یہ وقت محبت کا نہیں (جدید یونانی ادب سے منتخب افسانہ)
محبت کی اس کہانی نے تب کھِلنا چاہا، جب قرضے کا بحران ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ یہ ایک مشکل وقت تھا۔ تناﺅ والے اِس دور میں لٹیرے سرمایہ داروں کے محنت کشوں پر حملے جاری تھے اور یہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ سرمایہ فراہم کرنے والے عالمی سرمایہ داروں نے بھی کُھل کر…
ما پارکر کی زندگی (نیوزی لینڈ کے انگریزی ادب سے منتخب افسانہ)
ما پارکر ہر منگل اس ادبی شخصیت کے فلیٹ پر صفائی کے کام پر مامور تھی۔ حسبِ معمول جب وہ اس صبح آئی تو صاحب نے دروازہ کھولا اور اس کے پوتے کے بارے میں پوچھا۔ ماپارکر نے اندھیرے ہال میں داخل ہو کر، دروازہ بند کرنے میں صاحب کی مدد کی، ”ہم نے اسے…
ہائے عوام۔۔۔۔! (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کر سکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے۔۔۔۔ آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو…
آسمان پر ایک گھڑ سوار (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
1861ع کے موسم خزاں کی ایک سنہری دوپہر، ایک سپاہی جنوبی ورجینیا کی ایک سڑک کے کنارے پتوں کے ایک ڈھیر پر لیٹا تھا۔ وہ پیٹ کے بل اوندھا یوں لیٹا ہوا تھا کہ اس کے پاؤں انگلیوں کا سہارا لیے ہوئے تھے اور اس کا سر بائیں بازو پر رکھا تھا۔ اپنے سیدھے ہاتھ…
علیحدگی (چینی ادب سے منتخب افسانہ)
کسی کے بہت بڑے ہاتھ نے مجھے درد کے اذیت ناک جال سے کھینچ کر باہر نکالا اور فضا میں میری پہلی چیخ بلند ہوئی۔ پھر کسی نے مجھے اپنی ہتھیلی پر اٹھا لیا اور سفید بستر پر دراز عورت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”مبارک ہو! بیٹا ہوا ہے۔“ تب اس نے مجھے ایک…
جُھرّیاں (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
شہر کے کاروباری علاقے کے قلب میں واقع یہ گھر ایک اونچا یک منزلہ مکان تھا، جس کو یہ فوائد حاصل تھے کہ ایک طرف تو جب مطلع صاف ہوتا شمال میں واقع پہاڑ کا تھوڑا بہت نظارہ کیا جا سکتا تھا اور دوسری طرف جنوب سے اُمسائی ہوا کے وہ جھونکے آ جاتے تھے،…
شجاع (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
میرا دل خوف سے دھڑک رہا تھا، اندھی گولیوں کا تصور ہی میرا خون خشک کئے دے رہا تھا، بم پھٹنے کے خیال ہی سے میرے جسم میں لرزہ تھا، ایک لمحے کو میں نے معرکے سے فرار ہونے کا سوچا، لیکن اگلے ہی لمحے مجھے اپنے ساتھیوں کا خیال آیا کہ وہ میرے بارے…
اسکرپٹ (افسانہ)
کھیل انتہائی جذباتی دور میں داخل ہو گیا تھا۔ تماشائی دَم سادھے اپنی اپنی نشستوں پر جمے ہوئے تھے کہ اچانک ایک اداکار اپنی جگہ سے ہٹ کر درمیان میں آ گیا اور ہیجانی کیفیت میں لرزتی آواز میں چیخا: ”میں اپنی مرضی سے کھیل چلاؤں گا اور اپنی پسند کے مکالمے بولوں…