ایک مرتی جھیل کا دکھ (افسانہ)
میں ایک جھیل ہوں، جس نے اپنی گہرائیوں میں زمانوں کا عکس محفوظ کر رکھا ہے۔ میرے کناروں پر زندگی کے کئی رنگ کھلے، کئی مناظر بنے اور بکھرے، مگر آج میں تیزی سے خشک ہو رہی ہوں، جیسے مرنے کے قریب ایک بوڑھا جسم اپنی آخری سانسیں لے رہا ہو۔ میں زمانوں سے قائم،…
اداکار کی موت (منتخب افسانہ)
شیانوف ایک لحیم شحیم اداکار تھا۔ اداکاری کے فن میں نہ سہی اپنی جناتی ضخامت کی وجہ سے تھیٹر میں خاصا کامیاب بھی تھا اور سادہ لوح طبیعت کے باعث مقبول بھی۔ دوسرے اداکار اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے۔ کوئی اس کو گینڈا کہتا۔ کوئی سرکاری سانڈ۔۔ لیکن سب اسے پیار…
پندرہویں سواری (منتخب اردو افسانہ)
ان لاکھوں بھاگتی دوڑتی گاڑیوں میں ایک چودہ مسافروں کے لیے بنی گاڑی میں وہ پندرہویں سواری تھا، جو اکڑوں ہو کر بیٹھا تھا۔ ’تو کیا میں یہاں اتر جاؤں؟‘ اس نے سوچا۔ ’لیکن اگر میں اتر گیا تو پھر مجھے گھنٹوں انتظار کرنا پڑے گا۔‘ اسے محسوس ہوا کہ اس کی سانس رُک…
حسنِ کامل
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی تھا، جس نے محبت کی شادی کی مگر فرصت کے اوقات میں وہ پچھتاتا رہتا تھا۔ وہ پیشےکے لحاظ سے ایک کھلونا ساز تھا، اور بے عیب کام کے لیے اس کا جنون پوری دنیا میں مشہور تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس نے ایک میکانکی پرندہ…
اندھیروں کے عادی۔۔ تین مختصر کہانیاں
اندھیروں کے عادی معلوم نہیں کتنی مدت وہ سوتا رہا، حتیٰ کہ وہ اکتا گیا۔ ”آخر یہ سورج کیوں نہیں نکل رہا؟ رات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی“ اس نے سوچا۔ ”اس ناختم ہونے والے اندھیرے کے بارے میں کس سے پوچھوں، مجھے پڑوسیوں سے پوچھنا چاہیے۔“ پھر وہ آدمی اپنے…
پاگل کتا (افسانہ)
روشن پور کے خوبصورت محلے میں زندگی پرسکون اور معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ گھروں کے ارد گرد سفید باڑیں تھیں، جہاں خوشیاں تھیں، مسکراہٹیں تھیں ۔ لیکن یہ سب کچھ چوہان خاندان کے خطرناک ’لکی‘ کی آمد سے پہلے تھا۔ لکی عام کتوں جیسا نہیں تھا۔ اس کی موجودگی میں…
چلتن اور گردشِ دوراں (بلوچی ادب سے منتخب افسانہ)
کیا یہ ممکن ہے کہ گزری ہوئی مسرتوں اور شادمانیوں کا دور پھر ایک مرتبہ واپس آ جائے؟ چلتن کا بلند و بالا سلسلہ کوہ کوئٹہ سے تقریباً سولہ میل کے فاصلے پر مغرب کی جانب واقع ہے۔ کوہِ چلتن کے دامن میں ہزارگنجی کی سرسبز و شاداب چراگاہ ہے۔ اس کے دائیں جانب گوند…
ریو (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
بیرونِ ملک سات برس گزارنے کے بعد میں موسمِ گرما میں ریو ڈی جنیرو پہنچی۔ سات طویل برسوں بعد فلیٹ کا دروازہ کھولا تو اندر ہر چیز پر پھپھوندی جمی تھی۔ اگر یہ پھپھوندی نہ ہوتی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میں یہاں سے کہیں گئی ہی نہیں۔ بند گھر کی بُو ناقابلِ…