Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

خواب آئنے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

By Akhtar Rasool
نومبر 22, 2023 6 Min Read
0

میں، وہ اور دوسرے سب تصویر کی نا تکمیلی کا نوحہ ہیں۔

ایسا نوحہ کہ جس کا نہ کوئی عنوان ہے، نہ موضوع۔۔

پہلی سطر سے ماتم شروع ہوتا ہے اور آخری سطر، لیکن آخری سطر تو ابھی لکھی ہی نہیں گئی، اس آخری سطر کو لکھنے کے لیے میں، وہ اور دوسرے سب کبھی دن کے روشن کاغذ پر لکیریں کھینچتے ہیں اور کبھی رات کے سیاہ بدن پر نقطے بناتے ہیں۔ منظر سارے ایک دوسرے میں کہیں اتنے مدغم ہیں کہ پہچان نہیں ہو پاتی اور کہیں اتنے دور دور کہ فاصلے دھاگے کے گولوں کی طرح پھیلتے کھلتے چلے جاتے ہیں، لیکن آخری سطر نہیں لکھی جاتی۔۔

ماتم ہے کہ پہلی سطر ہی سے شروع ہو گیا ہے، امید ہے کہ ماچس کی بھیگی تیلی کی طرح ہے، کہ ہے تو سہی لیکن روشنی نہیں ہوتی۔

روشنی شناخت کی کنجی ہے۔

میں، وہ اور دوسرے سب دن کے روشن بازاروں اور رات کی کالی گلیوں میں اسے تلاش کرتے کرتے اپنے آپ کو بھی کھو بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں

’’میں کون ہوں؟‘‘

’’تم کون ہو؟‘‘

’’وہ کون ہے؟‘‘

وہ جو خوشبو کی طرح محسوس تو ہوتی ہے دکھائی نہیں دیتی۔

(لیکن خوشبو تو صرف ان کے لیے ہے جو سونگھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں)

(۲)

اُفق کی سیڑھیاں اترتے اترتے سورج کا پاؤں پھسلتا ہے اور وہ لڑکھڑا کر اس کی گود میں آن گرتا ہے۔

ویگن کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی وہ، جلدی سے اسے چادر کی بکل میں چھپا لیتی ہے۔ کَن انکھیوں سے دوسروں کو دیکھتی ہے اور چادر کے اندر ہی اندر سورج کے چمکتے چہرے پر انگلیاں پھیرنے لگتی ہے، پھر آپ ہی آپ مسکرائے چلی جاتی ہے۔

نرم نرم اندھیرا ہائی وے کو اپنی مٹھیوں میں دبوچ لیتا ہے۔

ویگن پوری رفتار سے اندھیرے کے سینے میں دور نیچے اترتی چلی جاتی ہے۔

وہ فرنٹ سیٹ پر سورج کو چادر میں چھپائے، مسکرا رہی ہے۔

اور اس کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا وہ اسے مسلسل دیکھتا چلا جا رہا ہے۔

’’میری کنجی۔۔۔ میں کتنے عرصے سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں ، اب میں اپنے آپ کو کھولنا چاہتا ہوں۔‘‘

اس کی بڑبڑاہٹ سن کر ساتھ والا اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہے۔

ہم فرض کر لیتے ہیں کہ پہلے کا نام الف اور دوسرے کا ب ہے۔

الف کہتا ہے۔۔۔ ’’میں اب اپنے آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں، مدتوں سے بند اس تالے کو کھولنا چاہتا ہوں۔‘‘

ب سر ہلاتا ہے۔۔۔ ’’اب تو شاید ان تالوں پر اتنا زنگ چڑھ گیا ہے کہ کنجی مل بھی جائے تو کون جانے یہ تالے کھل بھی سکیں گے۔۔۔ لیکن کنجی بھی کہاں ہے؟‘‘

الف مسکراتا ہے۔۔۔ ’’کنجی تو مل گئی ہے۔۔۔ لیکن یہ بے مروّتی بھی عجب شے ہے۔‘‘

ب کچھ نہ سمجھتے ہوئے سر ہلا دیتا ہے۔

روشن چہرے کبھی کبھی کتنے اندھیرے ہو جاتے ہیں؟ لیکن چادر کے نیچے سورج کو چھپا لینے سے سورج چھپ تو نہیں جاتا۔

وہ من ہی من میں مسکراتی ہے اور چادر کے اندر ہی اندر سورج کے چمکتے چہرے پر اپنی نرم نرم انگلیاں پھیرتی ہے۔

الف کہتا ہے۔۔۔ ’’کہانی سناؤں تمہیں؟‘‘

ب کہتا ہے۔۔۔ ’’سناؤ، لیکن سنو، میں درویش نہیں ، میرے پاس جواباً کوئی کہانی نہیں۔‘‘

’’تو سنو میں وہ ہوں جس نے اسے کھو دیا ہے، میں اس کے انتظار میں پتھر ہو گیا ہوں۔‘‘

’’کہیں تم نے پیچھے مڑ کر تو نہیں دیکھ لیا تھا۔‘‘

’’پیچھے مڑ کر کیا دیکھتا، میں تو دیکھ ہی نہیں رہا تھا، بس وہی تھی اور کچھ بھی نہیں تھا اور وہ کہتی تھی انتظار ہلکی آنچ پر پکتی ہنڈیا ہے جس کا اپنا ہی ذائقہ ہے۔ لیکن‘‘

’’لیکن کیا؟‘‘ ب دلچسپی سے پوچھتا ہے۔

’’کئی شامیں صبحوں میں اور کئی صبحیں شاموں میں بدل گئی ہیں لیکن تصویر مکمل نہیں ہو پائی۔‘‘

’’کون سی تصویر؟‘‘ ب حیرانی سے پوچھتا ہے۔

’’بس وہ تصویر، جس میں اس کا پورا چہرہ بنانا چاہتا تھا، میں چپکے چپکے اس کی تصویر بنا رہا تھا، معلوم نہیں اسے کیسے معلوم ہو گیا، بس اس شام وہ آئی تو چپ چاپ تھی، میں نے بہت پوچھا، کچھ تو کہو۔ پہلے تو بولی ہی نہیں پھر کہنے لگی۔۔۔ تصویر کب مکمل ہو گی؟ میں تو حیران رہ گیا۔‘‘

’’تمہیں کس نے بتایا؟‘‘

’’اس کے ہونٹوں پر اداس مسکراہٹ کی لے جاگی۔ ہم دونوں چپ ہو گئے۔ میں خاموشی سے موٹر سائیکل چلاتا رہا، دفعتاً مجھے احساس ہوا کہ وہ پیچھے نہیں ہے۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔۔۔ وہ واقعی نہیں تھی۔‘‘

ب کچھ دیر چپ رہا پھر بولا۔۔۔ ’’لیکن وہ چلتے موٹر سائیکل سے کیسے اتر سکتی ہے؟‘‘

’’یہی معمہ تو حل نہیں ہوتا۔‘‘

’’تم نے ضرور کہیں موٹر سائیکل روکی ہوگی۔‘‘

’’نہیں۔۔۔ مجھے ایک ایک لمحہ یاد ہے۔۔۔ میری گرفت میں ہے، بس وہ پیچھے بیٹھے بیٹھے غائب ہو گئی۔‘‘

فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی وہ پھر چپکے چپکے مسکراتی ہے اور چادر میں چھپائے سورج کے چہرے پر انگلیاں پھیرتی ہے۔

’’پھر کبھی نہیں ملی؟‘‘ ب افسوس سے پوچھتا ہے۔

’’میں، وہ اور دوسرے سب اسے تلاش کر رہے ہیں۔ میرا موٹر سائیکل ابھی تک اسی سڑک کے کنارے کھڑا ہے، اب تو اس پر اتنی دھول پڑگئی ہے کہ پہچانا نہیں جاتا۔ اس کا نمبر بھی اب ختم ہو چکا ہے۔ اب تو نئے نمبر آ گئے ہیں۔‘‘

’’تو تم موٹر سائیکل بھی لینے نہیں گئے۔‘‘

’’نہیں۔۔۔ میں تو اس کی تلاش میں نکلا ہوں ، اسے ساتھ لے کر ہی جاؤں گا۔‘‘

چند لمحے گہری خاموشی،

پھر الف سر اٹھا کر فرنٹ پر بیٹھی ہوئی اسے دیکھتا ہے، مسکراتا ہے اور ب سے کہتا ہے۔۔۔ ’’مدتوں بعد آخر وہ مل ہی گئی نا۔‘‘

’’کہاں۔۔۔ کب؟‘‘ ب بیتابی سے پوچھتا ہے۔

الف ایک لمحہ کے لیے چپ رہتا ہے، پھر عجب پُر اسرار نگاہوں سے ب کو دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔ ’’یہ جو فرنٹ سیٹ پر ہے نا، سورج کو گود میں چھپائے، یہ وہی ہے۔ بالکل وہی۔‘‘

ب پہلے اسے پھر فرنٹ سیٹ کو، پھر اسے دیکھتا ہے، کچھ دیر خاموش رہتا ہے، پھر کہتا ہے۔۔۔ ’’لیکن فرنٹ سیٹ پر تو کوئی نہیں۔‘‘

الف حیر ت سے ب کو دیکھتا ہے۔۔۔ ’’تمہاری نظر کمزور تو نہیں ؟‘‘

ب کو غصہ آ جاتا ہے۔۔۔ ’’میری نظر تو ٹھیک ہے تمہارے ساتھ ضرور کچھ گڑ بڑ ہے۔ فرنٹ سیٹ تو شروع ہی سے خالی ہے۔‘‘

’’کون کہتا ہے خالی ہے۔‘‘ الف زور سے کہتا ہے۔

’’میں کہتا ہوں۔‘‘ ب بھی چیخ کر جواب دیتا ہے۔

ڈرائیور اور دوسری سواریاں ان کی طرف متوجہ ہو جاتی ہیں۔

’’کیا بات ہے؟‘‘

’’کیا بات ہے؟‘‘

الف روہانسا ہو جاتا ہے۔۔۔ ’’اتنے عرصہ بعد تو وہ مجھے ملی ہے اور اب یہ کہتا ہے کہ فرنٹ سیٹ پر کوئی نہیں۔‘‘

دائیں طرف بیٹھا ہوا ایک شخص اس کی تائید کرتا ہے۔۔۔ ’’وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘

پیچھے سے ایک شخص کہتا ہے۔۔۔ ’’یہ غلط ہے فرنٹ سیٹ خالی ہے۔‘‘

الف ڈرائیور سے پوچھتا ہے۔۔۔ ’’کیوں جناب فرنٹ سیٹ خالی ہے؟‘‘

ڈرائیور سر ہلاتا ہے۔۔۔ ’’بالکل خالی ہے۔۔۔ شروع سے ہی خالی ہے۔‘‘

کنڈیکٹر فوراً ٹوکتا ہے۔۔۔ ’’یہ غلط کہہ رہا ہے۔۔۔ فرنٹ سیٹ خالی نہیں ، وہ شروع ہی سے وہاں بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘

آدھی سواریاں ایک طرف اور آدھی دوسری طرف۔۔۔ آدھے کہتے ہیں فرنٹ سیٹ خالی ہے، باقی آدھے کہتے ہیں ، فرنٹ سیٹ خالی نہیں وہ وہاں بیٹھی ہوئی ہے۔

ڈرائیور نے عین ہائی وے کے درمیان ویگن کھڑی کر دی ہے۔ سب نیچے اتر آئے ہیں اور چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تھوڑی دیر میں دونوں طرف ٹریفک رک جاتی ہے اور ان کے گرد ایک ہجوم جمع ہو جاتا ہے،

کچھ اِدھر ہو جاتے ہیں اور کچھ ادھر۔

کچھ الف کے ساتھ ہیں ، کچھ ب کے ساتھ،

اب شام تاریکی کی گھنی قبر میں دفن ہو گئی ہے۔

سارے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جاتے ہیں اور چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی دوسرے کی بات نہیں سنتا،

اور ان سب سے بے پروا، وہ فرنٹ سیٹ پر سورج کو چادر میں چھپائے مسکرائے چلی جاتی ہے۔

(۳)

میں ، وہ اور دوسرے سب تصویر کی نا تکمیلی کا نوحہ ہیں۔

ایسا نوحہ کہ جس کا نہ کوئی عنوان ہے نہ موضوع۔

پہلی سطر سے ماتم شروع ہوتا ہے اور آخری سطر۔۔۔ اس آخری سطر کے انتظار میں ، میری، اس کی اور ہم سب کی بھنویں سفید ہو گئی ہیں ، ہاتھوں میں رعشہ آ گیا ہے، قلم کی سیاہی خشک ہو گئی ہے۔

اور اب آخری سطر ذہن میں آ بھی جائے تو کیا فائدہ؟ کہ میرے، اس کے اور سب کے لفظ پڑے پڑے بانجھ ہو چکے ہیں۔

کہ بانجھ لفظوں سے کوئی جنم نہیں لیتا۔

اور اب آخری سطر لکھے بھی مدتیں بیت چکی ہیں۔

لیکن میں، وہ اور دوسرے سب ابھی تک نا تکمیلی کا نوحہ ہیں۔

ایسا نوحہ کہ جس کا نہ کوئی عنوان ہے نہ موضوع!

Tags:

#urdu romantic storiesahmad nadeem qasmi short storiesbedtime storiesbest storiesbest urdu storieshindi storiesinteresting storiesmoral storiesmoral stories for kidsmoral stories in englishmoral stories in urdushort moral storiesShort Storiesshort stories by anton chekovshort stories for kidsshort stories in englishshort urdu storiesStoriesstories in hindistories in urduUrdu Storiesurdu stories for kidsUrdu Story
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مجھے ووٹ دو!

Next

غزہ میں اسرائیل کی جانب سے تاریخ کی بدترین جارحیت اور حزب اللہ کی پراسرار خاموشی۔۔۔ معاملہ کیا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme