گدا (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
صحرا۔ بیچوں بیچ میں ایک کنواں، جس کے گرد کانٹوں دار تار کی باڑھ کھنچی ہوئی ہے۔ باڑھ کے سلاخچے کے پاس ایک بڑا سا ڈول رکھا ہوا ہے۔ ڈول پر موٹی رسی لپٹی ہوئی ہے۔ مسافر، تھکا ہارا اور ننگے پاؤں، پتلون قمیص پہنے، پسینے میں تربتر، اسٹیج پر آتا ہے۔ بہت پیاسا…
پھانسی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
آخر ایک صبح مجھے پھانسی دے دی گئی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بہار کا موسم تھا کہ موسمِ سرما۔۔۔ بہرحال یہ طے ہے کہ مجھے پھانسی دی گئی۔ میرا گناہ ایک غیر معمولی مگرمچھ کے ساتھ دوستی کرنا تھا۔۔ افریقا کا ایک مگرمچھ، جو آنسو نہیں بہاتا تھا! مجھ پر متعیّن فوجی…
سماج میں واپسی (ارجنٹینی ادب سے منتخب افسانہ)
ہم ہفتے کی شام کے دھندلکے میں ’باریلوچی‘ میں اپنا ہنی مون منا کر بیونس آئرس واپس پہنچے تھے اور مشتاق تھے کہ اپنے نِگھے ایک بیڈ روم والے اپارٹمنٹ میں اپنی پہلی رات گزاریں۔ جیسے ہی ہم نے بیڈ روم کا دروازہ کھولا، ہم نے وہاں ایک پنجرہ پایا۔ دیکھنے میں تو یہ…
دوغلی (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
(یہ کہانی اس وقت کی ہے، جب انیسویں صدی بیسویں صدی سے گلے مل رہی تھی۔ امریکہ روس کا ایک علاقہ، جو رقبے میں مغربی یورپ سے بڑا تھا، صرف سات ملین ڈالر میں خرید چکا تھا۔ برفیلے الاسکا میں سونا نیا نیا دریافت ہوا تھا۔ راتوں رات دولتمند ہونے کے لالچ میں امریکہ…
ٹائیلٹ (جنوبی افریقی ادب سے منتخب افسانہ)
کسی وقت میں سوچتی مجھے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اچھی لڑکی بننا چاہیے جو اپنے بڑوں کی ہر بات دھیان سے سنتی ہے۔ میری ماں کی خواہش تھی کہ میں نرس یا اُستانی بنوں۔ لوگ اِن شعبوں کو اچھا سمجھتے۔ مجھے معلوم نہیں لیکن میں کچھ اور کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اداکاری کے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…
پیشہ وارانہ زندگی کے روزمرہ سے (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
ایک بار لورے نے خواب دیکھا کہ اس نے جھاگ سے بھرے ایک باتھ ٹب میں بیٹھی ایک خاتون کو گلاب کے پھولوں کا ایک گلدستہ تحفے میں دیا تھا۔ اگلے دن اس نے یہ خواب اس خاتون کو سنا دیا۔ اس طرح اس نے اس خاتون کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط36)
”ہندو بنیاد پرست اور برطانوی دائیں بازو کی تحریک اس خیال سے متفق ہے کہ آریائی مغربی سمت سے دریائے گنگا کے ذریعے روانہ ہوئے اور دنیا پر اپنی زبان کے بل بوتے پر ہی قابض ہوئے تھے۔ ان بنیاد پرست ہندوؤں کو جب بیسویں صدی میں بھارت پر حکمرانی کا موقع ملا تو…