یادِ یارِ مہرباں (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
(1) میں سرما کا وہ خشک سویرا کبھی نہیں بھول سکتا، جس دن میرے دادا کے گاؤں سے بوڑھے فڈانگو کی وفات کی خبر آئی۔ بعض اوقات ہم اچھی یا بری خبر سن کر ذرا مختلف رد عمل دکھاتے ہیں۔ فڈانگو کی موت کی خبر میں نے دل سے سنی اور اس سے پہلے کہ…
مجھ سے باتیں کرو! (افسانہ)
اس واہیات گاؤں میں ویسے ہی گنتی کے چند بلب تھے، جو کوتاہ قد دیواروں سے ذرا اوپر ٹِکے، سہمے سہمے انداز میں یوں جھانکتے تھے، جیسے شریف زادیاں گلی سے گذرتے کسی وجیہہ اجنبی نوجوان کو سب سے نظریں بچا کر پردوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں۔۔ ایسے میں جونہی لائٹ گئی،…
شاداب نگر کا چینی بھوت (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
’یار سکندر سچ بتا، اتنا سستا فلیٹ کیسے مل گیا اور وہ بھی شاداب نگر کی پہاڑی پر؟‘ جب علی کے اصرار کرنے پر سکندر نے فلیٹ کی اصل قیمت بتائی، تب اس نے بے صبری سے پوچھا۔ ’ہاں یار جھوٹ تھوڑی بولوں گا تجھ سے اور ویسے بھی باس نے بتایا تھا کہ اپنا…
کالی بھیڑ (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک ملک ایسا تھا، جس کا ہر باسی چور تھا۔۔۔ اس کا ہر باسی، رات میں تالا شکن اوزار اور اندھے شیشے والی لالٹین لیے گھر سے نکلتا اور اپنے کسی ہمسائے کے گھر میں نقب لگاتا۔ وہ جب پَو پھٹتے سمے، لُوٹا ہوا مال لیے اپنے گھر لوٹتا تو اسے پتہ چلتا کہ اس…
ولیمائی (چلی کے ادب سے منتخب افسانہ)
میرا نام ’ولیمائی‘ Walimai میرے والد نے رکھا تھا۔ شمال میں ہمارے بھائیوں کی زبان میں اس کا مطلب آندھی ہے۔ میں تمہیں اپنا نام پکارنے کی اجازت دیتا ہوں، کیونکہ اب تم میری بیٹی کی طرح ہو۔۔ لیکن یہ بھی اس وقت، جب ہم خاندان والوں کے ساتھ ہوں۔ اس لئے کہ اشخاص…
عکسِ بے خیال (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے کئی دنوں سے پرانا گھر میرا پیچھا کر رہا ہے، اس گھر میں میری زندگی کے بہت سے سورج طلوع اور غروب ہوئے۔ میں نے زندگی کے پہلے زینہ پر وہیں قدم رکھا تھا اور جب میں وہاں سے نکلا تو زندگی کے زینے اتر رہا تھا۔ وہاں کی ایک ایک دیوار پر میری…
کپڑے ہمیں بناتے ہیں۔۔ (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
نوٹ: اس مختصر کہانی میں فرانسیسی مصنف ہنری ڈوورنوئس نے گھروں میں ڈاکے ڈالنے والے ڈاکوؤں کے ایک گروہ کی کہانی بیان کی ہے۔ پولیس اہلکار کے لباس میں ٹینگو گارڈ کے طور پر کھڑا تھا، جبکہ دیگر دو چور گھر میں گھس جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی پولیس اہلکار قریب نظر…
دوسری گلی کا کُتا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
دنیا کا نقشہ اپنے سامنے میز پر پھیلائے، انگلیوں میں پنسل تھامے، وہ بہت دیر سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا یا سوچ رہا تھا، کبھی کبھی پنسل نقشے پر بنی لکیروں کے اوپر ہی اوپر راستہ ڈھونڈتے بہت دور تک نکل جاتی اور پھر اسے یوں لگتا، جیسے پنسل کے ساتھ اس کا ذہن بھی…