خزاں کے آنسو
ہانا اومیا چھوٹے سے بحری جہاز کے جنگلے کے پاس خوفزدہ کھڑی تھی۔ جہاز لڑکھڑاتا ہوا امریکہ کی طرف روانہ تھا۔ نومبر کے مہینے میں سمندر بھی خاصا سرد اور خوفزدہ ہوتا ہے۔ وہ سردی سے کانپ رہی تھی۔ اس نے اپنی خاص جاپانی طرز کی بنی ہوئی ریشم کی جیکٹ کو اوپر کر کے…
چلتے رہنا بھی ایک موت ہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
جوں ہی رات دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوتی ہے، کارنس پر رکھا مجسمہ آہستہ سے نیچے اترتا ہے اور اس کے سرہانے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، وہ پوچھتا ہے۔۔۔ ’’کون؟‘‘ مجسمہ کہتا ہے۔۔۔ ’’میں؟‘‘ ’’میں کون؟‘‘ ’’میں ماضی ہوں۔‘‘ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتا ہے۔۔۔ ’’لیکن میں تمہیں…
ایک کہانی اپنے لیے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
زندگی کے طویل خارزار میں وہ مجھے چند لمحوں کے لیے ملتی ہے اور اس کے بعد اداسی کی لمبی شاہراہ ہے، جس پر میں اکیلے ہی سفر کرتا ہوں۔۔ یہ چند لمحوں کی ملاقات ہی اس طویل خارزار میں میرا زادِ راہ ہے۔ مجھے لگتا ہے، میری زندگی ایک نہ ختم ہونے والی اداس…
اسکول ٹیچر کا مہمان (چلین ادب سے منتخب افسانہ)
اسکول ٹیچر انیس ’دی پرل آف دی اورینٹ‘ میں داخل ہوئی، جو اس وقت بلکل ویران تھا۔ سیدھی کاؤنٹر پر پہنچی، جہاں ریاض حلابی شوخ پھولوں والے کپڑے کا تھان لپیٹ رہا تھا۔ اسکول ٹیچر نے اسے بتایا کہ اس نے اپنے مہمان سرائے میں ایک مہمان کا سر کاٹ دیا ہے۔ تاجر نے…
خزاں گزیدہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہو گئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔ قیدی طوق…
کپڑے ہمیں بناتے ہیں۔۔ (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
نوٹ: اس مختصر کہانی میں فرانسیسی مصنف ہنری ڈوورنوئس نے گھروں میں ڈاکے ڈالنے والے ڈاکوؤں کے ایک گروہ کی کہانی بیان کی ہے۔ پولیس اہلکار کے لباس میں ٹینگو گارڈ کے طور پر کھڑا تھا، جبکہ دیگر دو چور گھر میں گھس جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی پولیس اہلکار قریب نظر…
باہر (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
تین دنوں کے بعد جب کرفیو اٹھایا گیا تو یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ کوئی بھی گھر سے باہر نکلنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا۔ نامعلوم وجوہات کی بِنا پر لوگوں نے یہی بہتر سمجھا کہ وہ اکیلے یا اپنے خاندانوں کے ہمراہ اندر ہی رہیں اور شاید بات سیدھی تھی کہ…
جھوٹ کی سرزمین (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
رَوبی نے پہلا جھوٹ تب بولا تھا، جب وہ سات سال کا تھا۔ اس کی ماں نے اسے شِکنوں سے بھرا ایک پرانا نوٹ دیا اور اسے کہا کہ وہ کریانے والی دکان پر جائے اور اس کے لیے کنگ۔سائز ’کینٹ‘ سگریٹوں کا ایک پیکٹ لائے۔ رَوبی نے اس کی بجائے ایک آئس کریم کون…