منڈیل بام گیٹ (فلسطینی افسانہ)
”اس سے پوچھو، یہاں سے جانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے یا نہیں؟ بس مجھے یہ بتاؤ مسٹر!“ اسرائیلی کسٹم کا سپاہی چیخا اس کی ڈیوٹی مینڈل بام گیٹ پر تھی۔ وہ بڑی رعونت سے گیٹ کے سامنے ہاتھ باندھے چوکس کھڑا تھا ”جناب! یہ ہماری والدہ کا فیصلہ ہے، وہ یہاں ہمارے ساتھ…
قدرت نے لیا بلونت سنگھ سے انتقام (افسانہ)
رات کے آخری پہر دروازے پر دستک ہوئی۔ اپنے بیٹے کا پیٹ پالنے کی خاطر دوسروں کے گھر کام کر کے تھکی ماندی پونم اٹھی اور دروازے کی طرف جاتے ہوئے بولی ”ضرور یہ بلونت ہوگا“ اور دروازہ کھول دیا شراب کے نشے میں دھت بلونت سنگھ دروازہ کھلتے ہی نیچے گر گیا۔ وہ زخمی…
سوانگ (چیک ادب سے منتخب افسانہ)
1 کار کے پٹرول گیج کی سوئی نے اچانک ٹینک کے خالی ہونے کا اشارہ دیا اور اسپورٹس کار کے نوجوان ڈرائیور نے اعلان کیا کہ یہ کار پاگل کر دینے کی حد تک زیادہ پٹرول کھاتی ہے۔ ’’دیکھنا کہیں پٹرول ختم نہ ہو جائے،‘‘ لڑکی نے، جو تقریباً بائیس برس کی تھی، احتجاج کیا…
قبرستان کا رشتہ (فرینچ ادب سے منتخب افسانہ)
پانچوں دوست اپنی دعوت کے اختتام پر تھے۔ وہ سب اس خبر کے ادھیڑ عمر رؤسا تھے۔ ان میں سے دو کنوارے اور تین شادی شدہ تھے۔ وہ اپنی جوانی کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے مہینے میں ایک دفعہ یکجا ہوا کرتے تھے، پہلے طعام کا انتظام ہوتا تھا اور اس کے بعد…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…
لانتوخ (پولش ادب سے منتخب افسانہ)
(مغربی لوک کہانیوں میں ڈوموائے [Domovoy] ایک گھریلو ماورائی کردار ہے۔ اس عجیب الخلقت بونے کے بڑے کان، سینگ اور جسم پر بال ہوتے ہیں۔ وہ مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ اس میں ایک نام لانتوخ بھی ہے۔ وہ گھروں میں چولہے کے پیچھے، تہہ خانوں اور…
انڈیا میں صدیوں پرانے ستون، جو کسی ساز کی طرح بجتے ہیں۔۔
جنوبی انڈیا میں ایک چمکدار سورج کے نیچے نیم کھلی آنکھوں کے ساتھ میں دور بے ترتیب پڑی چٹانوں کو دیکھ سکتی تھی جبکہ میرے ارد گرد نفاست سے تیار کیے گئے دروازے، ستونوں والے دیوان اور بڑے بڑے مجسمے تھے میں ہمپی شہر میں تھی جو دو باتوں کے لیے جانا جاتا ہے:…
ردا (سندھی افسانہ)
میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ اس میں میرا قصور نہ تھا۔ وہ واقعی کافی بدل چکا تھا۔ ملا بھی برسوں بعد تھا۔ اس کے گالوں میں کھڈے پڑ گئے تھے۔ بال اجڑے سے تھے، جن میں شاید کئی دنوں سے اس نے تیل نہیں ڈالا تھا۔ اس کا رنگ، دھوپ میں پڑے کسی پتے…