سفاک ماں (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
میں پندرہ سال بعد موسم خزاں میں شکار کھیلنے کے لیے ’ویر لون‘ (فرانس کا ایک قصبہ) واپس آیا۔ اپنے دوست سرول کے ہاں قیام کیا۔ اس نے اپنی گاؤں والی حویلی، جسے پروشیائی تباہ کر گئے تھے، دوبارہ تعمیر کرلی تھی۔ میں اس علاقے کا دلدادہ تھا۔دنیا میں کچھ جگہیں ایسی…
خندہ فروش (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ میں کیا کام کاج کرتا ہوں تو سراسیمگی مجھے جکڑ لیتی ہے۔ میں سرخ لال ہو جاتا ہوں، ہکلاتا ہوں، حالانکہ میں ایک متوازن مزاج آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ میں حسد کرتا ہوں ان لوگوں سے، جو یہ کہہ سکتے ہیں: ’میں معمار ہوں‘ مجھے…
چوکیدار کی بیوی
کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔ یہ موسمِ گرما کا شدید ترین اور بلند ترین سطح کا ریکارڈ درجۂ حرارت تھا۔ انیتا سورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی، کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔…
حاجی مراد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
حاجی مراد نے اپنی دکان کے چبوترے سے نیچے چھلانگ لگائی، اپنے لباس کی سلوٹوں کو درست کرتے ہوئے چاندنی رنگ کا کمربند مضبوط کیا، مہندی لگی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور اپنے شاگرد حسن کو آواز دی۔ پھر دونوں نے مل کر دکان بند کی۔ اس کے بعد حاجی مراد نے اپنی جیب سے…
دُھوپ (ہندی افسانہ)
”اب ہم ساتھ نہیں رہ سکتے“ ریکھا نہیں جانتی تھی کہ یہ الفاظ کیسے اپنے آپ آج نِکل گئے تھے، جو وِشال تک پہنچنے سے پہلے اُس کے ہاتھ میں پکڑے چائے کے کپ پر ٹہر گئے تھے اور چائے کی اُوپری سطح پر تیر رہے تھے۔ چائے کا کپ اور زِیادہ کانپنے لگا۔۔ شاید…
چہرہ در چہرہ (عربی افسانہ)
وہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ رانوں پر دھرے تھے۔ کرسی کے اوپری حصے نے اس کے آدھے جسم کو گھیرا ہوا تھا۔ وہ بے پردہ تھی۔ اس کے بال چھوٹے اور لباس عمدہ تھا۔ وہ اپنے سامنے پڑی کرسی کو ایسی تیز نظروں سے گھور رہی تھی، جیسے…
سرخ جوتے (افسانہ)
ایک دفعہ کا ذکر ہے ، ایک چھوٹی سی لڑکی تھی، بہت نازک اور خوبصورت، لیکن انتہائی غریب۔۔ اتنی کہ اسے تمام گرمیاں ننگے پاؤں گزارنی پڑتی تھیں اور سردیوں میں اسے لکڑی کے موٹے جوتے پہننے پڑتے تھے، جو اس کی ایڑھیوں کو چھیل کر زخمی کر دیتے گاؤں میں ایک بوڑھی بیوہ…
انیتا
فرنشڈ اپارٹمنٹس کے ایک بڑے بلاک کے سب سے سستے کمرے میں میڈیکل کے تیسرے سال کا طالب علم یعنی کہ اسٹیفین کلچکوف ٹہل ٹہل کر جانفشانی سے ایناٹومی کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔ اس جانفشانی کے مارے اس کا حلق خشک ہو رہا تھا اور پسینہ اس کی پیشانی پر چمک رہا تھا…