Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

اسکرپٹ (افسانہ)

By Akhtar Rasool
مئی 29, 2023 3 Min Read
0

کھیل انتہائی جذباتی دور میں داخل ہو گیا تھا۔ تماشائی دَم سادھے اپنی اپنی نشستوں پر جمے ہوئے تھے کہ اچانک ایک اداکار اپنی جگہ سے ہٹ کر درمیان میں آ گیا اور ہیجانی کیفیت میں لرزتی آواز میں چیخا:
”میں اپنی مرضی سے کھیل چلاؤں گا اور اپنی پسند کے مکالمے بولوں گا۔“

اسٹیج کے دائیں کونے میں پردے کے پیچھے بیٹھا ڈائریکٹر کھڑا ہوگیا۔۔۔ ”یہ کیا کر رہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے!“

لیکن اسی لمحے تماشائیوں نے، جو اسے بھی کھیل کا حصہ سمجھ رہے تھے، مسلسل تالیاں بجا کر اداکار کو خراجِ تحسین پیش کیا

ڈائریکٹر اپنی نشست پر بیٹھ گیا اور اپنے نائب سے کہنے لگا: ”اسکرپٹ میں تو یہ نہیں مگر تماشائیوں نے اسے پسند کیا ہے، اس لیے اسے اسکرپٹ میں شامل کر لو۔“

اسٹیج پر ایک اور بات ہوئی۔ ایک اداکار اپنی جگہ سے اٹھ کر سامنے آیا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کہنے لگا: ”اگر یہ اپنی مرضی کے مکالمے بولے گا تو میں اس کھیل سے علیحدہ ہوتا ہوں۔“

پھر وہ اسٹیج سے اترا اور درمیانی راستے پر دوڑتا ہوا ہال سے نکل گیا۔ تماشائی اسے بھی کھیل کا حصہ سمجھے۔ یہ مکالمہ اور عمل انھیں کچھ زیادہ ہی پسند آئے۔ دیر تک تالیاں بجتی رہیں

ڈائریکٹر جو پھر اپنی نشست سے اٹھ بیٹھا تھا، بیٹھ گیا اور اپنے نائب سے کہنے لگا: ”اسے بھی اسکرپٹ میں شامل کرلو۔“

اب اسٹیج پوری طرح ڈائریکٹر کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ اداکار اپنے اپنے مکالمے بول رہے تھے۔ تماشائیوں کو کچھ سمجھ نہ آرہا تھا کہ کھیل کی کیا صورت بن رہی ہے۔ تماشائیوں میں دفعتاً ایک شخص اٹھا اور اسٹیج پر چڑھ گیا۔ اس نے اسٹیج پر موجود اداکاروں کو، جو اپنے مکالمے بھول کر یا جان بوجھ کر دوسری باتیں کر رہے تھے، ہاتھ کے اشارے سے ایک طرف ہٹا دیا۔ اداکار اسٹیج کے ایک کونے میں سمٹ گئے۔ اسے بھی کھیل کا حصہ سمجھا گیا۔ تالیاں بجیں۔ تالیوں کے شور میں نئے شخص نے اعلان کیا: ”کھیل وہیں سے شروع ہوتا ہے، جہاں سے گڑبڑ ہوئی تھی۔“

اسٹیج کے پیچھے ڈائریکٹر نے ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا، نائب نے پوچھا: ”سر اسے بھی اسکرپٹ میں شامل کر لوں؟“

اسٹیج پر اب یہ بحث شروع ہوگئی کہ گڑ بڑ کہاں سے ہوئی تھی، نو وارد نے جسے اب اداکار تسلیم کرلیا گیا تھا، پوچھا: ”سب سے پہلے کس نے اسکرپٹ سے بے وفائی کی۔“

متعدد آوازیں، متعدد اشارے۔۔
بحث شروع ہو گئی۔ تماشائی تالیاں بجاتے رہے، ایک اداکار جھنجلا کر بولا: ”یہ کیسے تماشائی ہیں، جنہیں پتا ہی نہیں چل رہا کہ کھیل اسکرپٹ سے باہر ہو گیا ہے۔“

اسٹیج پر اب باقاعدہ جھگڑے کی صورت پیدا ہو گئی تھی۔ آدھے اِدھر کہ کھیل اسکرپٹ کے اندر ہے اور آدھے اُدھر کہ کھیل اسکرپٹ سے نکل گیا ہے۔۔

ایک ادھیڑ عمر کا اداکار بولا: ”جو بھی ہے، کھیل تو ہو رہا ہے اور تماشائی اسے پسند بھی کر رہے ہیں۔“

ایک نوجوان اداکار نے غصے سے سر ہلایا، ”مسئلہ کھیل کے ہونے یا نہ ہونے کا نہیں، اسکرپٹ کا ہے۔۔۔ اسکرپٹ ہے کہاں۔“

”ڈائریکٹر کے پاس“ ایک دوسری اداکارہ بولی

ڈائریکٹر جو ماتھے پر ہاتھ رکھے اپنے آپ میں گم تھا، بار بار اپنا نام سن کر چونکا۔

”اسکرپٹ لاؤ۔۔۔ اسکرپٹ لاؤ۔“ چھوٹے بڑے سب اداکار چیخ رہے تھے۔

”اسکرپٹ کیا لاؤں“ ڈائرکٹر کا نائب بولا، ”اس میں اتنی تبدیلیاں ہوچکی ہیں کہ۔۔۔ “

تماشائیوں نے اس پر بھی خوب تالیاں بجائیں۔

”جب ان کو اسکرپٹ کی اہمیت ہی نہیں معلوم“ ایک اداکار نے دوسرے سے کہا، ”تو اسکرپٹ کے بغیر ہی چلو۔“

”لیکن کب تک“ دوسرے نے تشویش سے پوچھا

”جب تک چلے“ پہلے نے جواب دیا۔

کھیل شروع ہو گیا ہے۔ تماشائی ہر تبدیلی پر تالیاں بجاتے، خوش ہو رہے ہیں۔ کھیل چلانے والے مطمئن ہو کر کھیل چلا رہے ہیں۔ ڈائریکٹر اپنی جگہ سے اٹھ کر تماشائیوں میں آ بیٹھا ہے۔ کھیل چل رہا ہے۔۔۔ جب تک چلے۔

رشید امجد کے افسانوں کے مجموعے ’گملے میں اگا ہوا شہر‘ سے ماخوذ

Tags:

#emotional stories#urdu romantic stories#urdu sexy storiesahmad nadeem qasmi short storiesbedtime storiesbest urdu storieshindi storiesmoral storiesmoral stories in urdumotivational storiesshort urdu storiesStoriesstories in hindistories in urdustories in urdu newurdu fairy tales storiesurdu moral storiesUrdu Short StoriesUrdu StoriesUrdu Story
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پی ٹی آئی سے میرا اعلانِ لاتعلقی

Next

مائکروسافٹ کے آئی اے اسسٹنٹ کے مقابلے میں گوگل کا اے آئی سرچ جنریٹو متعارف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme