فلسفہِ عمل (افسانہ)
سر موہن لال نے ریلوے اسٹیشن کی فرسٹ کلاس انتظار گاہ کے آئینہ میں اپنے آپ پر ایک نظر ڈالی۔ آئینہ چونکہ ہندوستان میں بنا تھا، لہٰذا اس کے پیچھے لگا سرخ آکسائیڈ (red oxide) جگہ جگہ سے نکل چکا تھا اور آئینے کی بیرونی نیم شفاف سطح پر آڑی ترچھی لکیریں ابھر آئی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (اکیسویں قسط)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی؛ ”راستے میں بہت سی جگہوں کے پرانے لداخی طرز کے نام اب تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ مثلاً ’پرکوٹا‘ اب ’مہدی آباد‘ ہے، ’گڈی کاسڈو‘ اب ’گڈی خاد‘ ہے اسی طرح ’وداشا‘ اب ’چٹانگ‘ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اولڈنگ بھی نیا نام ہے پرانا نام ’اول…
جوئیں (ڈنمارک کے زیر انتظام، نیم خود مختار جزائر فیرو کی ایک کہانی)
لِنگوریہ سے تھوڑی دور شمال میں، ڈھلوان کے سب سے زیادہ مضبوط حصے پر ایک تنہا مکان ہے اور اِس گھر کے آس پاس کھیتیاں ہیں۔ یہاں کلور اور اُس کے والدین رہتے تھے۔ کلور جب بیس سال کا تھا تو اس کی ماں فوت ہو گئی تھی اور اس کا باپ بستر پر جا…
ما پارکر کی زندگی (نیوزی لینڈ کے انگریزی ادب سے منتخب افسانہ)
ما پارکر ہر منگل اس ادبی شخصیت کے فلیٹ پر صفائی کے کام پر مامور تھی۔ حسبِ معمول جب وہ اس صبح آئی تو صاحب نے دروازہ کھولا اور اس کے پوتے کے بارے میں پوچھا۔ ماپارکر نے اندھیرے ہال میں داخل ہو کر، دروازہ بند کرنے میں صاحب کی مدد کی، ”ہم نے اسے…
ڈپٹی کلکٹر (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
شکلدیپ بابو قریب ایک گھنٹے بعد واپس لوٹے۔ گھر میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے برآمدے کے کمرے میں جھانکا، کوئی موکل نہیں تھا اور محرر صاحب بھی غائب تھے۔ وہ اندر چلے گئے اور اپنے کمرے کے سامنے برآمدے میں کھڑے ہو کر بندر کی مانند آنکھیں مٹکا مٹکا کے انہوں نے…
ہائے عوام۔۔۔۔! (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کر سکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے۔۔۔۔ آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو…
آسمان پر ایک گھڑ سوار (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
1861ع کے موسم خزاں کی ایک سنہری دوپہر، ایک سپاہی جنوبی ورجینیا کی ایک سڑک کے کنارے پتوں کے ایک ڈھیر پر لیٹا تھا۔ وہ پیٹ کے بل اوندھا یوں لیٹا ہوا تھا کہ اس کے پاؤں انگلیوں کا سہارا لیے ہوئے تھے اور اس کا سر بائیں بازو پر رکھا تھا۔ اپنے سیدھے ہاتھ…
دلدل (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
میّنْک جی لفظوں کے کاریگر تھے – بہت اچھے کاریگر – لفظوں کو گڑھتے، چھیلتے، کاٹتے، تراشتے – انہیں روپ دیتے – کئی طرح کے روپ — لفظوں سے وہ پھول کھلاتے۔قدرت کے رازوں کو بُوجھنے کی کوشش کرتے۔ ان کے لفظ غریبوں کے گھروں میں جا کر…