
رتن ناتھ مندر سے ہوتے ہوئے ہمیں آگے دریجی کی جانب جانا تھا۔ اس وقت ہم ضلع جامشورو کی حدود میں تھے۔ آگے دریجی یونین کونسل آتی ہے، جو پہلے ضلع لسبیلہ میں شامل تھی مگر اب ضلع حب چوکی کا حصہ ہے۔
جیسے ہی ہم رتن ناتھ مندر اور اس کے صاف شفاف چشمے سے آگے روانہ ہوئے، پکی سڑک کے قریب ایک بہت بڑی عمارت نظر آئی۔ اس میں کئی کمرے بنے ہوئے تھے مگر اب وہ خستہ حالت میں تھے۔ عمارت کافی پرانی معلوم ہوتی تھی۔ نور احمد نے بتایا کہ یہاں ایک بڑی پولیس چوکی ہوا کرتی تھی۔ میں سوچنے لگا کہ آج یہاں آبادی زیادہ ہے، مگر اتنی بڑی چوکی اب ویران پڑی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ جگہ مسافروں یا رتن ناتھ کے میلے میں آنے والے زائرین کے قیام کے لیے بھی استعمال ہوتی ہوگی، کیونکہ یہ علاقہ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے۔
ہم پکی سڑک پر آگے بڑھے تو ساتھ ہی گندم کی فصلیں نظر آئیں، کہیں کھڑی تھیں اور کہیں کٹ چکی تھیں۔ جنگلی کیکر کے درخت کثرت سے موجود تھے۔ کچھ بھینسیں بھی نظر آئیں۔ یہ میرے لیئے حیرانی کی بات تھی کہ کوہستانی علاقے میں جہاں پانی کم ہوتا ہے، وہاں بھینسوں کا انتظام کیسے کیا جاتا ہوگا؟ کیونکہ بھینس کو گرمی میں پانی کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ شاید یہاں کے لوگ حالات کے مطابق انہیں کسی حد تک ایڈجسٹ کر لیتے ہوں یا نہلانے کا کوئی انتظام کرتے ہوں۔
ایک سیدھا راستہ پہاڑوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ ہم چار موٹر سائیکلوں پر اسی راستے پر سفر کر رہے تھے۔ موسم کچھ بہتر ہو چکا تھا اور گرمی کی شدت کم ہو گئی تھی۔ دونوں جانب پہاڑوں کا ایک سلسلہ پھیلا ہوا تھا اور درمیان میں چھوٹی چھوٹی ندیاں تھیں، جو بارش میں بڑے ندی نالوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، کیونکہ پہاڑوں سے بہہ کر پانی بہت اسپیڈ سے بہنے لگتا ہے۔ کہیں کہیں چھوٹے کھیتوں میں گندم، گھاس اور پیاز کی فصلیں لگی ہوئی تھیں۔
پانچ سے چھ کلومیٹر سفر کے بعد کچھ سائن بورڈ نظر آئے جن پر “ٹکا باران 9 کلومیٹر، تنگلا دیم” اور اس بورڈ کے نیچے سردار نبیل گبول کا نام درج تھا، ’ٹِکا باران‘ کا علائقہ گبول برادری سے منسوب ہے، اس لیئے یہاں نبیل گبول کا اثر رسوخ بھی بہت ہے۔ ٹکو باران کے متعلق بدر ابڑو اپنی مشہور کتاب ’کوھستان جو سفر‘ میں لکھتے ہیں کہ: ”ٹکو باران کوہستان کی ایک دیہہ (بستی) ہے۔ کھیرتھر کے مغربی حصے میں واقع ہے، ٹکو باران کے پہاڑ کی بلندی سے کسی زمانے میں چٹان کا ایک بڑا ٹکڑا ٹوٹ کر گرا تھا، اس جگہ پر ٹوٹی ہوئی چٹان کا وہ نشان (ٹکو) دور سے ہی نظر آتا ہے، اسی لیے باران وادی کے اس حصے کو ’ٹکو باران‘ کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً دو ایکڑ پر پھیلی ہوئی ایک قبل از تاریخ (Pre-historic) سائٹ ہے۔ یہاں قدیم زمانے سے ایک چشمہ بہہ رہا ہے، بہتے پانی سے چھوٹے جھرنوں کی آواز ایسی جیسے پہاڑی صحرا میں کوئی جل پری میٹھے سروں میں گنگنا رہی ہو۔ یہاں کوئی آبشار نہیں بس فٹ ڈیڑھ فٹ کی ڈھلانیں اور گولائیاں ہیں جن سے سُر بہتے ہیں۔ میں نے پانی کے ان بہتے سروں کو اپنے چھوٹے سے ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لیا۔“
(کاش ہم بھی پانی کے ان بہتے سروں کو سن پاتے، فطرت کی خوبصورتی صرف آنکھوں کو نہیں لبھاتی، ساتھ ہی کانوں میں بھی رس گھولتی ہے۔)
اس چشمے کا بہتا پانی جن پتھروں پر سے گزرتا، اس کا رنگ بدل کر سرخ ہو جاتا۔ حالانکہ پینے میں یہ پانی نہایت میٹھا اور شفاف معلوم ہوتا تھا۔ اس پانی میں کون سے ذخائر (Deposits) شامل ہیں، یہ کوئی ماہر ہی تجزیہ کر کے بتا سکتا ہے۔“
اسی طرف ایک ڈیم کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔ ہم ڈامر کی سیاہ سڑک پر تقریباً 70 سے 80 کی رفتار سے آگے بڑھ رہے تھے ۔ راستہ سنسان دونوں جانب نہ انسان نہ انسان کی ذات بس ایک طویل سفر، جیسے زندگی کا نہ ختم ہونے والا سفر۔۔ صبح آٹھ بجے سے ہم مسلسل سفر میں تھے۔ درمیان میں دو سے تین جگہوں پر کھانے، چائے یا کسی جگہ کو دیکھنے کے لیے کچھ لمحے رکے، مگر زیادہ وقت موٹر سائیکل کے سفر میں گزر رہا تھا۔ راستے میں ہمیں جگہ جگہ قبریں نظر آئیں، جو سڑک کے دائیں جانب تھیں اور ان پر رنگ برنگی چادریں چڑھی ہوئی تھیں۔ لوگوں کے اپنے اپنے عقیدے ہوتے ہیں، اسی لیے وہ قبروں پر چادریں چڑھاتے اور منتیں مانگتے ہیں۔
تقریباً ایک گھنٹے کے مزید سفر کے بعد دریجی یونین کونسل کے سائن بورڈ نظر آنے لگے۔ مطلب ہم صوبہ سندھ کی حدود سے بلوچستان کی عظیم سر زمین پہ قدم رکھ چکے تھے۔ یہاں ایک مرکزی راستہ تھا، جو حب چوکی یا کراچی سے آتا ہے اور آگے سارُونہ 76 کلومیٹر، لک روہیل 75 کلومیٹر اور آگے لوئی کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا تؤنگ شریف، ٹکا باران کا راستہ دائیں جانب مڑتا ہے۔ ہم اسی راستے سے آ کر مرکزی جگہ پر رکے تاکہ پیچھے آنے والے دوستوں کا انتظار کر سکیں۔
گوگل انسائکلوپیڈیا کے مطابق: ”دُریجی ضلع حب، بلوچستان کے جنوب مشرق میں واقع ایک اہم انتظامی تحصیل ہے۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 52,236 نفوس پر مشتمل ہے، جن میں سے تقریباً 70 فیصد دیہی علاقوں میں آباد ہیں۔ ان کا انتظامی مرکز دریجی شہر ہے۔ یہ علاقہ پہلے ضلع لسبیلہ کا حصہ تھا، مگر 2022 کی انتظامی اصلاحات کے بعد اسے نو تشکیل شدہ ضلع حب میں شامل کیا گیا، جہاں اسے دیگر تحصیلوں گڈانی، حب، ساکران اور سونمیانی کے ساتھ منظم کیا گیا ہے۔ انتظامی طور پر دریجی دو یونین کونسلز پر مشتمل ہے۔“
جب سب دوست پہنچ گئے تو ہم دریجی بازار سے پہلے دائیں جانب موجود بھوتانی قبیلے کے سرداروں کے قبرستان کی طرف گئے۔ یہ قبرستان ایک چار دیواری کے اندر تھا اور خاندانی قبریں عام قبروں سے الگ تھیں۔ ہم نے وہاں ایک مخصوص قبر جو بھوتانی خاندان کے دادا کی تھی دیکھنا تھی۔ یہ حکم ڈاکٹر پروفیسر رخمان گل پالاری نے کامریڈ حفیظ بلوچ کو دیا تھا، کہ محمد ابراھیم بھوتانی کی قبر کی تفصیلات مرحوم کا نام، عمر، ولدیت اور تاریخ وفات معلوم کرنا ہے اس لیئے سر کے حکم پر اس قبر کی تصویر لینی تھی، تاکہ اسے کسی تحقیقی یا کتابی کام میں استعمال کیا جا سکے۔ ہم نے وہ قبر ڈھونڈ لی، جس کی تختی پہ لکھا تھا محمد ابراھیم بھوتانی ولد امید علی بھوتانی تاریخ پیدائش 24 اگست 1947ع وفات 18 اپریل 2007ع۔
ان سردار زادوں کے قبروں کو دیکھ کر بھی ایک طبقاتی تفریق نظر آئی، سردار زادوں اور ان کی خاندان کی قبریں الگ چار دیواری میں ہیں اور عام غریب لوگوں کی قبریں الگ چار دیواری میں۔۔۔!!!
ایک چیز وہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ بھوتانی خاندان کے قبرستان اور اس سے جڑے عام غریب غرباء کے قبرستان کی چاردیواری اور وہاں بنی عمارت، اس کے جتنے بھی کمرے اور قبرستان کے گیٹ اور اس کے ساتھ جڑا رستہ اور ارد گردصفائی بہت زیادہ تھی اور باقاعدہ باؤنڈری کو گیٹ لگا ہوا ہے، اگر کوئی مسافر وہاں آئے تو مسافر خانہ بھی موجود ہے۔ یہ چیزیں ہمیں کوہستان کے باقی علاقے کے قبرستانوں میں نہیں ملتیں، حالانکہ آثارِ قدیمہ کی بہت ہی پرانی قبریں جو پانچ سے سات سو سال پرانی ہیں مگر ان تاریخی قبروں کے گرد باؤنڈری وال موجود ہی نہیں۔ جو موسم ،جانوروں اور انسان کے رحم و کرم پر ہیں۔ بہت ساری ایسی قبریں ختم ہونے کے قریب ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کے کلچر اور ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے ادارے یا ہیریٹیج ڈیپارٹمنٹ خواب خرگوش میں ہیں۔ اس سرزمین پر یہاں کے لوگوں کی تاریخ اور تہذیب تراشیدہ (گھاڑی) پتھر کی قبروں پر موجود ہیں، جو اجتماعی بے حسی کا نظارہ پیش کر رہی ہیں اور کوئی ان کی مالکی کی کرنے والا ہی نہیں۔۔۔!!!
(جاری ہے)
حوالہ جات
– ابڑو بدر ’کوہستان جو سیر‘ صفحہ نمبر 337
– گوگل انسائیکلوپیڈیا
_________________
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (تیسری قسط)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چوتھی قسط)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (پانچویں قسط)
-
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چھٹی قسط)




