سوا سیر گیہوں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کسی گاؤں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔۔ چھکّا پنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھوت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جانے کی فکر نہ تھی۔ ودّیا نہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو…
خوابوں کی لڑکی۔۔ (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
اپریل کی ایک خوب صورت صبح ٹوکیو کے سب سے فیشن ایبل علاقے ہاروجوکو سے گزرتے ہوئے میں نے وہ لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی۔ سچ کہوں تو وہ اتنی حسین دکھنے والی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی طرح دوسروں سے الگ نہیں دکھتی۔ اس کے کپڑے بھی کچھ…
کاغذ کا رشتہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
باہر اوسارے میں کوئی اونچی اونچی آوازوں میں بول رہا تھا۔ شاید بڑکو، چھوٹے اور ابا سب اکٹھے مل کر بول رہے تھے۔ ’’کاہے سب جنی سبیرے سبیرے ہلّا کرت جات ہیں۔‘‘ اماں نے اعتراض سے زیادہ تجسس کا اظہار کیا اور چولہا پھونکتے پھونکتے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میلے دوپٹے سے…
بے نیل مرام (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آؤ ربڑ اکٹھا کرنے چلیں۔۔ یہ جملہ امازون کے کنارے سال کے چند مخصوص مہینوں میں سننے کو ملتا ہے۔ مرد کھیتی چھوڑ دیتے ہیں، عورتیں گھر کے کام کاج بھول جاتی ہیں اور لڑکیاں پھول چننا موقوف کر دیتی ہیں۔ یہ جملہ ہر ایک کی زبان پر ہوتا ہے۔ یہ جملہ ایک تیوہار، ایک…
من بھید (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
گارشیا، ایک طرف خاموش کھڑا اپنے ناخنوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ کارلوس آرام کرسی پر بیٹھا چھت کی طرف دیکھ رہا تھا، ماریا لوئیسا کھڑکی میں بیٹھی کچھ بُن رہی تھی۔ کمرے میں ایک مہیب سناٹا طاری تھا۔کتنی دیر سے اُن تینوں نے کوئی بات نہ کی تھی۔ اُس پورے دن ان…
حصارِ تنہائی (موزمبیق کے ادب سے منتخب افسانہ)
ڈونا برتا گارڈن میں ایک بنچ ہے، یا پھر یوں کہنا چاہیے کہ ایک ہی بنچ باقی رہ گیا ہے۔ بقیہ تمام کو وہاں سے اکھاڑ لیا گیا ہے۔ ان کے تختے جلانے کے لیے استعمال کیے جا چکے ہیں۔ اس آخری بنچ پر ایک بوڑھا رہتا ہے۔ ہر رات وہ بوڑھا اور بنچ اس…
خزاں گزیدہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہو گئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔ قیدی طوق…
میئر کے کان (پیرووین ادب سے منتخب افسانہ)
سولہویں صدی کے وسط میں پوٹوسی (بولیویا کا شہر) کا شاہی شہر مہم جُو لوگوں کے اجتماعات کے لئے موزوں ترین جگہ تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چاندی کی کانیں دریافت ہونے کے پانچ سال کے اندر یہاں کی آبادی بیس ہزار نفوس سے بڑھ چکی تھی۔ محاورہ ہے کہ…