رخصت کی اجازت (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
پیارے تِھیو! یہ خط اگر تمہیں قدرے طویل اور اپنی یک رنگی کے باعث کچھ عجیب بھی لگے، تو بھی اسے بڑے دھیان سے پڑھنا اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔ اگر میں یہ بھی کہوں کہ یہ شاید میرا تمہارے نام آخری خط ہے، تو بھی ڈر نہ جانا کیونکہ میرا نہ…
تیسرا کنارا (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
میرے والد ذمہ دار، منظم اور ہر کام سلیقے سے کرنے کے عادی تھے۔ اس بات کی تصدیق گرد و نواح کے کئی قابلِ اعتماد اشخاص نے کی کہ وہ بچپن ہی سے ان خصوصیات کے حامل تھے۔ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، وہ نہ زیادہ ہنس مکھ تھے نہ بہت زیادہ رنجیدہ،…
مجھ سے باتیں کرو! (افسانہ)
اس واہیات گاؤں میں ویسے ہی گنتی کے چند بلب تھے، جو کوتاہ قد دیواروں سے ذرا اوپر ٹِکے، سہمے سہمے انداز میں یوں جھانکتے تھے، جیسے شریف زادیاں گلی سے گذرتے کسی وجیہہ اجنبی نوجوان کو سب سے نظریں بچا کر پردوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں۔۔ ایسے میں جونہی لائٹ گئی،…
کالی بھیڑ (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک ملک ایسا تھا، جس کا ہر باسی چور تھا۔۔۔ اس کا ہر باسی، رات میں تالا شکن اوزار اور اندھے شیشے والی لالٹین لیے گھر سے نکلتا اور اپنے کسی ہمسائے کے گھر میں نقب لگاتا۔ وہ جب پَو پھٹتے سمے، لُوٹا ہوا مال لیے اپنے گھر لوٹتا تو اسے پتہ چلتا کہ اس…
ولیمائی (چلی کے ادب سے منتخب افسانہ)
میرا نام ’ولیمائی‘ Walimai میرے والد نے رکھا تھا۔ شمال میں ہمارے بھائیوں کی زبان میں اس کا مطلب آندھی ہے۔ میں تمہیں اپنا نام پکارنے کی اجازت دیتا ہوں، کیونکہ اب تم میری بیٹی کی طرح ہو۔۔ لیکن یہ بھی اس وقت، جب ہم خاندان والوں کے ساتھ ہوں۔ اس لئے کہ اشخاص…
عکسِ بے خیال (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے کئی دنوں سے پرانا گھر میرا پیچھا کر رہا ہے، اس گھر میں میری زندگی کے بہت سے سورج طلوع اور غروب ہوئے۔ میں نے زندگی کے پہلے زینہ پر وہیں قدم رکھا تھا اور جب میں وہاں سے نکلا تو زندگی کے زینے اتر رہا تھا۔ وہاں کی ایک ایک دیوار پر میری…
لاٹری ٹکٹ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایوان دمتریچ ایک مڈل کلاس آدمی تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ کُل بارہ سو سالانہ آمدنی تھی، جس پر وہ صابر و شاکر تھا۔ شام کا ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد صوفے پر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ ”میں تو آج صبح اخبار پڑھنا بھول ہی گئی۔“ اس کی بیوی نے اسے میز…
صرف ایک چھوٹا سا پتّھر (نارویجین ادب سے منتخب افسانہ)
اتوار کی سہ پہر کو وہ دونوں اکثر سڑک کے کنارے کنارے چہل قدمی کرتے دیکھے جاتے تھے۔ وہ ابھرے گالوں اور چھوٹی ناک والی، چھوٹے قد کی فربہ جسم لڑکی تھی۔ وہ دبلا پتلا اور محنتی لڑکا تھا۔دونوں خاموشی سے ایک دوسرے پر اعتماد کے جذبہ میں سرشار چلتے جاتے، چلتے چلے…