سرخ موت (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
سارے دیس پر سرخ موت کا سایہ تھا۔۔ سرخ موت، شہر شہر گلی گلی گھوم رہی تھی۔۔ کوئی اس سے محفوظ نہ تھا۔۔ کسی قاتل کی کبھی کوئی ایسی دہشت نہ چھائی ہوگی، نہ کوئی جلاد ایسا سفاک ہوا ہوگا۔۔ سرخ موت آناً فاناً وار کرتی، اچانک اور ناگہانی۔۔ اس کے شکار ہونے والوں کو…
افواہ (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے کی انتظامیہ کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ جارج ولیمز کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے سیم بلنگز کا نام بطور خزانچی پیش کر دیا۔ حیرت کی بات یہ کہ سب لوگوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کی تائید کی اور وہ بلا مقابلہ ہی خزانچی بن گیا۔ یہ ایندروسکوگن…
ایک جوتشی کا دن (بھارتی ادب سے منتخب افسانہ)
حسبِ معمول بہت پابندی سے دوپہر کے وقت اس نے اپنا تھیلا کھولا اور اپنا پیشہ ورانہ ساز و سامان پھیلایا، جو کہ ایک درجن کوڑیوں، ایک چوکور کپڑے کے ٹکڑے، جس پر مبہم اور پراسرار زائچے بنے ہوئے تھے، ایک بیاض اور تاڑ کی چھال کی لکھی ہوئی تختیوں کے بنڈل پر مشتمل…
ریشمی جُرابوں کا ایک جوڑا
ننھی مسز سمرس کو ایک روز غیر متوقع طور پر پندرہ ڈالر کے مالکانہ حقوق حاصل ہو گئے۔ اس کے نزدیک یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس کا پھٹا پرانا بٹوہ جس طرح ان پیسوں سے ٹھنسا ہوا تھا، اس نے مسز سمرس کو عجیب سی تسکین دی۔ ایسا لطف، جس سے وہ سالہا سال…
رکاوٹوں کے درمیان (فلسطینی ادب سے منتخب افسانہ)
وقت رک سا گیا تھا۔ میں نے اپنی شرٹ کی جیب سے ایک سگریٹ نکالی اور سلگالی۔ میں مسکراتے ہوئے مسلسل اس کے چہرے کی طرف دیکھے جارہا تھا ”برائے مہربانی سگریٹ بجھا دیں۔۔ یہاں موجود آکسیجن ہمارے لیے ناکافی نہ ہو۔“ اس نے کہا ”کیا آپ اتنی خوفزدہ ہیں؟“ میں نے…
نفس پروری کا نتیجہ (سچی کہانی)
لباس کی تراش خراش سے تو وہ ایک صاحبِ ثروت گھرانہ لگتا تھا کہ جن کی دولت اور خوش بختی ان کی ضرورت سے بہت زیادہ ہو۔۔ اور ساتھ ہی ان کے مسائل بھی ایسے ہی تھے۔ ان کا شاندار گھر اور پھولوں سے بھرا باغیچہ دیکھ کر تو کیلیفورنیا کے خوبصورت گھر اور طویل…
ممتا (افسانہ)
کل پھیکے کمیار کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔ سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔! جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔؟ میں جانتا تھا پھیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔ وہی ہُوا، شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا…
م سے مرد (افسانہ)
”ف سے فوارہ، ق سے قلم، ل سے لٹو، م سے مرد۔۔۔“ بانو کی نظریں قاعدے میں بنے مرد کے اوپر ٹک گئیں۔۔ سوٹ پہنے، ٹائی لگائے، سلیقے سے جمے ہوئے بال بنائے، م سے مرد۔۔۔۔ اس کی زبان بار بار ’م سے مرد‘ کی گردان کرتی رہی۔ ”بانو بیٹا، آگے سبق یاد نہیں ہے؟“…