سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ (افسانہ)
عبدالمنان سے وہ میری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد سے اسے دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں۔ جب بھی دفتر کے کیمپس میں داخل ہوتے ہوئے آدم قد چہار دیواری پر نظر پڑتی تو نگاہوں میں عبدالمنان روشنی کے جھماکے کی طرح نمودار ہوتا۔ اس کا دبلا پتلا جسم۔ دھونکنی کی…
بُن بَست (منتخب افسانہ)
اس بار وطن آنے کے بعد میں نے شہر میں دن دن بھر گھومنا شروع کیا، اس لیے کہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہیں تھا۔ میری اماں سلائی کڑھائی کا کام کرکے جو تھوڑی بہت رقم پیدا کرتی تھیں، وہ ہم ماں بیٹوں کا پیٹ بھرنے کو کافی تھی، بلکہ میرے لیے تو ہمیشہ…
آخری حربہ (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
”یور آنر! میں اپیل کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔“ کیلتھ نے کہا۔ ایک لمحے کے لیے کمرہِ عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ بس ایک ہلکی سی گونج سنائی دے رہی تھی۔ پھر روبوٹ جج نے جواب دیا۔ ”درخواست منظور کی جاتی ہے۔“ کیلتھ نے سوچا ایک آزاد سرکٹ متحرک ہو گیا ہے۔ اپیلیں…
ڈے کیئر (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہاں ہمیشہ میلہ لگا رہتا تھا۔ کھوے سے کھوا چھلتا۔ خلقت یوں امڈی آتی تھی جیسے مفت کچھ بٹ رہا ہو۔۔ لیکن مفت کچھ بٹتا ہوتا تو کیا سب کے چہرے ایسے ہوتے؟ ستے ہوئے، متردد آنکھوں والے، موت کی پرچھائیاں جن پر رقص کرتی ہوتی تھیں۔۔ اپنی موت کی نہیں تو کسی عزیز کی…
اکتارا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اِکتارا میرے ہاتھ میں تھا۔ سامنے چٹیل میدان کے دوسرے سرے پر ریت کے ٹیلوں سے دور ناریل کے دو متوازی درخت ساکت اور محوِ حیرت کھڑے ہوئے تھے۔ سب کچھ اداس تھا۔ سارے میں مایوسی کی ایک لہر پھیلی ہوئی تھی اور اِکتارا میرے ہاتھ میں تھا۔۔ رجمنٹ آج ایک سال کے بعد…
بجنس (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ٹفن میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ کَلُّو نے امرودوں کا ٹھیلا اسکول کے گیٹ سے ذرا سا ہٹ کر کھڑا کیا کہ آنے جانے والوں کو دقت نہ ہو۔ یہ ایک مشنری اسکول تھا۔ تیسرے اسٹینڈرڈ تک لڑکے بھی لیے جاتے تھے لیکن اس کے بعد صرف لڑکیاں۔ زیادہ تر بچے امرودوں کے بڑے…
شکاری (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
مرطوب، حبس آلود دوپہر۔ آسمان پر بادل کی کترن تک نہیں۔۔۔ دھوپ میں پکی ہوئی گھاس تھکی ماندی، مایوس دکھائی دے رہی ہے، جیسے اگر بارش ہو بھی جائے تب بھی یہ کبھی سرسبز نہیں ہو سکے گی۔ جنگل خاموش، ساکت کھڑا ہے، جیسے درختوں کے اوپر سے کسی کی راہ تک رہا ہے، یا…
کاغذ کا رشتہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
باہر اوسارے میں کوئی اونچی اونچی آوازوں میں بول رہا تھا۔ شاید بڑکو، چھوٹے اور ابا سب اکٹھے مل کر بول رہے تھے۔ ’’کاہے سب جنی سبیرے سبیرے ہلّا کرت جات ہیں۔‘‘ اماں نے اعتراض سے زیادہ تجسس کا اظہار کیا اور چولہا پھونکتے پھونکتے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میلے دوپٹے سے…