کل اور آج (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
جنگ کا آغاز حال ہی میں ہوا تھا۔ مارینو لرنا نے رضاکارانہ طور پر افسران کے اسکول میں داخلہ لیا اور تیزی سے نصاب مکمل کر کے انفنٹری لیفٹیننٹ کے درجے پر فائز ہوا۔ اپنے کنبے کے ہمراہ آٹھ دن کی تعطیلات گزارنے کے بعد وہ اپنے یونٹ کیسیل بریگیڈ کی بارہویں رجمنٹ…
چَھڑی (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ جون کی ایک مرطوب اتوار تھی۔ اسٹیشن سے پار ڈپارٹمنٹل اسٹور کی پر ہجوم چھت پر سے، جو بارش کے بعد سے کاروں اور لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، میں نے اپنے دونوں بچوں کو قریب کرتے ہوئے اردگرد دیکھا۔ سیڑھیوں اور روشن دان کے درمیان خالی جگہ کو دیکھ کر میں…
آشنائے مرگ (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکا جن کھنڈروں کے پاس کھڑا تھا، وہ کبھی مرکزی بازار تھا۔ کچھ افراد انہی تباہ حال دکانوں کے ملبے پر عارضی دکانیں بنانے میں مصروف تھےاور وہ ان کو محویت سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے والد نے اسے کہا تھا کہ ’’جاؤ اسے مرکزی بازار میں تلاش کرو۔ ہمیں کل لازماً انہیں…
کن کجھورا (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
میری بڑی بہن ڈیلیا میرے پالتو کتے کو چھڑی سے مار رہی تھی اور میرا خون کھول رہا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا، جیسے میرے جسم سے ایک وحشی درندہ باہر نکلنے کو بےتاب ہے۔ تیز دھوپ میں وہ کشمشی رنگ کے کپڑوں اور سرخ بالوں کی بدولت کسی بے نیام خنجر کی…
گناہ گار (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک حکومتی اہل کار، جس کا نام میگوف تھا، اپنی شام کی سیر کے دوران ایک تار گھر کے قریب رکا اور ایک گہری آہ بھری۔ ایک ہفتہ قبل جب وہ شام کی سیر سے گھر لوٹ رہا تھا تو بالکل اسی جگہ پر اس کی سابقہ نوکرانی اگنیا نے اسے اچانک آ لیا تھا،…
بے نام (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
یہ شہر کی مصروف ترین سڑک تھی۔ آدھا کلو میٹر تک سیدھی چلی جاتی تھی۔ اس کے اختتام پر چوراہا تھا، جس پر سگنل لگا ہوا تھا۔ سڑک کے ایک طرف مصروف بازار تھا اور دوسری طرف ایک نجی اسپتال۔ اسپتال سے متصل ایک ویران سا میدان تھا۔ اسپتال کی دیوار کے ساتھ کسی ٹھیلے…
آخری غریب (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
منظر نامہ: 1990 دنیا میں امن، صحت اور خوش حالی کی کوششیں رنگ لے آئیں۔ دنیا میں امن ہو گیا۔ ہر شہری اپنی کار کا مالک ہے۔ دنیا سے حشرات معدوم ہو چکے تھے، بڑھتی آبادی پر قابو پا لیا گیا تھا، بیماریاں ختم ہو چکی تھیں۔ بیکٹیریا اور وائرس پر قابو پا لیا گیا…
مسخرہ (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
(1) پیڈرو لوکس زندگی کی بتیس بہاریں دیکھنے کے بعد سنجیدگی سے کچھ کرنے کی سوچ رہا تھا۔ وہ فطرتاً ایک مسخرہ تھا۔ اب تک وہ اسی خداداد صلاحیت کی بدولت اپنا گزارا کر رہا تھا۔ اس کے پاس رہنے کو ایک آرام دہ گھر، عمدہ لباس غرض ہر سہولت موجود تھی۔ ان سب کی…