گھر واپسی (کہانی)
پھٹِک چکروتی گاؤں کے لڑکوں کی ٹولی کا سرغنہ تھا۔ اسے ہر لمحہ کوئی نہ کوئی شرارت سوجھتی ہی رہتی تھی۔ آج بھی اس کے دماغ میں ایک نئی شرارت جاگی۔ دریا کے کنارے کشتی کے مستول میں استعمال ہونے والا درخت کا ایک بھاری تنا پڑا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سب…
دوسری گلی کا کُتا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
دنیا کا نقشہ اپنے سامنے میز پر پھیلائے، انگلیوں میں پنسل تھامے، وہ بہت دیر سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا یا سوچ رہا تھا، کبھی کبھی پنسل نقشے پر بنی لکیروں کے اوپر ہی اوپر راستہ ڈھونڈتے بہت دور تک نکل جاتی اور پھر اسے یوں لگتا، جیسے پنسل کے ساتھ اس کا ذہن بھی…
جب رات ڈھلی (نارویجن ادب سے منتخب افسانہ)
کوپن ہیگن میں بندرگاہ کے پاس ہی ڈھلان پر ایک گلی ہے، جس کا نام اسٹرولڈ اسٹریٹ ہے۔ حال ہی میں تعمیر شدہ اس گلی میں دن کو بھی خاصی خاموشی طاری رہتی ہے۔ مکانات ایک دوسرے سے فاصلے پر واقع ہیں اور بعض جگہوں پر تو روشنی کا انتظام بھی نہیں۔ آج کل گرمیوں…
اندھا آدمی (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک آدمی چھوٹا سا سرخ صندوق اٹھائے گلی میں آ نکلا۔ اس کا پرانا تنکوں کا ہیٹ اور بد رنگ لباس یوں دکھائی دیتے تھے، گویا برسوں سے بارش میں بھگتے رہے ہوں اور سورج نے اتنی ہی مرتبہ انہیں سُکھایا ہو۔ وہ سن رسیدہ نہیں تھا مگر لاغر اور کمزور نظر آتا تھا۔ وہ…
باہر (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
تین دنوں کے بعد جب کرفیو اٹھایا گیا تو یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ کوئی بھی گھر سے باہر نکلنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا۔ نامعلوم وجوہات کی بِنا پر لوگوں نے یہی بہتر سمجھا کہ وہ اکیلے یا اپنے خاندانوں کے ہمراہ اندر ہی رہیں اور شاید بات سیدھی تھی کہ…
آفت زدہ (کینین ادب سے منتخب افسانہ)
طویل عرصے تک میرا بھی یہی یقین تھا کہ وہ پاگل ہے۔ ایسا سمجھنا ایک فطری امر تھا کیونکہ میری ماں نے بتایا تھا کہ وہ پاگل ہے اور گاؤں میں بھی ہر ایک کی یہی رائے تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ بوڑھی عورت نے کبھی کوئی انوکھی حرکت کی ہو جیسا کہ مجنون لوگ…
جھوٹ کی سرزمین (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
رَوبی نے پہلا جھوٹ تب بولا تھا، جب وہ سات سال کا تھا۔ اس کی ماں نے اسے شِکنوں سے بھرا ایک پرانا نوٹ دیا اور اسے کہا کہ وہ کریانے والی دکان پر جائے اور اس کے لیے کنگ۔سائز ’کینٹ‘ سگریٹوں کا ایک پیکٹ لائے۔ رَوبی نے اس کی بجائے ایک آئس کریم کون…
قصہ گو (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ ایک گرم سہ پہر تھی۔ریلوے ٹرین اسی حساب سے گرم تھی۔ اگلا اسٹاپ ٹیمپل کومب تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر تھا۔ مسافروں میں ایک چھوٹی لڑکی تھی، ایک اس سے بھی چھوٹی تھی اور ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ بچوں کی خالہ ایک کارنر سیٹ پر براجمان تھی۔ اس کے بالمقابل دوسری…