Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

عزت اور غیرت سے بھری تاریخ میں جو سبق ہم نہیں سیکھ پاتے

By Akhtar Rasool
فروری 15, 2023 5 Min Read
0

عزت آنی جانی چیز ہے، بندہ ڈھیٹ ہونا چاہیے۔ میٹرک کے فوراً بعد اپنے پٹھان دوست کو میں یہ اصول رٹوانے اور اُسے اِس کا عملی پائجامہ چڑھوانے کی کوشش کرتا تھا

اس بے چارے کا ماتھا گھبراہٹ میں پسینے سے چمک جاتا تھا، کان شرمندگی سے کبھی لال ہو رہے ہوتے، بعض دفعہ ایسی ہی کسی کوشش میں ہنسی آتی تو ضبط کرنے سے آنکھوں میں پانی تک اتر آتا لیکن وہ ہمت بہرحال کر لیتا تھا

سموسہ دو روپے کا ہوتا تھا اور ویگن والے بھی کالج پہنچانے کے لیے دو روپے ہی کرایہ لیتے تھے۔ ہم لوگ ویگن پہ چڑھ کے ’سٹوڈنٹ‘ بن جایا کرتے تھے۔ ویگن والا مانے یا نئیں، ہمیں گھر سے کالج تک فری فنڈ میں سفر کرنا ہوتا تھا

اب خدا جانے باقی ہے یا نہیں، اس زمانے میں حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ گلابی رنگ کا ایک کارڈ بچوں کا بنتا تھا جو سکول یا کالج والے بناتے تھے، اس کے بعد شہر بھر میں چلنے والی ویگنوں کے لیے اپن لوگ ’بھیکو مہاترے‘ ہوتے تھے، بحیثیت اسٹوڈنٹ مفت سفر ہمارا ’حق‘ ہوتا تھا

’ممبئی کا کنگ کون؟ بھیکو مہاترے!‘ یہ فلم ستیہ کا ڈائیلاگ تھا۔ اس زمانے میں ہر آوارہ گرد، لُچا، لفنگا، موالی اپنے کو بھیکو مہاترے سمجھتا تھا۔ بھیکو مہاترے کردار سے نکل کر ایک کیفیت میں تبدیل ہو چکا تھا

تو ویگن والے جو تھے غریب، وہ تو بے چارے ٹھیکے پہ ویگن چلاتے تھے۔ ہر پھیرے کے انہیں پیسے دینے ہوتے تھے، ہم دو سٹوڈنٹ لوگ ان کا سارا حساب کتاب راکھ کر دیتے تھے۔ ہم لوگ تو کنڈکٹر اور ڈرائیور تک کو پہلے سے تاڑ کے ویگن چڑھتے تھے۔ جو ذرا تگڑے لگتے، اپن لوگ ان کی ویگن میں بیٹھتے ہی نہیں تھے۔ کوئی غریب چرسی قسم کا مہاتڑ سا بندہ کنڈکٹر نظر آتا تو سکون سے اندر جا کے بیٹھ جاتے

اب ہوتا یہ تھا کہ بعض اوقات وہ ماڑا مُکا ہوا بندہ بھی احتجاجی نکل آتا۔ فرسٹ ایئر کے ٹانگ برابر لونڈے رعب جمائیں اور مفت میں سفر کریں، آپ کو برداشت ہو سکتا ہے؟ تو بس ایسا جب جب ہوتا تھا، میں نجف خان کو اس قول زریں کا ورد کرواتا رہتا تھا کہ عزت آنی جانی چیز ہے، بندہ ڈھیٹ ہونا چاہیے

ہم لوگوں کا تو کارڈ بھی نہیں ہوتا تھا۔ ویگن میں چڑھ کے بیٹھتے ساتھ ٹانگ پہ ٹانگ رکھی اور سامنے خلاؤں میں گھورنا شروع ہو گئے۔ اب اندر ہی اندر کنڈکٹر سڑ رہا ہوتا تھا کہ مُفتے چڑھ گئے، ہم ڈر رہے ہوتے تھے کہ اگلا زیادہ جھگڑا نہ شروع کر دے

آخری تڑی ہمارے پاس یہ ہوتی تھی کہ ’سول لائنز کالج کے سامنے سے گزرنا ہے نا آج کے دن میں؟‘ اس پہ اکثر ڈرائیور کنڈکٹر بات نہیں بڑھاتے تھے کیوں کہ سول لائنز کے لڑکے فُل اتھرے تھے۔ آئے دن ویگن والوں کی پھینٹیاں چڑھتی تھیں

بات جھگڑے کی حد تک تو نہیں بڑھتی تھی لیکن باقی کوئی پندرہ بیس سواریوں کے سامنے تھرڈ کلاس قسم کی بے عزتیوں تک ضرور پہنچتی تھی۔ سارے طعنے مہنے اسی قول کے سر پہ برداشت کیے جاتے کہ ‘عزت آنی جانی چیز ہے۔‘

گھر سے پیسے الحمدللہ ملتے تھے لیکن واللہ کہ کینٹین پہ بیٹھ کے یار دوستوں میں عیاشی کرنا اتنی اہمیت رکھتا تھا کہ بعض اوقات اپن دونوں گھر سے کالج تک کوئی پانچ کلومیٹر کے سفر میں تین ویگنیں بدلتے۔ جس سے زیادہ پھڈا ہوتا اس کو بولتے کہ بھئی تو اُتار دے اگلے سٹاپ پہ، پیسے نئیں جے دینے! پیدل بھی منزل مار لیتے تھے لیکن اس ساری کارروائی کے بیچ میں نجف خان کی شکل دیکھنے والی ہوتی تھی۔ اس کا تصورِ خودی علامہ اقبال والا تھا اور فقیر کا خالص اپنا برانڈ تھا

ایک بار تو یہ بھی ہوا کہ تھوڑے نمبر شمبر اچھے آ گئے نجف کے تو ہم دونوں ایک ریسٹورینٹ گئے

اب یاد رہے کہ دعوت اس نے دینی تھی۔ بن ٹھن کے ہم لوگ گئے، بیل اینڈ ٹیل ہوتا تھا ایک ریستوران، بیٹھے، گپیں مارتے رہے۔ ویٹر آیا، مینیو پیش کیا۔ ہم دونوں کو ایک ڈیل پسند آئی۔ منچورین، فرائیڈ رائس اور ڈھاکہ چکن کی ڈیل تھی 345 روپے میں

ویٹر سر پہ کھڑا تھا کہ آرڈر دیں تاکہ وہ اگلی ٹیبل پہ جائے۔ میں نجف کو سمجھانے لگ گیا کہ یار 25 روپے میں ایک چکن بروسٹ آتا ہے، سکون سے جا کے وہ کھاتے ہیں۔ ادھر اتنے پیسے کیوں ضائع کرتا ہے

وہ کہتا ہے ’یار پیسے میں نے دینے تھے، ٹریٹ بھی میں دے رہا تھا، تو پتہ نئیں کیوں اتنا مچھر گیا (بِدک گیا ایک دم)، آرڈر دینے والا تھا میں، تُو نے باقاعدہ ویٹر سے یہ کہا کہ تمہاری ڈیل مہنگی ہے، ہم نہیں کھائیں گے، اور مجھے لال کانوں کے ساتھ باہر لے آیا۔ لوگ بھی سن رہے تھے سارے، پھر وہی نان اور بروسٹ کھایا تھا ہم نے۔‘

کیا مجھے بے عزتی کرانے کا شوق ہے جو اس قسم کے ذاتی کھاتے کھول کے بیٹھا ہوں؟

بھائیو بات بڑی چھوٹی سی ہے۔ اندر کا درندہ بڑا ظالم ہوتا ہے، جتنا مرضی پالتے جاؤ، خوراکیں کھلاؤ، پالو، پوسو، اس نے ایک دن خود بندے کو کھا جانا ہوتا ہے۔ اسی درندے کا نام ’عزت‘ ہے، ’غیرت‘ ہے، ’انا‘ ہے، ’میں‘ ہے اور ’سیلف ریسپیکٹ‘ بھی وہی چیز ہوتی ہے

ہم لوگ اپنے آپ کو بہت زیادہ سیریس لے لیتے ہیں۔ انا کے چکر میں رشتے توڑ دیتے ہیں، نوکریاں چھوڑ دیتے ہیں، گھر توڑ دیتے ہیں، زندگی تباہ کر لیتے ہیں، پیسے گلا بیٹھتے ہیں، جب کہ تھوڑی سی ’بے عزتی‘ اگر بندہ برداشت کر لے تو الحمدللہ بڑی جگہوں پر بہت بڑی بڑی بچت ہو جاتی ہے

یہ ہمیں نہیں سکھایا جاتا۔ انسانی تاریخ ’بہادریوں‘ اور ’غیرتوں‘ سے عبارت ہے۔ ان دونوں چیزوں نے آج تک ہمیں دیا کیا ہے؟ ہر لیول پہ چھوٹی بڑی جنگیں؟ لڑائیاں؟ تباہیاں؟

’او میں تے دریا پی جاں، بُل فیر وی سکے دے سکے۔‘ (میں تو دریا بھی پورا پی جاؤں لیکن ہونٹ، وہ سوکھے کے سوکھے رہیں گے۔) یہ ایک گانے کے بول تھے۔ انسانی زندگی میں عزتوں، اناؤں، غیرتوں اور مردانہ رویوں کی کہانی بھی یہی ہے۔ پوری زندگی آپ ان رویوں کا پیٹ بھرتے ہیں اور پوری تب بھی نہیں پڑتی

کیا واقعی آپ اتنے اہم ہیں بھی؟ میرا ذاتی خیال آج تک وہی ہے۔ عزت آنی جانی چیز ہے، بندہ ڈھیٹ ہونا چاہیے!

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

budget 2019 pakistancreation of pakistanindia pakistan conflictlive news pakistanlive pakistani newsPakistanpakistan daypakistan documentarypakistan economic conditionpakistan economypakistan newspakistan top newspakistan zindabadpakistani heroespakistani newspakistani news channelpakistani news liveproud pakistanistory of pakistanthe greatness and glory of god’s wordthe revival of pakistan economical glory
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سفر آسائش ہے یا ضرورت؟

Next

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ مائنس، اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme