چندرو کی دنیا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کراچی میں بھی اس کا یہی دھندا تھا اور باندرے آ کر بھی یہی دھندا رہا۔ جہاں تک اس کی ذات کا تعلق تھا، کوئی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ وہ کراچی میں بھی سدّھو حلوائی کے گھر کی سیڑھیوں کے پیچھے ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں سوتا تھا اور باندرے میں وہی سیڑھیوں کے…
کل اور آج (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
جنگ کا آغاز حال ہی میں ہوا تھا۔ مارینو لرنا نے رضاکارانہ طور پر افسران کے اسکول میں داخلہ لیا اور تیزی سے نصاب مکمل کر کے انفنٹری لیفٹیننٹ کے درجے پر فائز ہوا۔ اپنے کنبے کے ہمراہ آٹھ دن کی تعطیلات گزارنے کے بعد وہ اپنے یونٹ کیسیل بریگیڈ کی بارہویں رجمنٹ…
آشنائے مرگ (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکا جن کھنڈروں کے پاس کھڑا تھا، وہ کبھی مرکزی بازار تھا۔ کچھ افراد انہی تباہ حال دکانوں کے ملبے پر عارضی دکانیں بنانے میں مصروف تھےاور وہ ان کو محویت سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے والد نے اسے کہا تھا کہ ’’جاؤ اسے مرکزی بازار میں تلاش کرو۔ ہمیں کل لازماً انہیں…
ایک ہی کوکھ (موزمبیقی ادب سے منتخب افسانہ)
ان دنوں میرے دادا مجھے ساتھ لیے دریا کی جانب چل پڑتے اور اپنی چھوٹی سی کشتی، جسے وہ کونچو کہتے تھے، میں مجھے بھی بٹھا لیتے۔ وہ بہت آہستگی سے چپو چلاتے، چپو شاید ہی لہروں سے ٹکراتے، مجھے تو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ پانی کے اوپر ہی انہیں حرکت دے رہے ہیں۔…
کن کجھورا (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
میری بڑی بہن ڈیلیا میرے پالتو کتے کو چھڑی سے مار رہی تھی اور میرا خون کھول رہا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا، جیسے میرے جسم سے ایک وحشی درندہ باہر نکلنے کو بےتاب ہے۔ تیز دھوپ میں وہ کشمشی رنگ کے کپڑوں اور سرخ بالوں کی بدولت کسی بے نیام خنجر کی…
گناہ گار (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک حکومتی اہل کار، جس کا نام میگوف تھا، اپنی شام کی سیر کے دوران ایک تار گھر کے قریب رکا اور ایک گہری آہ بھری۔ ایک ہفتہ قبل جب وہ شام کی سیر سے گھر لوٹ رہا تھا تو بالکل اسی جگہ پر اس کی سابقہ نوکرانی اگنیا نے اسے اچانک آ لیا تھا،…
بے نام (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
یہ شہر کی مصروف ترین سڑک تھی۔ آدھا کلو میٹر تک سیدھی چلی جاتی تھی۔ اس کے اختتام پر چوراہا تھا، جس پر سگنل لگا ہوا تھا۔ سڑک کے ایک طرف مصروف بازار تھا اور دوسری طرف ایک نجی اسپتال۔ اسپتال سے متصل ایک ویران سا میدان تھا۔ اسپتال کی دیوار کے ساتھ کسی ٹھیلے…
ڈائری میں چُھپا خواب (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ گھڑی پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ وقت صفر سے شروع ہوتا اور ہندسوں سے اٹھکیلیاں کرتا دوبارہ صفر پر آ کھڑا ہوتا۔ اس کی بے تاثر نظریں وقت کا تعاقب کرتے کرتے تھک گئیں تو اس نے گھڑی سے نظر ہٹا کر الماری کا ایک خانہ کھولا اور گزرے وقت کی ردی چھانٹنے لگا۔…