قرض کی پیتے تھے۔۔۔ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا غالب وہاں سے اکتا کر اُٹھے۔ باہر ہوا دار موجود تھا۔ اس میں بیٹھے اور اپنے گھر کا رخ کیا۔ ہوادار سے اتر کر جب دیوان خانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متھرا داس مہاجن بیٹھا ہے۔ غالب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا، ’’اخاہ متھرا…
پو پھٹنے تک (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
راملو کی چھوٹی سی کٹیا میں آٹھ زندگیاں سانس لیتی تھیں۔ اسی کٹیا میں انکیا کا بچپن جوانی سے جا ملا تھا۔ اسی کٹیا میں ملیا کی مسیں بھیگی تھیں۔ اسی کٹیا میں پوچی نے شرمانا سیکھا تھا۔۔ اور پھر اسی کٹیا میں انکیا کی بیوی نے دو بچے بھی جنے تھے۔۔۔ اور اب یہی…
چغد (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکوں اور لڑکیوں کے معاشقوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ پرکاش جو بہت دیر سے خاموش بیٹھا اندر ہی اندر بہت شدت سے سوچ رہا تھا، ایک دم پھٹ پڑا، ’’سب بکواس ہے، سو میں سے ننانوے معاشقے نہایت ہی بھونڈے اور لچر اور بے ہودہ طریقوں سے عمل میں آتے ہیں۔ ایک باقی رہ…
چندرو کی دنیا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کراچی میں بھی اس کا یہی دھندا تھا اور باندرے آ کر بھی یہی دھندا رہا۔ جہاں تک اس کی ذات کا تعلق تھا، کوئی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ وہ کراچی میں بھی سدّھو حلوائی کے گھر کی سیڑھیوں کے پیچھے ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں سوتا تھا اور باندرے میں وہی سیڑھیوں کے…
جیئرن جو دڑو (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
امر کی آنکھ کھلی تو سارا جسم پسینے سے شرابور تھا– یہ کیسا خواب تھا جو کئی راتوں سے مسلسل اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ سانولی نازک سی لڑکی جیسے صنوبر کی شاخ، اس کی کلائیاں تھر کی عورتوں کی طرح سفید کڑوں سے بھری ہوتیں، کبھی کھنڈرات سے نکلتی اور پانی سے بھرے…
رخصت کی اجازت (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
پیارے تِھیو! یہ خط اگر تمہیں قدرے طویل اور اپنی یک رنگی کے باعث کچھ عجیب بھی لگے، تو بھی اسے بڑے دھیان سے پڑھنا اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔ اگر میں یہ بھی کہوں کہ یہ شاید میرا تمہارے نام آخری خط ہے، تو بھی ڈر نہ جانا کیونکہ میرا نہ…
الیوشا گورشک (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
الیوشا اپنے خاندان کا سب سے چھوٹا لڑکا تھا۔ لوگوں نے اسے گورشک بلانا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ ایک دن اس کی ماں نے اسے ڈیکن (کلیسا کا مہتمم) کی بیوی کے لئے پانی لانے کے لئے بھیجا تو وہ پھسل کر گر گیا اور گھڑا / گورشک ٹوٹ گیا ۔ اس کی ماں…
کل اور آج (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
جنگ کا آغاز حال ہی میں ہوا تھا۔ مارینو لرنا نے رضاکارانہ طور پر افسران کے اسکول میں داخلہ لیا اور تیزی سے نصاب مکمل کر کے انفنٹری لیفٹیننٹ کے درجے پر فائز ہوا۔ اپنے کنبے کے ہمراہ آٹھ دن کی تعطیلات گزارنے کے بعد وہ اپنے یونٹ کیسیل بریگیڈ کی بارہویں رجمنٹ…