وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے۔۔۔ (اُردو ادب سے منتخب تمثیلی افسانہ)
پھر یہی ہوا کہ یاجوج ماجوج رات بھر دیوار کو چاٹا کیے۔۔ یہاں تک کہ دیوار تحلیل ہوتے ہوتے انڈے کے چھلکے کی مانند ہو گئی اور پھر یاجوج ماجوج تھک گئے اور انہیں نیند آنے لگی اور وہ یہ کہہ کر سو گئے کہ باقی دیوار صبح کو چاٹیں گے۔۔ مگر جب وہ صبح…
پازیب (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
بازار میں ایک نئی طرح کی پازیب چلی ہے۔ پیروں میں پڑ کر وہ بڑی اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کڑیاں آپس میں لچک کے ساتھ جڑی رہتی ہیں کہ پازیب کی گویا اپنی شکل کچھ نہیں ہے، جس پاؤں میں پڑے، اسی کے مطابق رہتی ہے۔ پاس پڑوس میں تو سب ننھی بڑی…
اُڑان (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
اور ایک دن وہ سب کام دھندے چھوڑ کر گھر سے نکل پڑی۔۔ کوئی طے شدہ پروگرام نہیں تھا، کوئی سمبندھی بیمار نہیں تھا، کسی کا لڑکا پاس نہیں ہوا تھا، کسی عزیز کی موت نہیں ہوئی تھی، کسی کی لڑکی کی سگائی نہیں ہوئی تھی، کہیں کوئی سنت مہاتما نہیں آیا تھا، کوئی تہوار…
عالاں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اماں ابھی دہی بلو رہی تھیں کہ وہ مٹی کا پیالہ لئے آ نکلی۔ یہ دیکھ کر کہ ابھی مکھن ہی نہیں نکالا گیا تو لسی کہاں سے ملے گی، وہ شش و پنج میں پڑ گئی کہ واپس چلی جائے یا وہیں کھڑی رہے۔ ’’بیٹھ جاؤ عالاں۔‘‘ اماں نے کہا، ’’ابھی دیتی ہوں۔۔۔ کیسی…
افطار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
’روزہ دار روزہ کھلوادے، اللہ تیرا بھلا کرے گا۔۔‘ کی صدائیں ڈیوڑھی سے آئیں۔ ڈپٹی صاحب کی بیگم صاحبہ، جن کا مزاج پہلے ہی سے چڑچڑا تھا، بولیں، ’’نامعلوم کم بخت یہ سارے دن کہاں مر جاتے ہیں۔ روزہ بھی تو چین سے نہیں کھولنے دیتے!‘‘ ’’اللہ تیرا بھلا کرےگا!‘‘ کی…
امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…
کیداری کی ماں (انڈین ادب سے منتخب کہانی
تمہید: حال ہی میں جب میں نے اخباروں میں ‘امامی اپالم’ (خالا کے پاپڑ) کا اشتہار دیکھا تو حیران سا رہ گیا کیونکہ مجھے بھاگیرتی امامی یاد آ گئی تھیں۔ جب مجھے ان کے دلارے بیٹے اور اپنے بہترین دوست کیداری کی بے وقت موت کا خیال آیا تو میرے بدن میں بے چینی کی…
انتقامِ اسیر
آج سے آٹھ سال قبل پیرس کے خوبصورت شہر میں ایک غریب مزدور رہتا تھا، اپنے علاوہ اسے دو پیٹ اور پالنے پڑتے۔۔۔۔۔۔ اس کی مالکہ یعنی بیوی اور ننھا سا بچہ۔ میں ناظرین کی خدمت میں حقیقت بیان کر رہا ہوں، جس میں کسی قسم کے تصنع کو دخل نہیں۔ جو کچھ بھی ہے،…