرف انسان کے پاس ہے؟

Tags:

character based storiescontemporary Urdu afsanacorruption and ethicscultural stories Pakistaneducational fictionemotional Urdu storiesethical dilemma storygreed and moralityhuman behavior fictioninspiring Urdu storiesIslamic fiction storyIslamic social issuesliterary blog contentliterary short storiesmodern society problemsmodern Urdu literaturemoral stories Urdumorality in societymosque Imam storypakistani literaturePakistani writers fictionPesh Imam storyPink Scooty storyrealistic fiction Urdureligious leadership storyshort moral storiesshort story blogsocial awareness fictionsocial criticism fictionsocial issues storiessociety and hypocrisyStorytelling Blogthought provoking storiesurban society fictionUrdu afsana onlineUrdu FictionUrdu literature websiteUrdu Short StoriesUrdu writing blogvalues and integrity storiesvillage life fiction
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Personality Development-sangat mag
Previous

رویے کا میگنیفائنگ گلاس

Iran War and Hurmoz
Next

ڈونلڈ ٹرمپ کے سنسنی خیز انکشافات: ایران سے جنگ، ’آپریشن سندور‘ اور عالمی سیاست کے بدلتے رنگ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme