کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (آٹھویں اور آخری قسط)
’دُریجی‘ کے قدیم اور خاموش قبرستان سے واپسی کا ارادہ کرتے وقت شام اپنے پراسرار سائے پھیلا رہی تھی۔ تیز اور سرد ہوائیں چل رہی تھیں اور دن بھر کی مسافت کی تھکن جسم پر غالب آ چکی تھی۔ صبح سے ’تؤنگ شریف‘ اور اس کے گردونواح کے کٹھن راستوں میں مسلسل موٹر…
کھیرتھر کا سفر : کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (ساتویں قسط)
رتن ناتھ مندر سے ہوتے ہوئے ہمیں آگے دریجی کی جانب جانا تھا۔ اس وقت ہم ضلع جامشورو کی حدود میں تھے۔ آگے دریجی یونین کونسل آتی ہے، جو پہلے ضلع لسبیلہ میں شامل تھی مگر اب ضلع حب چوکی کا حصہ ہے۔ جیسے ہی ہم رتن ناتھ مندر اور اس کے صاف شفاف چشمے…
سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع حب ڈیم کی کہانی، جس کی جھیل دلکش تفریح گاہ بھی ہے
پاکستان میں کئی بڑے ڈیم ہیں جو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں حب ڈیم بھی شامل ہے، جو حب ندی پر بنایا گیا ہے اور متعدد مقاصد کو پورا کرتا ہے۔ حب دریا پر واقع حب ڈیم پانی کا اہم ذخیرہ ہے۔ یہ ڈیم سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر…